(گزشتہ سے پیوستہ)
الغرض حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کا لفظ اپنے بعد کسی بھی حوالے سے ہو، اس کو قبول اور برداشت نہیں کیا۔ خود اللہ تعالیٰ نے بھی برداشت نہیں کیا۔ اور جس کسی نے نبی ہونے کی بات کی تو وہ امت کے لیے بھی کسی دور میں قابل قبول نہیں رہا۔
(۲) قادیانیوں کا دوسرا مغالطہ پاکستان کے حوالے سے ہے۔ قادیانی دوسرا مغالطہ یہ دیتے ہیں کہ پاکستان میں ہمارے حقوق ہمیں نہیں دیے جا رہے، ہمارے مذہبی اور شہری حقوق پامال ہو رہے ہیں اور ہم انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ یہ اتنا بڑا پروپیگنڈا ہے کہ دنیا کے بہت سے ادارے اس سے متاثر کے ہو کر لٹھ لیے ہمارے پیچھے پھرتے ہیں کہ تم یہ کیا کر رہے ہو؟ میں یہ مغالطہ بھی دور کرنا چاہتا ہوں۔
میرا قادیانیوں سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا تم پاکستان کے دستور کو مانتے ہو جسے پوری قوم مانتی ہے؟ قوم کا ہر طبقہ دستور کو مانتا ہے اور اسی کے مطابق ملک چل رہا ہے۔ اگر تم بھی پاکستان کے دستور کو مانتے ہو تو اس کے دائرے میں تمہارے جو حقوق ہیں ہم نے پہلے ان سے کبھی انکار نہیں کیا، آج بھی انکار نہیں ہے، اور کبھی انکار نہیں کریں گے ۔ دستور میں دیگر اقلیتوں کا، عیسائیوں، ہندوؤں اور سکھوں کا جو سٹیٹس طے ہے، ہم نے کبھی انکار کیا۔ ہمیں اگر ہندوؤں کو حقوق دینے سے انکار نہیں ہے، سکھوں اور عیسائیوں کو حقوق دینے سے انکار نہیں ہے، تو تمہیں کیوں انکار کریں گے؟
سوال یہ ہے کہ دستور نے اپنے دائرہ کار میں تمہارے جو حقوق طے کیے ہیں، وہ ہم دینے سے انکار کر رہے ہیں؟ یا تم لینے سے انکار کر رہے ہو؟ یہ بات واضح ہونی چاہیے۔ ہم نے تو قادیانیوں کو ۱۹۷۴ء کے فیصلے کے بعد ان کی آبادی کے اعتبار سے دستور کے مطابق قومی اسمبلی کی سیٹ بھی دی تھی اور پنجاب اسمبلی میں سیٹ بھی دی تھی۔ بشیر طاہر صاحب ایم این اے رہے ہیں اور ایک قادیانی پنجاب اسمبلی کا ممبر بھی رہا ہے۔ دستور کے مطابق ان کا جو حق بنتا تھا وہ ہم نے دیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ حقوق کا تعین دستور کے دائرے میں ہوگا اور آبادی کے حساب سے ہو گا۔ اس کو لینے سے انکار قادیانیوں نے کیا ہوا ہے۔ ۱۹۷۴ء کے بعد سے آج تک قادیانیوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے، ووٹر لسٹوں میں نام لکھوانے سے اور مردم شکاری میں خود کو غیر مسلم تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔ خود قادیانیوں دستور کے دیے ہوئے اسٹیٹس کو اور اس کے دیے ہوئے حقوق نہیں مانتے تو انکار ان طرف سے ہے، ہماری طرف سے نہیں ہے۔
ایک آدمی ملک میں آ کر رہتا ہے اور کہتا ہے کہ میں دستور کو تو نہیں مانتا لیکن مجھے حقوق دو۔ تو اسے کہا جائے گا کون سے حقوق؟ پہلے دستور کو تسلیم کرو اور دستور نے جو تمہاری جگہ رکھی ہے اس جگہ کو تسلیم کرو۔ یہ قیامت تک نہیں ہوگا کہ تم نہ پارلیمنٹ کا فیصلہ مانو، نہ دستور کا فیصلہ مانو، نہ امت کا فیصلہ مانو، نہ علماء کا فیصلہ مانو، اور نہ عدالت کا فیصلہ مانو، سارے فیصلے ٹھکراتے چلے جاؤ اور پھر جا کر شور مچاؤ کہ ہمیں حقوق نہیں مل رہے۔ جب تم کسی کی بات نہیں مان رہے تو حقوق کون سے دیں؟
ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ہم غیر مسلم اقلیت کا سٹیٹس قبول نہیں کرتے، ہمیں اکثریت والے حقوق چاہئیں۔ جھگڑا حقوق کا نہیں ہے، جھگڑا ٹائٹل کا ہے۔ بہرحال یہ قادیانیوں کا بہت بڑا فراڈ اور بہت بڑا مغالطہ ہے کہ پاکستان میں ہمارے حقوق غصب ہو رہے ہیں اور اسی مغالطے پر وہ دنیا میں اپنی دکان چمکا رہے ہیں۔ البتہ ہماری کمزوری یہ ہے کہ جہاں جہاں وہ کام کر رہے ہیں، ہم وہاں کام نہیں کر پا رہے۔
میں نے قادیانیوں کے دو بڑے مغالطے ذکر کیے ہیں: ایک مغالطہ مذہبی حوالے سے کہ مرزا غلام احمد قادیانی امتی نبی ہے، میں نے کہا کہ امتی نبی حضور نبی کریمؐ کے زمانے میں بھی تھا، اسے حضورؐ نے قبول نہیں کیا تھا۔ اور دوسرا مغالطہ حقوق کے حوالے سے دیتے ہیں، تو ہمیں حقوق دینے سے انکار نہیں ہے۔ دستور کو تسلیم کرو، پارلیمنٹ کے فیصلے کو تسلیم کرو، اس کے بعد جو تمہارے حقوق ہیں کسی ایک حق سے انکار کریں تو ہم مجرم ہیں۔ حقوق دینے سے ہم نے انکار نہیں کیا ہوا بلکہ تم نے لینے سے انکار کیا ہوا ہے۔ تمہاری ضد ہے کہ فیصلہ نہیں مان رہے اور چاہتے ہو کہ تمہیں وہ حقوق دیے جائیں جو اس ملک کی مسلم اکثریت کے ہیں، یہ نہیں ہو سکتا۔