Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

بغل میں چھری منہ میں رام رام

بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ایک مشہور محاورہ ہے۔ اس کا مطلب سمجھنا ہو تو بھارت کی خارجہ پالیسی دیکھ لیجیے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجتماع میں بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کا خطاب سن کر اپ سمجھ جائیں گے کہ دوغلا پن کسے کہتے ہیں۔ ایس سی او پلیٹ فارم بنیادی طور پر علاقائی تعاون اور اشتراک عمل کے نظریے پر کاربند ہے۔ دو طرفہ تنازعات کبھی بھی اس پلیٹ فارم پر زیر غور نہیں لائے جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ جے شنکر کھل کر پاکستان اور چین کے متعلق خامہ فرسائی تو نہ کر سکے البتہ پاکستان اور چین کے خلاف روایتی مخاصمت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہوں نے بالواسطہ انداز میں منفی خیالات کا بھرپور اظہار کیا۔ ایس سی او پلیٹ فارم پر جے شنکر وہ واحد وزیرخارجہ تھے جنہوں نے اپنی تقریر میں تنظیم کے بنیادی اغراض و مقاصد کے برخلاف بھارت کی منفی ریاستی پالیسی کا ڈھنڈورا پیٹا۔ 10سال کے طویل عرصے میں کسی بھارتی وزیر کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ صاف ظاہر ہےکہ موصوف بہ امر مجبوری اسلام آباد آئے تھے۔ ان کا مقصد دو طرفہ معاملات پہ تبادلہ خیال نہیں بلکہ ایس سی او جیسے اہم پلیٹ فارم پہ بھارت کی نمائندگی کرنا تھا۔ عدم شرکت سے بھارت کی علاقائی سطح پہ تنہائی کا تاثر پیدا ہونا فطری امر تھا۔ جے شنکر نے شرکت تو کر لی تاہم ایساخطاب کیا کہ عملی طور پر ایس سی او کے تمام ممبر ممالک ایک جانب اور اکیلا بھارت دوسری جانب کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کانفرنس کے اگلے روز تمام اخبارات نے نمایاں طور پر یہ خبر شائع کی کے تمام ممبر ممالک نے چین کے بی آر ائی منصوبے کی بھرپورحمایت کی البتہ کانفرنس میں جے شنکر وہ واحدشخصیت تھے جنہوں نےعلاقائی سالمیت کی اہمیت پہ زور دیتے ہوئے بالواسطہ طور پر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پہ اعتراضات داغے۔ اس موقع پر بھارت کی بے بسی دیدنی تھی۔
سی پیک منصوبے پہ تلملاہٹ کے باوجود موصوف براہ راست اعتراض نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عین ان کےخطاب کے موقع پر بی جے پی کے زرخرید بھارتی تجزیہ کار سوشل میڈیا پر یہ ڈھول پیٹتے رہے کہ جے شنکر نے ایس سی او اجلاس میں سی پیک منصوبے کے حوالے سے پاکستان اور چین کے خلاف سخت پیغام دیا۔ بھارت کے بے بنیاد اعتراض سے قطع نظر یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ بی آرآئی اور سی پیک جیسے علاقائی تعاون و ترقی کے منصوبوں کےحوالےسےبھارت کا موقف دیگر ممبر ممالک سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تاثر مزید پختہ ہوا کہ ایس سی او کے پلیٹ فارم پر بھارت مغربی بلاک خصوصا اپنے سٹریٹیجک اتحادی امریکہ کے مفادات کی نگہبانی کررہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں چین کا مرکزی کردار فطری طور پر مغربی دنیا کے لیے باعث تشویش ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے امریکہ کی زیر قیادت مغربی قوتوں نے سر توڑ کوششیں کی ہیں۔ اس معاملے میں بھارت کی حیثیت جنوبی ایشیا میں مغربی قوتوں کی جانب سے تعینات کیے گئے تھانیدار کی سی ہے۔ جے شنکر کا ذو معنی بھاشن اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت دراصل علاقائی روابط استوار کرنے کے بجائے مغربی قوتوں کے اشارے پر خطے میں انتشار پھیلانے کی پالیسی پہ کاربند ہے۔ چین کے ساتھ ساتھ پاکستان دشمنی کا بھوت بھی ہمیشہ مودی سرکار کے سر پر سوار رہتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں سارک جیسی اہم تنظیم بھارت کی ہٹ دھرمی اور پاکستان دشمنی کی وجہ سے غیر فعال ہے۔ اس تناظر میں جےشنکر کی تقریر میں علاقائی تعاون کے حوالے محض زبانی جمع خرچ کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے حسب روایت اپنی تقریر میں دہشتگردی کا رونا بھی رویا۔ خطے میں سلامتی کے حوالے سے انہوں نے دہشت گردی، شدت پسندی اور علیحدگی پسندی کے رجحانات کی سرکوبی کرنے پر بہت زور دیا۔ کمال یہ ہے کہ خود بھارت ان منفی رجحانات کے حوالے سے سیاہ کردار کا حامل رہا ہے۔
جےشنکر کے خطاب سے دو روز قبل کینیڈا نے بھارت کے سفیر سمیت پانچ اہلکاروں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک بدر کر دیا۔ گزشتہ سال سکھ لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ریاستی اہلکاروں کے ملوث ہونے کے انکشاف نے ایک بھونچال پیدا کر دیا تھا۔ اسی طرح کہ ایک اور واردات امریکی ایف بی ائی نے ناکام بنائی۔ امریکہ میں مقیم سکھ لیڈر گرپتونت سنگھ کو کرائے کے قاتل سے ہلاک کروانے کی سازش میں ملوث بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا گرفتار ہو چکا ہے جبکہ ہندوستان میں مقیم را کے اہلکار کے متعلق امریکہ نے متعدد بار اپنے تحفظات مودی سرکار کے سامنے رکھے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کئی مواقع پر بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے متعلق ناقابل تردید ثبوت عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے بل پر کشمیریوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب کی سکھ برادری مظالم سے تنگ آ کر بیرون ملک پناہ لے چکی ہے۔ مسلمانوں سمیت کسی اقلیت کی جان و مال آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں سے محفوظ نہیں۔ بدترین دہشت گردی، مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز کی علمبردار ریاست کا وزیر خارجہ جب علاقائی ممالک کو امن، سلامتی اور تعاون پر بھاشن دے تو زبان سے بے اختیار نکل جاتا ہے کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔

یہ بھی پڑھیں