(گزشتہ سے پیوستہ)
اس سے قبل ستمبر 2023 میں کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی پارلیمنٹ میں ایک بیان میں بھارت پر براہِ راست الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے معتبر شواہد موجود ہیں۔ بعد ازاں پتہ چلا تھا کہ نجر کے قتل کے معاملے کی خفیہ معلومات امریکہ اور برطانیہ نے کینیڈا کو فراہم کی تھیں۔کینیڈا نے بھارت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس قتل میں ملوث مبینہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے، اس سلسلے میں کینیڈا نے بھارت کے ایک سفارتکار کو اوٹاوا سے بھارت واپس بھیج دیا تھا۔بھارت نے آج ہی کی طرح اس وقت بھی ناصرف ان الزامات کو مسترد کیا تھا بلکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے درجنوں کینیڈین سفارتکاروں کو بھارت سے چلے جانے کیلئے کہا تھا۔یہی نہیں بھارت نے کینیڈا کے شہریوں کو ویزا دینا بند کر دیا تھا ۔بھارت نے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرکے جسٹن ٹروڈو کی سیاسی جماعت پر الزام لگایا تھا کہ وہ ووٹ حاصل کرنے کیلئے خالصتان تحریک اور بھارت مخالف عناصر کی پشت پناہی کر رہی ہے۔تاہم جب بھارت پر اسی نوعیت کا الزام امریکہ نے گرو پتونت سنگھ پنون کے قتل کے سلسلے میں لگایا تو بھارت کا رویہ انتہائی نرم اور کمزور پڑگیا ہے۔کیونکہ بھارتی حکمران اور ان کے خفیہ ادارے جانتے ہیں کہ امریکہ کینیڈا نہیں ہے ۔دوسرا بھارتی دہشت گرد نکھل گپتا کی گرفتاری اور امریکہ میں اس کی قید بھارت کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے،نہ وہ اس سے نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔لہذا بھارتی حکمرانوں نے امریکہ کے سامنے یس سر کہنے میں ہی عافیت سمجھی۔ بھارتی حکمران جانتے تھے کہ گرو پتونت سنگھ پنون کو قتل کرانے کی سازش سے انکار ان کی پوری دنیا میں رسوائی کا باعث بن سکتی تھی ۔سو انہوں نے خاموشی اختیار کی اور امریکہ اور اس کے ادراوں سے آئندہ ایسی گھناونی اور دہشت گردانہ کاروائی سے اجتناب کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔جون 2023 میں خالصتان تحریک کے ایک اور سکھ رہنما اوتار سنگھ کھنڈا کی برطانوی شہر برمنگھم میں پراسرار موت ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے،جس کی برطانیہ میں مقیم سکھ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اوتار سنگھ کھنڈا نے گزشتہ برس کے آغاز میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن میں احتجاج کی قیادت کی تھی جس میں خالصتان کے حامیوں نے بھارتی ہائی کمیشن سے بھارتی پرچم اتار کر خالصتان کا پرچم لہرایا تھا۔برطانوی اخباردی گارڈین کے مطابق خالصتان رہنما اوتار سنگھ کھنڈا کی پراسرارموت سے چند دن قبل بھارت میں ان کی بہن اور والدہ کو اغوا کیا گیا۔ اوتار سنگھ کھنڈا کو فون پر دھمکیاں دی گئیں۔اوتار سنگھ کھنڈا نے قتل سے دو ماہ قبل وڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ بھارت میں ان کے خاندان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ جس کے بعد وہ برطانیہ میں پراسرار طورپر مارے گئے۔ اب جبکہ کینیڈا نے بھارتی سفیر کو ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں تحقیقات کی زد میں لانے کا اعلان کیا تو بھارت پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا۔یہ اعلان نہ صرف پوری دنیا میں بھارت کی رسوائی کا باعث ہے بلکہ بھارت کو ایک ایسے موقع پر سبکی ہوئی ہے، جب خود بھارتی حکمران اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص پاکستان میں عام شہریوں خاصکر مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے برسر پیکار کشمیری عوام کی تحریک آزادی کیساتھ وابستگی اور ہمدردی رکھنے والے افراد کے قتل کا اعتراف کرچکے ہیں،یہ ایسا فرد جرم ہے ،جو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے انہیں پھانسی کے پھندے تک پہنچانے کیلئے کافی ہیں۔
آزادی پسند کشمیری رہنمائوں امتیاز عالم،محمد ریاض اور خالد رضا ،جنہیں بالترتیب 20فروری 2023، 08 ستمبر2023 اور 26 فروری 2023 میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے رواں برس بھارتی پارلیمانی انتخابات کے موقع پرایک انتخابی ریلی میں اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ان بزدالانہ اور مذموم کاروائیوں کا مقصد اہل کشمیر اور ان کے ہمدردوں کو خوف ودہشت میں مبتلا کرکے تحریک آزادی کشمیر سے دستبردار کرانا تھا۔جس میں بھارتی حکمرانوں کو ناکامی و رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔07مئی 2023 میں ہی پاکستانی شہر لاہور کے محلہ نواب ٹاون میں موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو قتل کر دیا۔جس کی شناخت پرم جیت سنگھ پنجوار کے نام سے ہوئی ہے۔اس قتل کا مقصد پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا اور سکھ برادری کو پاکستان سے متنفر کرنا تھا۔مگر پاکستان کے تحقیقاتی اداروں نے نہ صرف بروقت بھارتی سازش کو طشت از با م کیا بلکہ اس قتل میں بھارت کے ہاتھ ملوث ہونے کے ثبوت بھی فراہم کیے۔جس کے بعد پرم جیت سنگھ پنجوار کے قتل کو کینیڈا،امریکہ،برطانیہ اور دوسرے ممالک میں بھارت کے ہاتھوں سکھوں کے قتل کیساتھ جوڑا گیا۔دہشت گرد کلھبوشن سنگھ یادوجو کہ بھارتی نیوی کا حاضر سروس آفیسر تھا، کو 3 مارچ 2016 میں پاکستان کے حساس ادارے صوبہ بلوچستان کے ماشکیل علاقے سے گرفتار کرچکے تھے۔خود اعتراف کرچکا ہے کہ وہ پاکستان میں بم دھماکے کرانے میں ملوث ہے۔بھارتی حکمران اور ان کے مکروہ ادارے کس کس جرم سے انکار کرتے رہیں گے۔دنیا بدل چکی ہے۔میڈیا کی چکا چوند کی موجودگی میں جرائم سے انکار ممکن نہیں ہے۔ریاستی سرپرستی میں انجام دی جانے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف ناگزیر اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے او ر بھارت اس کیلئے موزوں کیس ہے ۔اس سلسلے میں عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اپنی ذمہ داریوں سے کب عہدہ برا ہوگی،اس کا انتظار ہے،مزید دیر بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں مزید انسانی جانوں کی زیاں کی صورت میں نکلے گا۔جس کی ذمہ دار عالمی برادری اور اقوام متحدہ ہوگی،کیونکہ بھارتی جرائم پر خاموشی بذات خود ایک جرم ہے،جو پھر مزید جرائم کو جنم دینے کا باعث ہے۔(جاری ہے)