Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

امریکی صدارتی انتخابات میں عرب امریکی ووٹرز کا کردار

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عرب نژاد امریکی اگلے ماہ امریکی صدارتی انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔ غزہ کی جنگ پر ان کے غصے اور مایوسی نے اس حلقےکو ایک نئے انداز میں متحد کر دیا ہے۔ اگرچہ بہت سے عرب امریکی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بڑی امیدوار اور نائب صدر کملا ہیرس کے مقابلے میں اسرائیل کے زیادہ حامی ہیں تاہم بہت سے لوگ بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیےحمایت کے خلاف اپنے ووٹ کا استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ عرب، امریکی آبادی کا 1 فیصد سے بھی کم ہیں اوراس متنوع گروہ میں مسلمان ،عیسائی اور عرب ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندان شامل ہیں اور ان کا دائرہ متعدد ریاستوں تک وسیع ہے۔ تاریخی طورپر یہ عرب، امریکہ کی ایک چھوٹی کمیونٹی ہے اورایک ممکنہ ووٹنگ بلاک کےطور پر اس کی اہمیت بھی محدود ہے تاہم کئی عوامل نےامریکی انتخابات میں ان ووٹروں کی اہمیت کو بڑھادیا ہے۔ صدارتی انتخابات کا انحصار چند ریاستوں کے نتائج پر ہوگااور عرب امریکی ان ریاستوں میں خاصی تعداد میںموجود ہیں، خاص طور پر مشی گن میں۔( اس طرح کی صورتحال سے چھوٹے گروہوں کا اثر ورسوخ بڑھ جاتا ہے)۔ عرب امریکیوں نے ووٹ کے ذریعے گزشتہ دو صدارتی انتخابات میں اپنی اہمیت کا واضح اظہار کیا ہے۔ غزہ کی جنگ نے عرب امریکیوں کو ایک مسئلے (نقطے) پر متحد کر دیا ہے۔عرب نیوز/YouGov کے نئےسروے کے مطابق عرب امریکی معیشت اور معیار زندگی کے مسائل پرٹرمپ کے حق میں نظر آتے ہیں، 47 فیصد جواب دہندگان نےکہا کہ ٹرمپ معیشت کے لیے بہتر ہیں، جب کہ 41 فیصد کا جواب ہیریس کےحق میں تھا۔29فیصد نے کہاکہ اسرائیل-فلسطینی تنازعہ ان کی اولین ترجیح ہےجو کہ رائے شماری میں کسی دوسرے مخصوص زمرے سے کہیں زیادہ ہے۔ غزہ میں شہریوں کے مصائب پر غصہ عرب امریکیوں کے درمیان متحد کرنے والی ایک قوت بن گیا ہے۔
سروے اس بارے میں دلچسپ اعدادوشمار فراہم کرتا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے مسلسل حمایت کی مخالفت انتخابات میں کیسے ہو سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عرب امریکی ووٹ ڈالنے کےلیے یکسو ہیں، 87 فیصدکا یہی کہنا ہےکہ وہ رائے دہندگی کا ارادہ رکھتے ہیں۔69 فیصد کی ایک مضبوط اکثریت ٹرمپ کو ایسے امیدوار کے طور پر دیکھتی ہے جو اسرائیل کی حکومت کے سب سے زیادہ حمایتی ہیں جبکہ 60 فیصد ہیرس کے لیے، لیکن وہ ٹرمپ کو اسرائیل-فلسطین تنازعہ کامیابی سے حل کرنے” کے سب سے زیادہ امکان کے طور پردیکھتے ہیں (ہیرس کے 33 فیصد کے مقابلے میں 39 فیصد)۔ جواب دہندگان یکساں طور پر تقسیم تھے کہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے لیے بہتر ہوں گے یا ہیرس۔اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے رائے شماری میں غلطی کا مارجن 93.5فیصدرکھا گیا ہے، نتائج بتاتے ہیں کہ عرب امریکی اس بارے میں منقسم ہیں کہ کون سا امیدوار فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں ان کے خدشات کو بہتر طور پرحل کرسکتا ہے،جس کا ٹرمپ کو تھوڑا فائدہ ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عرب امریکی اپنی کمیونٹی کی ضروریات اور حفاظت کے لحاظ سے ہیرس کو ایک رہنما کے طور پر ترجیح دیتے ہیں، جیسا کہ 46 فیصد نے کہا کہ ٹرمپ کے دور میں ان کی کمیونٹی کے خلاف “نسل پرستی/نفرت پر مبنی حملوں” کا امکان زیادہ ہے، اس کے مقابلے میں صرف 23 فیصد لوگ ہیریس کو دھمکی سمجھتے ہیں۔ مزید براں 39 فیصد نے کہا کہ ہیرس عرب امریکیوں کی “قومی ضروریات اور مسائل کےحوالے سے زیادہ حساس” ہیں، جبکہ ٹرمپ کے لیے 31 فیصد نے کہا۔اس کے باوجود سروےکے مطابق 45 فیصد عرب امریکیوں کا کہنا ہےکہ وہ ٹرمپ کو ووٹ دیں گے، جب کہ 43 فیصدکا ارادہ ہیریس کو ووٹ دینے کا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 10 فیصدکا کہنا ہے کہ وہ تیسرے فریق کے امیدوار کو ووٹ دیں گے یا ووٹ کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ٹرمپ کی عرب مخالف جذبات کو ہوا دینے کی صلاحیت اور انتہائی اسرائیل نواز پالیسیوں کے بارے میں خدشات کو دیکھتے ہوئے (جن پرٹرمپ نے بطورصدر عمل کیا) بہت سے مبصرین کو یہ حیران کن معلوم ہو سکتا ہے کہ عرب امریکی اس بارے میں منقسم ہیں کہ کس کو ووٹ دینا ہے جب کہ عرب امریکیوں کی اکثریت ٹرمپ کو ناپسندکرنے کے باوجود، مشرق وسطیٰ کےسب سے بڑے بحران کے دوران صدرجو بائیڈن کی فلسطینیوں کے لیےخارجہ پالیسی، غزہ کی مکمل تباہی،40000 سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکت، مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد اور اب لبنان میں جنگ کے دوران بائیڈن کی جانب سے اسرائیل کو بھاری مقدار میں امداد اور ہتھیار فراہمی کے جاری سلسلے کو بھی دیکھتے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ کی غزہ میں شہریوں کے لیےکوششیں ان عرب امریکیوں کو کھوکھلی لگتی ہیں جن کے اکثر خاندانی اور سماجی روابط ان لوگوں سےہیں جو براہ راست تنازعہ کا شکار ہیں۔
ہیرس نے غزہ میں شہریوں کے لیے اپنی تشویش کے بارے میں ٹرمپ سے زیادہ مضبوط بیانات دیئے ہیں تاہم وہ موجودہ انتظامیہ میں نائب صدر ہیں۔ جب تک وہ واضح طور پربائیڈن پالیسی پر تبدیلی کا وعدہ نہیں کرتیں، عرب امریکی انہیں مسئلے کا حصہ سمجھتے رہیں گے۔ اگر مزید دو ٹوک الفاظ میں کہا جائے تو وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ڈیموکریٹس ٹیکس دہندگان کی رقم اسرائیل کو عرب شہریوں کو مارنے میں مدد کے لیے استعمال نہیں کر سکتے اوروہ ان سے پولنگ بوتھ میں رضامندی کی توقع کیسے رکھتے ہیں۔ چند سال پہلے تک یہ پیشین گوئی کرنا ناممکن تھا کہ اسرائیل فلسطین مسئلہ یا عرب امریکی ووٹرز امریکی صدارتی انتخابات کا تعین کرسکتے ہیں لیکن اسرائیل-فلسطینی تنازعہ میں شدت کا وقت اور تاریخی طور پر سخت صدارتی دوڑ، یہ آج کی حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں