برصغیرکی تقسیم جیسی زمینی حقیقت کے بعداب تاریخ کوجھٹلانے یاان حقیقی خاکوں میں جھوٹ وبد نیتی کارنگ بھرکرتاریخی واقعات کی شکل بگاڑکرنئی نسل کوگمراہ کرکے اقبالؒ سے بد ظن کرنے کی کوشش ایسے ہی ہے جیسے چاندپرتھوکاواپس اپنے منہ پر گرتا ہے۔سات دہائیوں کے گزرنے کے بعداقبالؒ پرپنڈت نہروکے اس بے جاالزام کوکیوں دہرایا جا رہاہے کہ اقبالؒ اپنی زندگی کے آخری دورمیں سوشلزم کے زیرِاثر تصورِ پاکستان سے دستبردار ہو گئے تھے۔کیاان الزامات سے زمینی حقائق بدل سکتے ہیں کہ دوبارہ ایسااکھنڈ بھارت قائم ہو جائے جہاں ہرروزکشمیراورگجرات جیسی قیامتیں مسلمانوں پر ڈھائی جائیں!اقبالؒ جنہوں نے پاکستان جیسی ریاست کا خواب دیکھا،ان کواس الزام میں آخرکیوں ملوث کیاجارہا ہے؟اورایک ہی وقت میں بھارت اور پاکستان میں ایسابے ڈھنگاراگ کیوں سنائی دے رہا ہے؟ آئیے تاریخ کے جھروکوں سے حقائق کی دنیامیں جھانکتے ہیں!
نہرواپنی کتاب’’دی ڈسکوری آف انڈیا‘‘جو انہوں نے 1944ء میں قلعہ احمدنگرکے زنداں میں بیٹھ کرلکھی تھی،اس کتاب میں انہوں نے بطورشاعر اور مفکراقبالؒ کے فیضان کی تحسین فرمائی ہے مگراقبالؒ کو خراجِ تحسین کرتے وقت وہ یہ بھی کہہ گزرے ہیں کہ اقبالؒ ایک شاعر،عالم اورفلسفی تھے اورپرانے جاگیرداری نظام سے وابستہ تھے ۔نہرو مزیدلکھتے ہیں کہ اقبالؒ پاکستان کے اولین حامیوں میں سے تھے لیکن ایسامعلوم ہوتاہے کہ انہوں نے اس تجویزکی لغویت اوران خطرات کومحسوس کرلیا تھاجواس تجویزمیں مضمرہیں۔ ایڈورڈ تھامسن نے لکھاہے کہ ایک ملاقات کے دوران اقبالؒ نے ان سے یہ کہاکہ انہوں نے مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں صدرکی حیثیت سے پاکستان کی حمائت کی تھی مگران کویقین تھاکہ یہ تجویزمجموعی طورپرہندوستان اور خصوصاًمسلمانوں کے لئے مضرہے۔شائد انہوں نے اپنا خیال بدل دیاتھایاپہلے اس مسئلے پر زیادہ غورنہیں کیا تھاکیونکہ اس وقت تک اس نے کوئی اہمیت حاصل نہیں کی تھی۔ان کاعام نظریہ زندگی پاکستان یاتقسیم ہندکے اس تصورکے ساتھ جو بعد میں پیداہوا،ہم آہنگ نہیں تھا۔ آخری عمرمیں اقبالؒ کارحجان اشتراکیت کی طرف بڑھتا گیا۔ سوویت یونین کی زبردست کامیابی نے ان کوبہت متاثر کیااوران کی شاعری کارخ بدل گیا۔
نہروکایہ الزام سراسرغلط ہے،ان کایہ الزام لاعلمی پرنہیں بلکہ بد نیتی پرمبنی ہے جن لوگوں نے اقبالؒ کی شاعری،فلسفہ اور سیاست کاسرسری سے بھی کم مطالعہ کیاہے وہ بھی اس صداقت کی گواہی دیں گے کہ اقبالؒ جاگیرداری نظام کاسب سے بڑا دشمن تھا۔نہروسے سب سے بڑاتاریخی سہویہ ہواکہ وہ بھول گئے کہ ان کی کتاب سے3برس قبل قائداعظم کے دیباچہ کے ساتھ قائداعظم کے نام اقبالؒ کے خطوط شائع ہوچکے تھے،یہ انگریزی کتاب یقینانہروکی نظرسے گزرچکی ہوگی،اس کتاب میں شامل 28مئی 1937ء کاوہ طویل خط بھی شامل ہے جس میں نہروکی”بے خداسوشلزم”کو بھی زیرِبحث لایاگیاہے اوربتایاگیاہے کہ مسلمان تو رہے ایک طرف،خودہندومعاشرہ بھی ’’بے خداسوشلزم‘‘ کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔نہروکے سوشلزم کوردکرتے وقت اقبالؒ نے قائد اعظمؒ کوبتایاکہ اگراسلامی شریعت کی دورِحاضرکے معاشی نظریات کی روشنی میں ازسرِنوتفسیرکی جائے تومسلمان عوام کی روٹی روزگارکامسئلہ بہترطور پر حل ہوسکتاہے۔مسلمان کوغربت کے عذاب سے نجات دلانے کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی الگ قانون سازاسمبلی ہواوریہ اسمبلی متحدہ ہندوستان کی بجائے ایک الگ خودمختارمملکت میں ہی قائم کی جاسکتی ہے۔اس خط کے مندرجات زبانِ حال سے پکارپکار کر کہہ رہے ہیں کہ:
اول:اقبالؒ نہروکی’’بے خداسوشلزم‘‘پراسلام کے اقتصادی نظام کوترجیح دیتے ہیں۔
دوم:اسلام کے اقتصادی نظام کوعہدِجدیدکے سیاق وسباق میں نافذکرنے کے لئے جداگانہ مسلمان مملکت کاقیام ضروری ہے۔
سوم:اپنی وفات سے فقط چندماہ پہلے وہ قائداعظمؒ کویہ مشورہ دے رہے تھے کہ وہ قیامِ پاکستان کوکل ہند مسلم لیگ کا سیاسی پروگرام بنالیں ۔
چہارم:اس خط کے آخرمیں وہ قائداعظم ؒسے سوال کرتے ہیں کہ کیاوہ وقت نہیں آپہنچاجب ہمیں کھل کرقیامِ پاکستان کواپنی منزل قراردے دینا چاہئے؟
نہرودانستہ طورپراقبالؒ کی وفات سے تین ماہ پیشترمیاں افتخارالدین کے ہمراہ جاوید منزل میں علامہ اقبالؒ سے جوملاقات کی تھی، اس ملاقات کی خوشگوار یادوں کایہ واقعہ بیان کرنا کیوں مناسب نہیں سمجھالیکن اسے ڈاکٹرعاشق حسین بٹالوی نے اپنی کتاب اقبالؒ کے آخری دوسال”میں بیان کردیاہے۔ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:
نہرواس زمانے میں زورشورسے سوشلزم کا پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف تھے،انڈین نیشنل کانگرس کے دواجلاسوں کے وہ صدر رہ چکے تھے اوردونوں مرتبہ اپنے خطباتِ صدارت میں انہوں نے کہاتھاکہ ہندوستان کے تمام مصائب کاعلاج سوشلزم ہے لیکن کانگرس کے بڑے بڑے لیڈروں میں کوئی شخص بھی اس بارے میں پنڈت نہروکا معاون یاہم خیال نہیں تھابلکہ سردارپٹیل، راج گوپال اچاریہ اورستیہ مورتی نے توعلی الاعلان نہرو کے اس عقیدے سے اختلاف کااظہار کیا تھا۔ دورانِ ملاقات میں ڈاکٹرصاحب نے نہروسے پوچھاکہ سوشلزم کے بارے میں کانگرس کے کتنے آدمی آپ کے ہم خیال ہیں؟ نہرونے جواب دیا کہ،نصف درجن کے قریب۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا،تعجب ہے، خود آپ کی جماعت میں آپ کے ہم خیالوں کی تعداد صرف نصف درجن ہے، ادھرآپ مجھ سے کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں کوکانگرس میں شامل ہونے کا مشورہ دوں،توکیامیں دس کروڑ مسلمانوں کوچھ آدمیوں کی خاطر آگ میں جھونک دوں؟”اس پرنہروخاموش ہوگئے۔
اسی ملاقات میں ایک اورناگوارواقعہ بھی پیش آیاتھااورنہرونے اس کوبھی قوم کوبتانامناسب نہیں سمجھا،ہاں البتہ بٹالوی صاحب نے بیان کردیاہے:
( جاری ہے )