Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو

کشمیر ایسی بدقسمت جاگیر ہے جو بارشوں سے زیادہ خون سے سیراب ہوتی ہے۔خون کی پیاسی زمین نے بے گناہ اور نہتے کشمیریوں کا اتنا خون پیا ہے کہ اس کو لفظوں میں پرونا یا سمونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو گیا ہے۔دکھ اور ظلم و ستم کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جن کو سوچ کر بھی رونگٹے کھڑے اور جسم لرز جاتا ہے۔نوجوان کشمیریوں کو ان کی ماں، بہنوں کے سامنے سنگینیوں میں پرو دیا جاتا ہے۔نوجوان بھائیوں اور بوڑھے والدین کے سامنے معصوم بچیوں کی عصمت دری ہوتی رہی لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں، سلامتی کے ضامنوں اور دنیا کے منصفوں کی زبانوں پرتالے لگے رہے۔مکار ہندوستانیوں نے اس قوم پر مظالم کے پہاڑ توڑ دئیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان نے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کے لئے پاکستان کی شہہ رگ کشمیر کو آہنی ہاتھوں اور تباہ کن بارود سے دبانا اور کاٹنا شروع کر دیا۔ہمارے دریائوں کے پانیوں پر بند باندھنے شروع کر دئیے۔پاکستان کو بنجر بنانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا۔دور اندیش لوگ کہتے ہیں کہ اب ہماری اگلی جنگیں پانی پر ہونگی۔ہر پاکستانی بھارت کے ساتھ امن کا خواہاں ہے لیکن بھارت پر غاصبانہ قبضہ ختم ہونے کے بعد اس معاملے پر بات ہو سکتی ہے۔ابھی تک کشمیر میں شہید ہونے والے ہر کشمیری کے خون کی ایک ایک بوند پاکستان کو پکار رہی ہے۔آپ تو ہمارے بھائی ہیں۔آپ سے تو ہمارے خون اور دل و جان کے رشتے ہیں۔کیا آپ کو ہماری بربادیوں کا دکھ نہیں۔ان ظالموں نے ہماری خون کی ندیاں بہانے کے بعد آپ کی شہہ رگ پر دبائو ڈالنے کے لئے آپ کے دریائوں پر بھی بند باندھ دئیے ہیں۔اب تو ہم اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سلامتی کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن اس میں ایک واضح حقیقت موجود ہے کہ جب بھی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوتا ہے۔ جس میں ہر دور کے پاکستانی حکمران شرکت کرتے رہے۔تاریخ گواہ ہے کہ ان تمام اجلاسوں میں ہمارا ایک ہی ایجنڈہ کشمیر کی آزادی رہا۔ہمیں کشمیریوں کے دکھ کا ازالہ کرنے اور کشمیرکو ہندستان سے آزاد کرانے کے لئے ہندوستان پر عالمی دبائو بڑھانا ہوگا۔
دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کے مردہ ضمیر کو لوہے کی گرم سلاخوں کے کچوکے لگا کر جگانا پڑے گا۔یہ بات تو اب کھل کر سامنے آگئی کہ ہندوستان کا مکار ہندو پیار کی زبان نہیں سمجھتا۔کشمیر کی آزادی کے لئے سارے حربے استعمال کرنے ہونگے۔ہندوستان کشمیرکے اندر ظلم و ستم کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے لئے ہندوستان سے چوتھی جنگ بھی ہو سکتی ہے اور یہ جنگ اب دو ایٹمی قوتوں کے درمیان ہونگی جس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔ بھارت کی جیلوں میں آزادی کی تحریک میں شریک ہونے میں کمسن بچے اور بچیاں بھی شامل ہیں۔کمسن قیدیوں کے ساتھ بھی انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے مطابق عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جا رہے۔ان کم سن بچوں اور بچیوں کو آزادی کی تحریک میں شامل ہونے پر گرفتار کیا گیا۔کم سن قیدیوں کی بھارت کی جیلوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بذاتِ خود ایک بہت بڑا سوال ہے۔ظلم کی انتہا یہاں تک ہے کہ ان بچوں اور بچیوں کو مردانہ جیل میں بالغ لوگوں کے ساتھ قید کیا ہوا ہے جن میں عادی مجرم، قاتل اور ڈکیت ہندواور سکھ بھی قید ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں اس وقت سات لاکھ سے زیادہ قابض افواج کے سپاہی اور افسر موجود ہیں۔جو ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ اور معصوم شہریوں کو شہید کر چکے ہیں۔اس کے علاوہ 11000سے زیادہ کشمیری شہری لاپتہ ہیں۔وہ کہاں اور کس حال میں ہیں؟ زندہ بھی ہیں یا ہندوستان کی جیلوں میں تشدد اور ماورائے عدالت قتل یا جعلی پولیس مقابلوں کی نذر ہوچکے ہیں؟بہرحال لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب اپنے پیاروں کی تلاش میں مقبوضہ کشمیر کی جیلوں اور حراستی تفتیشی مراکز کی خاک چھان چھانتے پھر رہے ہیں۔گزشتہ چھ سالوں کے دوران مقبوضہ کشمیر کے مختلف مقامات پر 5000کے قریب اجتماعی اور بے نام قبروں کی دریافت نے بھی انسانی حقوق کے معاملے میں بھارت کے چمکتے اور ظالم چہرےسے پردہ اٹھایا۔جس کا ظاہر بااخلاق اور باطن نہایت بھیانک، خوفناک اور تاریک ہے۔ہندوستان کی قابض افواج کے ہاتھوں 10,000سے زیادہ کشمیری نوجوان طالبات سمیت خواتین کی آبرو ریزی کی سنگین وارداتیں کی گئیں جسے ہندوستان کے مکار حکمرانوں نے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔اس پر بھی دنیا کے منصف اور سلامتی کے ضامن کے علاوہ عالمی برادری انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین کی آزادی اور حقوق کی بحالی کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے والے ملک ہندوستان کو لگام دینے کے لئے مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔
ہندوستان کے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو جس ظالمانہ انداز میں برقرار کھنے کی جو ظلم کرنے کی داستانیں رقم کی ہیں اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامن ادارے اقوام ِمتحدہ کی جنرل اسمبلی میں منظور کئے گئے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے مطابق تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں۔(یہاں میں اس بات کی وضاحت بھی کرتا چلوں کہ سب سے پہلے اس کائنات میں یہ منشور محبوب خدا اور رحمت اللعالمین حضرت محمد ﷺ نے اپنے آخری خطبے حج الوداع میں دیا تھا) عزت و احترام اور حقوق کے اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں۔بلا امتیاز نسل، قوم، مذہب اور سیاسی نظریات زندگی، آزادی اور سلامتی پر ان کا پیدائشی اور انسانی حق ہے۔کسی انسان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا اور کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔نہ ہی کسی بھی انسان کو بلاوجہ گرفتار کیا جا سکتا ہےلیکن کشمیریوں کی زندگی اور عزت و احترام بھارتی قابض افواج کی مر ضی و منشا پر منحصر ہے کہ کشمیری نوجوان کو نہ صرف بلاوجہ گرفتار کیا جا سکتا ہے بلکہ عرصہ دراز تک عقوبت خانوں اورحراستی مراکز میں رکھ کر ان پر انسانیت سوز ظلم اور بدترین تشدد بھی کیا جاتا ہے۔کشمیریوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نسل کشی اور کشمیری مذا حمتی تحریک کو طاقت کے بیہمانہ استعمال سے کچلنا انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں میں سے رہی ہےجس کی طرف فی الفور توجہ دینا اور اس تصفیہ طلب مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا عالمی برادری انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے۔
یہاں اس امر کی طرف بھی اشارہ کرنا اشد ضروری ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ گزشتہ 7دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر بھی موجود ہےجس کے حل کے راستے میں بھارت کی بدنیتی اور ہٹ دھرمی ہمیشہ حائل رہی۔آج کشمیریوں کے بہنے والے خون کا ہر قطرہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے اے دنیا کے منصفوں، سلامتی کے ضامنوں، کشمیر کی جلتی وادی میں بہتے ہوئے خون کا شور سنو لیکن اقوامِ متحدہ اندھی اور بہری بھینس ہے جس پر کسی چیز کا اثر نہیں ہوتا اور بھینس کے آگے بین بجانے والی بات ہے۔انہوں نے آنکھیں اور کان بند کررکھے ہیں۔ نہتے کشمیری سنگینیوں میں پروئےجا رہے ہیں۔ گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ان کی ماں، بہنوں اور بیٹیوں کی ان کے سامنے عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں۔انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ہندوستانی فوج جنگلی درندوں کی طرح بے گناہ اور معصوم کشمیروں کا گوشت نوچ رہے ہیں۔اس موقع پر دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کی مجرمانہ خاموشی ان درندوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔دنیا کی سب سے بڑی اور جھوٹی جمہوریت کے دعوے دار ملک ہندوستانی فوج کا یہ وحشیانہ تشدد اور ظلم اس حکومت کے دعوے کی نفی کرتا ہے۔
جمہوریت کا مطلب دھونس دھاندلی، زور، زبردستی سے کسی کے حقوق غضب کرنا یا کسی کی آواز دبانا نہیں۔کشمیر میں ہندوستانی فوج کی اتنی بڑی تعداد بہت سے سوالات اٹھاتی ہے اور دنیا کی توجہ کا مرکز بھی ہے۔جو غیر منصفانہ کالے قوانین کے تحت لوگوں کو حراست میں رکھ کر تشدد کرتے ہیں۔عصمتیں لوٹتے ہیں۔ہم اکثر بھارت کے اس ظلم و جبر کو کالے قوانین کا نام دیتے ہیں لیکن ان کے قوانین کو اگر کالے کی بجائے ہم سرخ قوانین کا نام دیں تو زیادہ بہتر ہوگاکیونکہ وہ قوانین بے گناہ کشمیریوں کے لئے کشمیریوں کے ہی خون سے لکھےجاتے ہیں۔27 اکتوبر1947 کو بھارتی فوج کشمیر پر قابض ہوئی تھی۔اس سے اور پیچھے جائیں تو اس سے بھی تقریبا 100سال پہلے 16مارچ 1846 کو گلاب سنگھ اور برطانوی حکومت کے درمیان ایک سودا طے ہوا تھا۔جس میں 75لاکھ روپے کے بدلے میں وادی ء کشمیر گلاب سنگھ کو بیچ دی گئی تھی۔تقسیمِ ہند کے بعد27 اکتوبر 1947 کو ہندوستان نے اپنی افواج کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ائیرپورٹ پر اتار دیا تھا۔ آنا فانا اس نے ساری وادی پر قبضہ کر لیااور یہاں سے اس خونی تنازعہ کی شروعات ہوئی تھی جس کے تناظر میں ہم تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔اسی تنازعہ کے شر سے نبٹنے کے لئے ہم ایٹمی دوڑ میں بھی شامل ہوئے۔یہ ہتھیاروں کی دوڑ اب دونوں ملکوں کے درمیان (اگر اقوامِ متحدہ کی یہی دوغلی اور منافقانہ پالیسی رہی تو)ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔یہ آگ تقسیمِ ہند کے فورا بعد بھڑکا دی گئی تھی۔جب معصوم کشمیریوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنی شناخت چاہی(جسے بعد میں بھارت کے رہنما نہرونے بھی تسلیم کیا) ان پر ظلم و ستم کے پہاڑڈھا دئیے گئے۔
کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بنیادی طور پر اس دن سے شروع ہو گئی تھی جب کشمیر کو انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کردیاتھا۔1931 میں جب کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی سال 13جولائی کو21کشمیریوں کو سرینگر جیل میں گولیاں مار دی گئی تھیں۔وہ دن آج بھی یو م ِ شہدا کے طور پر منایا جاتا ہے۔بھارت کی افغانستان جنگ میں شمولیت اور پھر بلوچستان کے اندرونی حالات میں کھلم کھلا مداخلت سے حالات مزید بھیانک ہوتے جا رہے ہیں۔ہندوستان کے آخری وائس رائے لارڈ مائونٹ بیٹن اور ہندو حکمرانوں کی سوچی سمجھے سازش کے تحت فوج استعمال کر کے زبردستی کشمیر کا الحاق بہت بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔حیران کن بات یہ ہے کہ جو معاہدہ سکھوں اور انگریزوں میں طے پایا تھا وہ دن کی روشنی میں کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔بھارتی فوج کا 27اکتوبر 1947 کو کشمیر پر اترناکبھی نہ ختم ہونے والی جنگ کا سبب بنا۔جس کی وجہ سے گزشتہ 77سالوں سے کشمیری گولیوں اور سنگینیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔تب سے یہ دن یومِ سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔جموں و کشمیر کے لوگ اپنی بدقسمتی اور مظلومیت کا ماتم کرتے ہوئے یومِ سیاہ کا دن مناتے ہیں لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کے منصفوں اور سلامتی کے ضامنوں کے ضمیروں کو زہر بجھی سلاخوں سے کچوکے لگانے کے لئے امتِ مسلمہ بیک زبان ہو کرآواز بلند کرے۔ دنیا کی ظالم ترین فوج کے تسلط سے کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرایا جائے۔اقوامِ متحدہ کو بھی اپنی آنکھوں سے چربی اتار کر وسیع القلبی اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا چاہیےتاکہ کشمیر کی جلتی وادی میں معصوموں کا خون بہنا روکا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں