مقبوضہ جموں و کشمیر کو دو کالونیاں بنا کر انہیں بھارت میں ضم کرنے کے بعد قابض بھارتی استعمار کی سنگین جبری پابندیوں، لاک ڈائون اور بدترین مظالم کے دوران آج چناب، پیر پنچال اور جموں خطوں کے ان لاکھوں شہدائے کرام کو خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جنھیں 1947میں آج ہی کے دن شروع ہونے والی نسل کشی کے دوران تہہ تیغ کیا گیا،جب چناب اور توی دریا مسلمانوں کے خون سے بھر گئے۔غزہ اور مغربی کنارے میں معصوموں کے قتل عام کی طرح آج مقبوضہ ریاست میں گرفتاریوں ، قید و بند، کیمیائی گولہ بارودسے گھروں کو اڑانے ،بدترین ریاستی دہشت گردی کے دوران قربانیوں کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ کشمیری بلا شبہ دنیا کی نڈر ،بہادر ، مسلسل بر سر پیکاراور باوقار قوموں کیصف میں شامل ہو چکے ہیںجہاں ہر روز یوم شہداء ہے۔جو بھارت کی طاقت کے سامنے سرینڈر کرنے کو ہر گز تیار نہیں۔ قربانیوں کا تسلسل ہے۔ ایسے میںشہدائے جموں کی یاد نومبر کی آمد کے ساتھ ہی تڑپا کر رکھ رہی ہے۔ زخم تازہ ہو رہے ہیں۔کئی حریت پسندشخصیات ان واقعات کی چشم دید گواہ ہیں۔ان کی آنکھوں میںخون کے آنسو بہتے دیکھے ہیں ۔ آزادکشمیر لبریشن سیل کے سابق سیکریٹری اور روزنامہ محاسب مظفر آباد کے سابق ایڈیٹر عبدالرشید ملک مرحوم کے سامنے ان کی اہلیہ اور دیگر عزیز و اقارب کوشہید کیا گیا ۔ راولپنڈی پریس کلب کے سابق سیکرٹری اور صحافی قیوم قریشی مرحوم کے خاندان کے کئی افراداورلبریشن فرنٹ کے سابق چیئر مین ڈاکٹر فاروق حیدر مرحوم کے بھائی بھی شہدائے جموں میں شامل ہیں۔چند افراد آج بھی زندہ ہیں جن کی آنکھوں کے سامنے ان کے پیاروں کو کرپانوں اور برچھیوں سے زبح کیا گیا۔بچیوں کو اغوا کیا گیا۔ بچوں کو نیزوں اور ترشول پر اچھالا گیا۔
92سالہ بزرگ صحافی اور دانشور قیوم قریشی مرحوم نے چشم دید واقعہ یوں بیان کیا، ’’ اس زخم کی کہانی کا آغاز جمعرات6 نومبر 1947 ء کو صبح تقریباً دس بجے جموں شہر کے چار ہزار سے زیادہ مسلمانوں سے بھرے ہوئی بسوں اور ٹرکوں کی پولیس لائنز جموں سے روانگی کے ساتھ ہوا ان لوگوں کو یہ جھانسہ دیا گیا تھا کہ انہیں ٹرکوں اور بسوں کے ذریعے سوچیت گڑھ پہنچا دیا جائے گا، جو سیالکوٹ اور جموں کے درمیان سرحدی قصبہ ہے۔ یہ اس طرح کا دوسرا قافلہ تھا جو جموں سے روانہ ہوا تھا اس سے ایک دن پہلے یعنی بدھ 5 نومبر 1947 ء کو بھی سیالکوٹ پہنچانے کے جھانسے کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا، اس قافلے کا کیا حشر ہوا تھا وہ ایک الگ داستان ہے۔ پہلے قافلے میں تو میں شامل نہیں ہوسکا تھا لیکن دوسرے دن میں نے کسی نہ کسی طرح ایک بس کی چھت پر جگہ حاصل کرلی اور پھر وہ پورا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا جو قافلے کے مسافروں کے قتل عام کی صورت میں ڈوگرہ اور بھارتی فوجیوں ،انتہا پسند ہندوؤں اور سکھوں نے رچایا اور جموں میںبشناہ جانے والی سڑک پر نہر کے کنارے صبح گیارہ بجے سے تین بجے سہ پہر تک جاری رکھا تھا۔‘‘
5اگست 2019کے بھارتی غاصبانہ اقدامات کے بعد’’کشمیر فار سیل‘‘ ہے۔ 50لاکھ سے زیادہ بھارتی شہریوں کو مقبوضہ ریاست کا ڈومیسائل اجراء کر دیا گیا ۔مقبوضہ وادی سے فرار ہندو پنڈت اپنی جائیدادیں فروخت کر چکے تھے، انہیں دوبارہ وادی لا کر فروخت شدہ رقبہ جات، مکانات مسلمانوں سے چھین کر دیئے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کو نوکریوں سے بر طرف کر کے ان پر بغاوت کے مقدمات قائم کئے جا رہے ہیں۔بھارتی فوج کو سرکاری اور غیر سرکاری اراضی جس میں زرعی رقبہ جات، باغات بھی شامل ہیں، پر قبضے کے اختیارات دیئے جا چکے ہیں۔ زعفران کے لئے شہرت یافتہ پانپور، پلوامہ پر بھارتی پٹرولیم کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ کشمیرآج بھارتی جارحیت ، خطے کی جابرانہ تقسیم، ریاست کو ڈی گریڈ کرنے ، پابندیوں، مواصلاتی کریک ڈائون کے دوران مزاحمت کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔نئے جارحانہ کالے قوانین نافذالعمل ہو چکے ہیں۔ ریاستی دہشت گردی اور رہائشی گھروں کو بارود سے اڑانے کے واقعات اور کمیکل زہریلے اسلحہ کے استعمال کے باوجود عوام گلی کوچوں، سڑکوں اور چوراہوں میں بھارتی فورسز کے ساتھ بر سر پیکار ہیں۔ نومبر کے مہینہ کوکشمیر کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ 1947کو اسی مہینے میںجموں ڈویژن کے لاکھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور اس مسلم اکثریتی جموں خطے کے مسلمانوں کواقلیت میں بدل ڈالا گیا۔چشم فلک نے پھرایسا وقت بھی دیکھا جب جموں کے غیر مسلموں نے شدید مظالم سے دوچار وادی کے عوام کی ناکہ بندی کی اور وادی میں روتے بچوں کو دودھ اور تڑپتے مریضوںکو ادویات سے محروم کر دیا۔گزشتہ73سال سے کشمیریوں کی نسل کشی جاری ہے۔جس خطے کی فضائیں اللہ اکبر کی صدائوں سے معطر ہوتی تھیں وہ آج مندروں کا شہر کہلاتا ہے، بھجن اور گھنٹیوں کی چیخ و پکارپر زمین بھی رو رہی ہے۔ قیام پاکستان کی بڑی سزاکشمیر بالخصوص جموںکے مسلمانوں کو ملی۔چند دنوں میں3لاکھ انسانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیا گیا۔سٹیٹس مین ا خبار کے ایڈیٹر آئن سٹیفن کی کتاب’’ ہارنڈ مون‘‘Horned Moon،کشمیر ٹائمز کے مدراسی ایڈیٹرجی کے ریڈی اور لنڈن ٹائمز نے تصدیق کی کہ اکتوبراور نومبر1947ء کو جموں اور اس کے نواح میں اڑھائی لاکھ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔مغربی مصنف آلسٹر لیمب نے اپنی کتاب ’’ان کمپلیٹ پارٹیشن‘‘ Incomplete Partitionمیںلکھا کہ ہندو شرپسندوں کی لوٹ مار کے دوران بستیوں، بازاروںاور350 مساجد کو آگ لگا دی گئی۔ جموں ضلع میں 1941 ء میںمسلمان کل آبادی کا 60 فیصد تھے اور 1961ء میں وہ صرف 10 فیصد رہ گئے۔
6نومبر1947ء کو ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ، مہارانی تارا دیوی،ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل اور سابق وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کی آشیر واد اوروزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ہدایت پرمسلمانوں کو گاڑیوں میں سیالکوٹ پہنچانے کے بہانے شہید کیا گیا۔ تقسیم کے اصولوں کے منافی بائونڈری کمیشن کے ریڈ کلف کی بددیانتی سے ہندوستان کو کشمیر تک زمینی راستہ دینے کے لئے پنجاب کے مسلم اکژیتی علاقہ گورداسپور کو پاکستان کا حصہ نہ بننے دیا گیا۔اور اسے بھارت کو دے کر کشمیر تک راہداری دی گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ4 ؍ نومبر 1947ء کو ہندوستانی وزیر داخلہ سردار ولبھابھائے پٹیل، وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ سردار دیوندر سنگھ نے جموں میں مہاراجہ کی مشاورت سے تیار کیا تھا۔راوی کہتا ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام سے چناب کا سب سے بڑا معاون دریا’’ توی‘‘ خون سے بھر گیا۔جموںکے گلی کوچوں سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ جموں ڈویژن سے نسلی صفائی میں جن سنگھیوں کو استعمال کیا گیا۔اس سے قبل ڈوگرہ فورسزنے پوری ریاست کے مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کررکھا تھا۔ قبائل کشمیر میں داخل ہوئے تو ڈوگرہ راجہ 25؍ اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ وادی سے فرار ہوگیا۔ سرینگر سے جموں پہنچ کر رانی تارا دیوی نے سر کے بال بکھیر دیئے۔ چیخ و پکار کی کہ مسلمان غلاموں نے کشمیر ہم سے چھین لیا۔ ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کرنے کی ترغیب دی اور اسلحہ تقسیم کیا ۔ منادی کرادی کہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے ہر ہندو آزاد ہے۔ تارا دیوی نے ڈوگرہ سرداروں کا اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیا کہ تمام مسلمان افسروں کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے اور کوئی مسلمان افسر کسی ذمہ دار عہدے پر فائز نہ رہے۔کہا جاتا ہے کہ 30؍ اکتوبر 1947ء تک پورے جموں میںایک بھی مسلمان افسر کسی اہم اورذمہ دار عہدے پر فائز نہ تھا۔ مہاراجہ پٹیالہ نے شرپسندوں کی کمک جموں داخل کی ۔ قتل عام اورلوٹ مار کے بعد ہی مسلمانوںنے جموں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مسلمانوں کو فوجیوں کی حفاظت میں لاریوں میںپاکستانی سرحد پر آر ایس پورہ، ارنیہ، ڈگیانہ علاقوں میں اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ عورتوں کو علیٰحدہ کرکے ان کے برہنہ جلوس نکالے گئے۔انہیں اغواء کیا گیا ۔جن کا آج تک کوئی پتہ نہ چل سکا۔سیکڑوں عصمتیں بچانے کے لئے دریا میں کود گئیں ۔جس طرح ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کے موقعہ پر درندگی کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح جموں کے مسلمانوں پرقیامت ٹوٹ پڑی۔مسلمانوں کے قتل عام میں پنجاب کے راجواڑوں، پٹیالہ، کپور تھلہ، فرید کوٹ اور نواحی علاقوں کے مہاراجوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ عید الاضحی کا موقع تھا جب ہندو دہشت گردوں نے ایک نعرہ کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی وہ کہہ رہے تھے کہ عید کو مسلے قربانی کرتے تھے اب آج کی عید پر ہم ان کی قربانی کریں گے۔ (جاری ہے)