Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مودی کے منہ پر کشمیری تھپڑ

(گزشتہ سے پیوستہ)
کچھ اور لوگ جو کل جماعتی حریت کانفرنس کیساتھ بھی خود کو نتھی کیے ہوئے ہیں ان کے بیٹے اور بھائی بھی ان بھارتی انتخابات میں بنفس نفیس شریک تھے اور پھر طرح طرح کی تاویلیں پیش کررہے ہیں۔ان افراد کو اب تطہیری عمل سے گزارنا ناگزیر ہے ورنہ یہ ناسور بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔پوری آزادی پسند قیادت بشمول خواتین اور ہزاروں کشمیری نوجوان بھارتی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے آزادی پسند قائدین شبیر احمد شاہ،محمد یاسین ملک،مسرت عالم بٹ اور نعیم احمد خان کی جانب سے ریاستی اسمبلی انتخابات سے اعلان برات کے بیانات متواتر جاری ہوتے رہے اور ساتھ ہی ساتھ اہل کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے جدوجہد آزادی میں دی جانے والی قربانیوں کیساتھ وفا نبھانے کی تلقین بھی کی جاتی رہی۔خود میر واعظ عمرفاروق جو 05 اگست 2019 میں غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات سے ایک روز پہلے ہی اپنی رہائش گاہ پر خانہ نظر بند کیے گئے تھے،طویل عرصے تک مقید رکھے گئے ،نے حال ہی میں جامع مسجد سرینگر میں نما ز جمعہ کے ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہونے والے انتخابات کو مسئلہ کشمیر کے حل سے جوڑنا کسی طور جائز اور درست نہیں ہے کیونکہ انتخابات کشمیری عوام کے جذبات اور امنگوں کی نمائندگی نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں وکشمیر کی مقامی سیاسی جماعتوں نے نام نہاد انتخابات کے موقع پر اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ نہیں کیا اور اجتماعی مفاد پر ذاتی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے متوقع چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ان کیلئے آسان نہیں ہو گا،کیونکہ جموں وکشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے میں ایسے قوانین لائے جا رہے ہیں جن سے یہاں کے عوام کی مذہبی آزادی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
تنظیم نو ایکٹ کے نفاذ کے بعد مقبوضہ علاقے کے عوام خود کو بے بس محسوس کررہے ہیں ، انکے اختیارات کو سلب کیا گیا ہے۔ زمینوں ، نوکریوں، املاک اور انکے وسائل کو چھینا جارہا ہے جس سے خوف ودہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اورلوگ بات کرنے سے بھی ڈر محسوس کررہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے ، میر واعظ نے کہا کہ گو کہ کل جماعتی کانفرنس کا تنظیمی ڈھانچہ بکھر چکا ہے مگر وہ آج بھی کشمیری عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہے اور ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے اور یہ ہماری کمزور ی نہیں بلکہ ہمارا ایک اٹل اور واضح موقف ہے۔بلاشبہ میرواعظ نے ان لوگوں کو آئینہ دکھایا ہے جو تحریک آزادی کیساتھ وابستہ ہوکر بھی بھارتی جمہوریت کا راگ آلاپ رہے ہیں اور ان کے منہ سے رال ٹپک رہی ہے۔
یہ بات کسی شک وشبہ سے بالاتر اور ڈنکے کی چوٹ پر کہی جاسکتی ہے کہ بی جے پی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے نہ صرف ریاست کے حصے بخرے کیے بلکہ اپنے اسی ماورائے آئین اقدامات کی بنیاد پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انتخابات ہر حال میں جیتنا چاہتی تھی تاکہ ایک ہندو وزیر اعلی مقبوضہ جموں و کشمیر پر مسلط اور پھر ریاستی اسمبلی سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے حق میں قراداد منظور کرانے کا منصوبہ رکھتی تھی ،جس سے پھر عالمی برادری کے سامنے کیش کراتی مگر بی جے پی کے اس منصوبے پر اوس گرگئی ہے۔لہذا جن بھارت نواز جماعتوں کو اب مینڈیٹ ملا ہے ،انہیں چاہیے کہ وہ ریاستی اسمبلی سے آرٹیکل 370 اور 35اے کی بحالی کے حق میں قرارداد منظور کرکے اپنے ان وعدوں کا ایفا کریں،جو وہ گزشتہ پانچ برسوں سے اہل کشمیر سے کرتی آئی ہیں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں نافذ کالے اور بدنام زمانہ قوانین آرمڈ فورسز سیپشل پاورز ایکٹAFSPA،پبلک سیفٹی ایکٹPSAاور UAPA ختم اور ان سفاکانہ قوانین کے تحت بھارتی جیلوں میں برسہابرس سے قید آزادی پسند قیادت،خواتین اور کشمیری نوجوانوں کو رہا کریں ۔جس کا وہ انتخابی جلسوں میں ذکر کرتے رہتے تھے۔اہل کشمیر کا ہر فرد اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ انتخابات مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہیں یہ صرف روز مرہ معمولات کا نظم و نسق چلانے یا دوسر الفاظ میں زندگی کا پہیہ جاری رکھنے کیلئے ہیں ،جس کا ذکر اقوام متحدہ بھی واشگاف الفاظ میں کرچکی ہے۔مودی اور اس کے حواری یہ جان لیں کہ مسئلہ کشمیر انتخابات کا نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے ،جس کا وعدہ بھارت پوری دنیا کو گواہ ٹھرا کر اہل کشمیر کیساتھ کرچکا ہے ۔اس سے انحراف کشمیری عوام کو نہ گزشتہ کل میں منظور تھا،نہ آج ہے اور نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں