غزہ اور لبنان پر اسرائیل کی بہیمانہ جنگی کارروائی اب ایک نئے موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔اسرائیل پر ٹارگیٹڈ ایرانی میزائل حملے کے بعد صورت حال میں مزید تپش اور تبدیلی آئی ہے۔گمان کیا جا رہا ہے کہ ایرانی حملے کے جواب میں اسرائیل بھی کارروائی کے لیئے پرتول رہا ہے۔وہ کسی مناسب وقت کے انتظار میں ہے۔ایران تیل کی بہت بڑی منڈی ہے۔تیل کے بہت بڑے ذخائر اور کنویں اس کے پاس ہیں۔اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو ایران میں وہ تیل کے بڑے ذخائر اور کنوئوں کو نشانہ بنائے گا۔فوجی اہداف سے زیادہ تیل کے ذخائر اور کنویں اسرائیل کا ہدف ہوں گے۔اسرائیل قدرتی وسائل بھی رکھتا ہے۔ قدرتی گیس کے بہت بڑے ذخائر اسرائیل کے پاس موجود ہیں۔ اسرائیل نے یورپین قوانین کے برعکس بڑی ڈھٹائی اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر مشرقی یروشلم اور سطح مرتفح گولان پر قبضہ کر رکھا ہے۔ تاہم بین الاقوامی برادری اس علاقے کو اسرائیل کا حصہ تسلیم نہیں کرتی۔جنوبی اسرائیل کا اکثر علاقہ صحرائی ہے۔ جو 16000مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ رقبہ ملک کے نصف سے زائد ہے۔ اسرائیل، یہودی جمہوریہ کہلاتا ہے۔ یہ دنیا میں واحد اکثریتی یہودی ملک ہے۔ 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا۔ 14مئی 1948 کو ڈیوڈبن گوریان نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا اس اعلان کے ٹھیک ایک روز بعد یعنی 15مئی کو ہمسایہ ممالک نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ بعد کے برسوں میں بھی کئی بار اسرائیل کے ہمسایہ ممالک اس پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔اسرائیل کا معاشی مرکز تل ابیب ہےجبکہ صدرمقام یروشلم سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے تاہم بین الاقوامی طور پر یروشلم کو اسرائیل کا حصہ نہیں مانا جاتا۔ نسلی اعتبار سے اسرائیل میں کئی گروہ ہیں جواشکنازی یہودی، مزاربی یہودی، فلسطینی، سفاردی یہودی، یمنی یہودی، ایتھوپیائی یہودی، بحرینی یہودی، بدو اوردرزر یہودی کہلاتے ہیں۔ دیگر بھی کئی اور نسلوں کے یہودی یہاں موجود ہیں۔اسرائیل میں نمائندہ جمہوریت ہے۔ پارلیمانی نظام چلتا ہے۔ ووٹ کا حق سب کو حاصل ہے۔وزیراعظم ملک کا سربراہ ہوتا ہے۔ اسرائیل میں یک ایوانی پارلیمان ہے۔ اسرائیل کو ہم ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کر سکتے ہیں۔ یہ دنیا کی 43 ویں بڑی معیشت ہے۔ مشرق وسطیٰ میں معیار زندگی کے اعتبار سے اسرائیل سب سے آگے ہے جبکہ ایشیاء میں اس کا تیسرا نمبر ہے۔ دنیا میں زیادہ سے زیادہ اوسط عمر کے حوالے سے اسرائیل دنیا کے چند بہترین گنے چنے ممالک میں شامل ہے۔ اسرائیل کی پارلیمان 20 ارکان پر مشتمل ہے۔اسرائیل کو کبھی بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ حماس اتنی شدت کے ساتھ اس کا مقابلہ اور جوابی کارروائی کرے گا۔
حماس جس طرح کی کارروائیاں کر رہا ہے اس سے اسرائیل میں خاصی دہشت پائی جاتی ہے۔ حماس اسرائیل کے لیے خوف اور دہشت کی علامت بن گیا ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے اس لڑائی کو روکنے کی بات کی ہے۔ ایک قرارداد کے ذریعے اسے پابند بنایا ہے کہ غزہ اور لبنان پر حملوں اور ہر قسم کی کارروائی کو روک دے لیکن اسرائیل نے سنی ان سنی کر دی ہے۔ حملوں کو نہ روک کر اقوام متحدہ کی قرارداد کی صریحا نفی کر رہا ہےجس سے خطے میں جنگ کے بادل منڈلائے ہوئے ہیں۔ جنگ کے اثرات اگر خطے سے باہر چلےجاتے ہیں اور ایران بھی اس کی لپیٹ میں آتا ہے تو تیسری عالمگیر جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے اور اس کا امکان بھی ظاہر کیاجارہا ہے۔ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے کے بعد اب اسرائیل بھی ایران پر حملے کی تیاریوں میں ہے۔ امریکہ مکمل طور پر اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے جس سے اسرائیل کے حوصلے بلند ہیں۔ امریکہ نے خود اسرائیل والی زبان استعمال کی ہے کہ ایرانی میزائل حملے کا ایران کو جواب دینا پڑے گا اور اس سے پورا حساب لیا جائے گا۔ان حالات اور اس کے تناظر میں ایک بڑی جنگ ہوتی نظر آ رہی ہے جس کے امکانات اسرائیل اور امریکہ کے رویے سے مزیدبڑھ گئےہیں۔ ایران نےکہا ہے اس نے حملہ کر کے اسرائیلی جارحیت کا جواب دیاہے۔ اسرائیل نے مزید کوئی حرکت کی تو اس کے بہت ہی سنگین نتائج ہوں گے۔ ایرانی فورسز کو ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔سلامتی کونسل میں حالیہ دنوں میں لبنان اور اسرائیل کی صورت حال پر اہم اجلاس ہوا جس میں دنیا بھر کے مختلف ممالک کے سربراہان نے بھی شرکت کی۔ بحث کا موضوع اسرائیل، لبنان صورت حال تھی۔ پاکستان سے اعلی سطح کے ایک وفد نے بھی وزیراعظم میاں شہباز شریف کی قیادت میں اجلاس میں شرکت کی۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو بھی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے۔طویل بحث ہوئی۔ سربراہان نے غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی ہر طرح کی بہیمانہ کارروائی کو روکنے کی بات کی۔ وزیراعظم پاکستان نے بھی کھل کر اسرائیل کے مذموم اقدامات کی مذمت کی۔ جس کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کو خطاب کی دعوت دی گئی، جیسے ہی ڈائس سے نیتن یاہو کا نام پکارا گیا میاں شہباز شریف وفد کے ہمراہ احتجاجاً اجلاس سے واک آئوٹ کر گئے۔ میاں صاحب کے بعدمزید سربراہان نےبھی اجلاس سےواک آئوٹ کیاجسےدنیا بھر کے الیکٹرانک میڈیا نے اپنی سکرین پر دکھایا۔دیکھنے کی بات ہے سلامتی کونسل کی متفقہ قرارداد کے باوجود اسرائیل اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ غزہ اور لبنان پر حملوں اور جنگ بندی کی لیے تیار نہیں۔
فلسطین اور لبنان کے پاس باقاعدہ فوج نہیں۔ حماس اور حزب اللہ کے نام سے دو مقامی مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل جیسے طاقتور ملک کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اسرائیل کے مذموم جارحانہ عزائم کو خاک میں ملانے کی جستجو کر رہی ہیں جبکہ اسرائیل لبنان اور غزہ میں نہتے شہریوں پر ہرروز بمباری کرتا ہے۔ شہری آبادیوں کو حملوں کا نشانہ بناتا ہے۔ اسرائیل کی بمباری سے اب تک ہزاروں بے گناہ شہری موت کی آغوش میں جاچکے ہیں۔ ایک بڑی تعداد زخمیوں کی بھی وہاں موجود ہے۔ ہسپتالوں کا اسٹرکچر تباہ ہونے سے زخمیوں کو علاج معالجےکی سہولت میسرنہیں۔ غزہ اور لبنان اس وقت کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ وہاں رسد پہنچانے کا کوئی بندوبست نہیں جس کے باعث زندہ بچ جانے والوں کے لیئے خوراک کی بھی بہت کمی ہے۔ دس ہزار سے زیادہ افراد اب بھی عمارتوں کے ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ انہیں نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں۔اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرار داد کو ہوا میں اڑا کر دنیا کے اس سب سے بڑے ادارے اقوام متحدہ کو بے وقعت کر دیا ہے۔ لگتا ہے سلامتی کونسل میں کوئی دم نہیں۔ دنیا کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ ایسی سلامتی کونسل کا کیا فائدہ جو سلامتی اور فلاح کے لیےہو لیکن سلامتی اور فلاح قائم نہ کر سکے۔