Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

ملک وملت پہ چھائی مایوسی کا علاج

گزشتہ روز حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی سے ایک محفل میں سوال کیا گیا کہ ملک و ملت پہ چھائی مایوسی کے یہ سائے کیسے دور ہوں گے؟جواب میں شیخ الاسلام نے جو گفتگو فرمائی،وہ افادہ عام کے لئے نذر قارئین ہے،آپ نے کہا کہ سب سے پہلے اس بات کا احساس پیدا ہونا انتہائی ضروری ہے کہ ہمیں ان حالات سے نکلنے کی ضرورت ہے، بصورت دیگرایسا کچھ بھی ممکن نہیں،جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے (ترجمہ : یقین جانو کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے) دوسرایہ کہ تعلیم کا مقصد فنون اور مہارتوں کا حصول سمجھ لیا گیا ہے،نتیجہ یہ ہوتا ہے جو جتنا تعلیم یافتہ ہوتا ہے وہ اتنا بڑا بکائو مال ہوتا ہے،جو اس کو اچھے پیسے دے وہ اس کو اپنے ہاں کام پر رکھ لے،اس سلسلے میں ملک و ملت کے فائدے کو بالکل سامنے نہیں رکھا جاتا۔اسی وجہ سے ٹیلنٹ کا بڑا حصہ ملک سے باہر جانے کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ گزارا تو یہاں رہ کر بھی ہو سکتا ہے اور یہ دنیا مومن کے لیے گزارہ کرنے کی جگہ ہے.تیسرا یہ کہ ہر شخص خود اپنی خبر لے اور دیکھے کہ کیا وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہا ہے۔ مثلاً اگر کوئی صنعت کار ہے تو وہ دیکھے کہ اس کی صنعت کاری سے ملک و ملت کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہو رہا ہے؟ اسی طرح ملازم دیکھے کہ کیا وہ اپنے اگریمنٹ کے مطابق پورے وقت خوش اسلوبی اور خوش اخلاقی سے کام کر رہا ہے یا نہیں اور نظر آنے والی کمزوریوں کو ٹھیک کرے جیسا کہ قرآن حکیم میں ہے ترجمہ : اے ایمان والو! تم اپنی فکر کرو اگر تم صحیح راستے پر ہوگے تو جو لوگ گمراہ ہیں وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔(72) اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، اس وقت وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا عمل کرتے رہے ہو۔ (المائدہ)
اسی طرح حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا جب تم دیکھو کہ لوگ جذبہ بخل کی اطاعت کر رہے ہیں اور خواہشات نفسانی کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، دنیا کو ہر معاملے میں ترجیح دی جارہی ہے اورہر شخص اپنی رائے پر گھمنڈ میں مبتلا ہے تو ایسے میں خاص طور پر اپنی اصلاح کی فکر کرو، اور عام لوگوں کے معاملے کو چھوڑ دو(سنن ترمذ تاب التفسیر، حدیث: 3984، سنن ابی دائود، 3778 سنن ابن ماجہ 4004)
مفتی تقی عثمانی نے فرمایا کہ مذکورہ بالا خطوط پر چل کر ہی ان اندھیروں کو روشنی میں بدلا جا سکتا ہے ،اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم ان اندھیروں کو روشنی میں بدلنے کے لئے تیار بھی ہیں یا پھر صرف شکوے، شکایتوں میں ہی اپنی زندگیاں گزار دیں گے؟ دکھ کی بات یہ ہے کہ ملک و ملت پر چھائی ہوئی ان مایوسیوں کا سب سے زیادہ تعلق ملک کے طاقتور طبقات سے منسلک ہے، یہاں حکمران ہوں، اسٹیبلشمنٹ ہو، سیاست دان ہوں، دانشور ہوں، عدلیہ ہو یا میڈیا کے پردھان، ان سب نے ملک و ملت کی مایوسیوں میں اضافہ ہی کیا، حکومت کی حزب اختلاف سے لڑائیاں، اسٹیبلشمنٹ اور حکومتوں میں کھینچاتانی، غیروں کی دلالی کرتے ہوئے دانشور، نظرئیہ پاکستان اور پاکستان کی اکثریتی مسلمان آبادی کے اسلامی نظریات کے خلاف اپنے ’’قلم‘‘ کو ’’استرا‘‘ بنانے والے ’’کالم نگاروں‘‘ نے ملک و ملت میں ’’مایوسیاں‘‘ پھیلانے کے علاوہ بھی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہو تو سامنے لایا جائے؟ سوشلزم ہو، سیکولر ازم ہو، لبرل ازم ہو یا کیپٹل ازم، قادیانی ہوں یا ملحدین پاکستان میں مایوسیوں کو گہرا کرنے میں ان کا کردار بھی نمایاں رہا، پاکستان کی معیشت کو ڈبونے میں عوام کا نہیں بلکہ ’’خواص‘‘ کا کردار رہا، جس سے مایوسیوں میں مزید اضافہ ہوا، یہاں آئی ایم ایف سے قرضے تو لئے گئے مگر حکومتی وزیروں، مشیروں اور بیورو کریٹس کی عیاشیوں اور اللے، تللوں میں ذرا بھی کمی نہ آئی جس کی وجہ سے عوام مزید مایوس ہوتے چلے گئے، کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ حکومتیں ایک طرف تو ملک میں بچیوں کی تعلیم کے لئے کمپیئن چلاتی چلی آرہی ہیں، لیکن دوسری طرف پچھلی حکومتیں ہوں یا موجودہ حکومت، کالجز اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طالبات کی عزت و ناموس کے تحفظ میں مکمل ناکام نظر آرہی ہے تو کیوں؟ آج اگر پاکستان کے غیرت مند عوام اپنی بیٹیوں کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم دلوانے سے کترانا شروع ہوچکے ہیں وہ یونیورسٹیز اور کالجز کے بعض درندہ صفت پروفیسروں کی آوارہ مزاجی کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کے تعلیمی مستقبل سے مایوس نظر آرہے ہیں تو اس میں بھی حکومت کی نااہلی اور حددرجہ کمزوری کا ہاتھ ہے، ٹھیک فرمایا شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے کہ جو جتنا بڑا تعلیم یافتہ ہوتا ہے وہ اتنا ہی بڑا’’بکائو مال‘‘ ہوتا ہے، جو اس کو اچھی تنخواہ دے وہ اس کو اپنا ملازم رکھ لے، مفتی تقی عثمانی کا یہ جملہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔
آج ملک و ملت جن مایوسیوں کا شکار ہے، کیا اس کی ذمہ داری فرفر انگلش بولنے والی بہت پڑھی لکھی آکسفورڈ مارکہ ’’لاٹ‘‘ پر عائد نہیں ہوتی جب ’’تعلیم‘‘ تربیت اور اصلاح سے خالی ہوگی تو وہ بڑھے لکھے ’’لٹیروں‘‘ کی تیاری کا سبب بنے گی، چنانچہ آج انسان جب بیرون دنیا کی یونیورسٹیوں سے ڈگریاں لے کر پاکستان آنے والوں کی مالی حرص کا عروج دیکھتا ہے تو سر پکڑ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بیرونی یونیورسٹیوں کے یہ ڈگری ہولڈرز ’’روٹی‘‘ کھاتے ہیں یا پھر ’’نوٹ‘‘ مجھے لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ پاکستان میں رائج لارڈمیکالے کے نظام تعلیم کی وجہ سے ملک و ملت کی مایوسیوں میں اضافہ ہی ہوا، تعلیم برائے تعلیم کی بجائے، تعلیم برائے تربیت اور تعلیم برائے اصلاح ہونی چاہیے، انگلش یونیورسٹیوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ جب بیورو کریٹس بنتے ہیں یا حکومتوں میں شامل ہوتے ہیں تو پھر زیادہ سے زیادہ نوٹ کمانا ہی ان کی زندگیوں کا بنیادی اور اعلیٰ ترین مقصد بن جاتا ہے، تعلیمی نصاب اگر آسمانی علوم کے تابع ہو تو وہ اپنے طالب علم کو ’’انسانیت‘‘ کے اعلیٰ مدارج سے متعارف کرواتا ہے۔
تعلیمی نصاب اگر قرآن و سنت کے تابع ہو تو وہ اپنے طلباء و طالبات کو شعوری طور پر انسانیت کا پرچارک بنا دیتا ہے۔ یاد رکھئیے! انسانیت کی اصل معراج آقاء مولیٰﷺ کی غلامی سے منسلک ہے، حضورﷺ کی سچی غلامی ہی انسان کو انسانیت کی معراج سے متعارف کرواتی ہے، حضور اکرمﷺ کی سچی محبت ہی انسانوں کے اندر خوف خدا پیدا کرتی ہے، دراصل ’’خوف خدا‘‘ ہی وہ اصل طاقت ہے کہ جو انسانوں کو مالی و اخلاقی کرپشن، چور بازاری، لوٹ مار، ذخیرہ اندوزی اور عوام الناس کا خون چوسنے سے روک سکتی ہے اور ’’خوف خدا‘‘ آکسفورڈ یا لارڈ میکالے کا نظام تعلیم نہیں بلکہ قرآن و سنت کے تابع نظام تعلیم ہی اجاگر کر سکتا ہے، ہمارے حکمران، سیاست دان، اسٹیبلشمنٹ، دانشور اور عوام اگر اس راز کو سمجھ لیں گے تو ملک و ملت سے مایوسیوں کے سائے چھٹ جائیں گے۔ (وماتوفیقی الاباللہ)

یہ بھی پڑھیں