Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

اقبالؒ کایقینِ کامل اورقومیت کاناسور

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’ابھی ان دوعظیم المرتبت انسانوں کے ساتھ گفتگو جاری تھی کہ یکایک میاں افتخارالدین بیچ میں بول اٹھے کہ ڈاکٹرصاحب!آپ مسلمانوں کے لیڈرکیوں نہیں بن جاتے؟ مسلمان جناح سے زیادہ آپ کی عزت کرتے ہیں،اگرآپ مسلمانوں کی طرف سے کانگرس کے ساتھ بات چیت کریں تونتیجہ بہترنکلے گا۔ڈاکٹرصاحب لیٹے ہوئے تھے،یہ سنتے ہی غصے میں آگئے اوراٹھ کربیٹھ گئے اور انگریزی میں کہنے لگے،تواچھا،یہ چال ہے کہ آپ مجھے بہلا پھسلا کرمسٹرجناح کے مقابلے میں کھڑاکرنا چاہتے ہیں،میں آپ کوبتا دیناچاہتا ہوں کہ مسٹرجناح ہی مسلمانوں کے اصل لیڈرہیں اورمیں توان کامعمولی سپاہی ہوں”۔اس کے بعدڈاکٹر صاحب بالکل خاموش ہوگئے اورکمرے میں تکدرآمیزسکوت طاری ہو گیا ۔ پنڈت نہرونے فورامحسوس کرلیاکہ میاں افتخارالدین کے دخل درمعقولات نے ڈاکٹرصاحب کوناراض کردیاہے اوراب مزیدگفتگوجاری رکھنابے سودہے چنانچہ وہ اجازت لیکررخصت ہوگئے۔
حیرت یہ ہے کہ انہوں نے ان ناقابلِ فراموش یادوں کوتوآسانی سے فراموش کردیامگرایڈورڈ تھامسن کی گپ شپ کوناقابلِ تردید تاریخی صداقت کادرجہ دے دیا۔ایڈورڈتھامسن آکسفورڈ یونیورسٹی میں بنگالی زبان کے استادتھے اورتاریخ ہندسے بھی علمی شغف رکھتے تھے۔وہ دومرتبہ برطانیہ کے اخبار ’’مانچسٹر گارڈین‘‘کے نامہ نگارکے روپ میں بھی برٹش انڈیا تشریف لائے تھے۔ گاندھی ، رابندرناتھ ٹیگور، راج گوپال اچاری، سردار پٹیل اورنہروکے ساتھ ان کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے جہاں وہ ہمیشہ مسلم لیگ کی مخالفت میں سرگرم رہتے تھے،وہاں کانگرس کی پرجوش وکالت کاکوئی موقعہ بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔
جس روایت کاسہارالے کرنہرونے اقبالؒ پر الزام تراشی کی ہے وہ ایڈورڈ تھامسن اورعلامہ اقبالؒ کی زبانی گفتگوپرمبنی ہے۔ایڈورڈ تھامسن موصوف کا یہ بیان قائد اعظمؒ کے نام اقبالؒ کے متذکرہ بالاخطوط کی دستاویزی شہادت کے ساتھ ساتھ اقبالؒ نہروملاقات کے مندرجہ بالااحوال و مقامات کی بنیادپرجھوٹ ثابت ہوتاہے۔ اقبالؒ آخردم تک اپنے تصورِ پاکستان کوقیامِ پاکستان کی صورت میں جلوہ گردیکھنے کی تمنامیں سرشاررہے۔ قائداعظمؒ کے ایک ادنی سپاہی کی حیثیت میں سرگرمِ عمل رہے اور اسلامیانِ ہندکویہ مشورہ دیتے رہے کہ میری زندگی کی دعائیں مانگنے کی بجائے محمد علی جناح کی طویل زندگی کی دعائیں مانگو ، صرف جناح ہی قوم کی کشتی کوساحل ِمرادتک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نہ معلوم یہ باتیں نہروکے ذہن سے کیوں محوہوگئی تھیں یاانہوں نے ان باتوں کوناخوشگواراور اپنی سیاسی آئیڈیالوجی کی تردیدسمجھ کراپنی کتاب میں درج کرناکیوں مناسب نہیں سمجھا:
نگاہ بلند،سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
اس کی وجہ صرف اورصرف یہی تھی کہ علامہ اقبالؒ ہمیشہ یہ فرماتے تھے کہ میرے نبیﷺکایہ مبارک فرمان ہے کہ تم میں بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق بہترین ہیں۔اسی لیے نظریاتی اختلاف کے باوجود علامہ اقبالؒ اورنہروکے درمیان ہمیشہ باہمی احترام کے تعلقات قائم رہے۔
نہرونے1933ء میں لندن کی گول میز کانفرنس میں مسلمان مندوبین کے طرزِفکروعمل کو تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔ گاندھی جی کے اس رویہ کی حمائت میں نہروکی لب کشائی پراقبالؒ حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ اقبالؒ اس کانفرنس میں شریک تھے مگر نہروشریک نہیں تھے ۔کانگرس کی نمائندگی گاندھی جی نے کی تھی۔گاندھی جی نے واپسی پرکہاکہ انہوں نے ذاتی طورپر مسلمانوں کے تمام مطالبات کوقبول کر لیا تھا مگرسیاسی رجعت پسندی کی بنا پر مسلمانوں نے کانفرنس کوناکام بنادیا۔نہرونے گاندھی جی کی باتوں میں آکرمسلمان مندوبین کے خلاف ایک انتہائی سخت سیاسی بیان داغ دیاچنانچہ علامہ اقبالؒ نے گاندھی جی کے اس الزام کی تردید میں نہروکوجوخط تحریرکیااس میں علامہ کا اخلاق ملاحظہ فرمائیں:
’’میں پنڈت جواہرلال نہروکے خلوص اور صاف گوئی کی ہمیشہ سے قدرکرتارہاہوں۔ مہاسبھائی معترضین کے جواب میں جوتازہ ترین بیان انہوں نے دیاہے اس سے خلوص ٹپکتا ہے اوریہ چیزآج کل کے ہندوستانیوں میں کم یاب ہے لیکن ایسامحسوس ہوتاہے کہ پچھلے3سالوں میں جوگول میزکانفرنسیں لندن میں منعقد ہوئی ہیں ان میں شریک ہونے والے مندوبین کے رویہ کے متعلق نہروکی تحقیق کی بنیاد کسی تعصب پرمبنی ہے۔‘‘ اس خوش گمانی کے اظہارکے بعدعلامہ اقبالؒ نے اصل حالات کوبے نقاب کرتے ہوئے بتایاکہ گاندھی جی نے مسلمانوں کے مطالبات کوذاتی طورپرماننے کاعندیہ تو دیا تھا مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیاتھاکہ وہ اس بات کی حتمی ضمانت نہیں دے سکتے کہ کانگرس کی مجلسِ انتظامیہ بھی ان مطالبات کوتسلیم کرلے گی،ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتادیاتھاکہ کانگرس انہیں ان مطالبات کے سلسلے میں مکمل اختیار دینے کیلئے کبھی بھی رضامندنہیں ہوگی،گویاعملاً گاندھی جی نے مسلمانوں کے تمام مطالبات کو رد کر دیا تھا،گاندھی جی کی دوسری غیرمنصفانہ شرط یہ تھی کہ مسلمان اچھوتوں کے مخصوص مطالبات کی حمائت ترک کردیں مگرمسلمانوں نے اچھوتوں کی حمائت سے دستبرداری سے انکارکرکے گاندھی جی کوناراض کر دیاتھا۔چنانچہ اپنے اس خط میں انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ اپنے زبانِ زدِعام سوشلسٹ خیالات کے پیشِ نظر نہرو اس انسانیت کش شرط کی کیسے حمائت کریں گے؟کم ازکم انہیں یہ زیب نہیں دیتاکہ وہ مسلمانوں کوسیاسی معاملات میں رجعت پسندی کاالزام دیں ۔اس صورت میں میں وہ لوگ جو ہندوں کے فرقہ پرستانہ مقاصدکواچھی طرح سمجھتے ہیں،اس نتیجے پرپہنچنے میں حق بجانب ہوں گے کہ نہروفرقہ وارانہ فیصلے کے خلاف ہندومہاسبھاکی جاری کردہ مہم میں ایک سرگرم رکن ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف نہروکادوسراالزام یہ تھا کہ مسلمان ہندوستانی قومیت کے مخالف ہیں۔ اس کے جواب میں علامہ اقبالؒ نے فرمایا: ’’اگر قومیت سے ان کی مرادیہ ہے کہ مختلف مذہبی جماعتوں کوحیاتاتی معنوں میں ملاجلاکرایک کردیاجائے تو پھرمیں ہی اس نظریہ قومیت سے انکارکامجرم ہوں۔ میں نہروسے ایک سیدھاساسوال کرناچاہتا ہوں ،جب تک اکثریت والی قوم دس کروڑکی اقلیت کے کم سے کم تحفظات کوجنہیں وہ اپنی بقاکیلئے ضروری سمجھتی ہے،نہ مان لے اورنہ ہی ثالث کافیصلہ تسلیم کرے بلکہ واحد قومیت کی ایسے رٹ لگاتی رہے جس میں صرف اس کااپناہی فائدہ ہے۔
(جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں