Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ایٹمی پاکستان:امریکی اوراسرائیلی مفادات کا اصل چیلنج

گذشتہ برس سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے تمام نظریں مشرق وسطی پر لگی تھیں اور سب کے ذہن میں یہ سوال تھے کہ اسرائیل کی جانب سے ردعمل کتنا شدید اور طویل ہو گا؟ اور خطے کے عرب ممالک کے عوام اور حکومتیں کیا ردعمل دیں گی؟ آج تک پہلے سوال کا کوئی حتمی جواب نہیں مل سکا: اسرائیلی بمباری نے غزہ کی پٹی میں تباہی برپا کر دی اور اب تک 42500 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں لیکن اس کے تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔دوسرے سوال کے جواب کا کچھ حصہ واضح ہے، اگر کوئی یہ توقع رکھتا ہے کہ عرب دنیا کے دارالحکومتوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج یا مظاہرے ہوں گے تو انھیں مایوسی ہو گی۔ اگرچہ عرب ممالک کی آبادی کی بڑی تعداد کی حمایت اور جذبات فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے ہیں لیکن ان ممالک میں مظاہروں کو محدود رکھا گیا۔یہ بھی حقیقت ہے عرب ممالک کی حکومتوں کا ردعمل بہت کمزور یا مایوس کن رہا۔ اسرائیل پر روایتی تنقید یا قطر اور مصر کی حکومتوں کی جانب سے اس تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کے علاوہ کسی نے بھی فلسطینیوں کا ساتھ نہیں دیا۔
کسی بھی عرب ملک نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم نہیں کیے یا کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جس سے اسرائیل پر سفارتی یا معاشی دبائو بڑھتا یا اس جنگ کو روکنے میں مدد ملتی مگر خطے میں فلسطین کے مسئلے نے اپنی اہمیت کیوں کھو دی۔ مشرق وسطی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے۔سعودی عرب بھی سات اکتوبر میں عزہ اور اسرائیل کے جنگ کے آغاز سے قبل اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ کئی دہائیوں سے اور حالیہ تنازعہ کے آغاز سے لے کر آج تک ہر عرب ملک نے اپنے اپنے مفادات کی پیروی کی۔ وہ فلسطینیوں کی حمایت اور یکجہتی کی بات کرتے ہیں، اور ایسا نہیں کہ یہ جذبات حقیقی نہیں ہیں لیکن وہ اپنے قومی مفادات کو پہلے دیکھتے ہیں جبکہ عرب دنیا میں عوامی رائے اسرائیل کے سخت خلاف ہے۔
عرب ممالک کے عوام کے دل میں غزہ کے تباہ حال شہریوں کے لیے بہت ہمدردی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی حکومتیں فلسطینیوں کے لیے کچھ زیادہ کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیں، اور کم از کم ردعمل دیتے ہوئے سفارت کاروں کو ان کے ممالک سے نکال دیا جائے لیکن یہ اب تک نہیں ہوا۔دراصل عرب حکومتوں نے فلسطینیوں کو کافی عرصہ پہلے چھوڑ دیا تھا۔
عرب ممالک کی تاریخ میں عربوں نے ایک شناخت، ایک زبان، اور بڑی حد تک ایک مذہب کے ساتھ ساتھ اپنے شناخت کو جوڑا لیکن خطے میں یورپی نوآبادیاتی اثرات سے پیدا ہونے والے خدشات بھی موجود رہے ہیں لیکن ان ممالک کی حکومتوں کے مفادات بھی ایک دوسرے سے متضاد رہے ہیں۔ فلسطینیوں اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات بھی آسان نہیں رہے، خاص طور پر ان کے ساتھ جنھوں نے 1948 میں اسرائیل کی ریاست کے اعلان کے بعد بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا۔ لبنان کی خانہ جنگی اور فلسطینی عسکریت پسندوں اور اردنی بادشاہت کے درمیان جھڑپیں بعض اوقات خطے کی متضاد تاریخ کی یاد دلاتی ہیں۔ لیکن مسئلہ فلسطین کئی دہائیوں سے عرب ممالک کے لیے متحد ہونے کا عنصر بھی تھا لیکن وائے افسوس کسی نے اس کا فائدہ نہیں اٹھایا اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کیلئے اللہ کی اس نعمت کو فراموش کر دیا اور آج مسلم امہ تمام وسائل ہونے کے باوجود سب سے زیادہ ذلیل و رسوا ہو رہی ہے۔
ان حالات میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ کیا نیتن یاہوگریٹراسرائیل کے خواب کی تکمیل کیلئے جلد مشرق وسطی کانقشہ بدلنے جا رہا ہے اور بظاہر دنیا یہ سب ہوتا دیکھتی رہ جائے گی؟ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے مطابق اسرائیل کی طرف سے غرب اردن کا یکطرفہ الحاق بین الاقوامی قانون کی سب سے سنگین خلاف ورزی ہوگی ۔مسلم دنیااوریورپی ممالک بھی فلسطینی غرب اردن کوزبردستی ہتھیانے کے اسرائیلی منصوبے کی مذمت اورمخالفت کرچکے ہیں لیکن اس کاکوئی اثرنہیں ہواکیونکہ نیتن یاہو کو اس انتہائی متنازع اقدام کیلئے امریکی صدراورانتہائی مضبوط یہودی لابی کی پشت پناہی حاصل ہے۔یادرہے کہ اس وقت دنیاکی مکمل تجارت آئل،ادویات اوراسلحے کی انڈسٹری کے ساتھ الیکٹرانک کے ساتھ ساتھ دیگرزندگی کی ضروریات کی 38 کارپوریشن زیرکنٹرول کررہی ہیں اوریہ تمام عالمی کارپوریشنزیہودیوں کی ملکیت ہیں اورانہوں نے بڑی چابک دستی سے چین کے اندربھی بہت سی انڈسٹریزمیں سرمایہ کاری کر رکھی ہے لیکن پچھلے10برسوں سے چین نے بڑی حکمت کے ساتھ اپناکنٹرول بحال کرلیاہے جس کے بعدیہ کارپوریشنزبھی کھل کرسامنے آگئی ہیں اور ہرصورت میں دنیامیں چین کی بڑھتی ہوئی معاشی سبقت کونیچا دکھانے کیلئے پہلے سے زیادہ متحرک ہوگئی ہیں اس حوالے سے یقینا امریکی سپرمیسی کوآلہ کارکے طورپراستعمال کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اوراسی تناظرکی تفصیل ’’ کیاتیسری جنگ عظیم کااسٹیج تیار ہوچکا ہے؟‘‘ کے عنوان سے میں اپنے آرٹیکل میں تفصیل سے تحریرکر چکاہوں جس کوقارئین کی ایک بڑی تعدادمیں خاصی پذیرائی حاصل ہوچکی ہے۔
مشرق وسطی کے مبصرین اس بات پرمتفق ہیں کہ نیتن یاہوطاقت کے زور پرجوکچھ کرنے جارہاہے اس کے خطے کے امن و استحکام پرگہرے منفی اثرات پڑیں گے۔نیتن یاہوغرب اردن کااسرائیل کے ساتھ زبردستی الحاق کرنے کے بعد اگرفلسطینیوں کووہاں سے بے دخل کرسکتاتوشاید کردیتالیکن ایساممکن نہیں۔غرب اردن میں فلسطینیوں کی تعدادکوئی 25 لاکھ ہے۔اسرائیل کاحصہ بننے کی صورت میں فلسطینی اسرائیلی آبادی کا40فیصدہوجائیں گے۔عالمی رائے عامہ نے نیتن یاہوسے یہ مطالبہ بھی کیاہے کہ تمام فلسطینیوں کواسرائیلی شہریت دے کربرابری کے حقوق کاوعدہ پوراکرے لیکن اب نیتن یاہواس خدشہ کااظہارکر رہاہے کہ ایسا کرنے سے اسرائیل میں فلسطینیوں کی تعدادبڑھ جائے گی جس سے یہودی اکثریت کوخطرہ ہوسکتاہے۔اس لیے نیتن یاہوفلسطینیوں کوبطورشہری برابرکے حقوق دینے کے بھی خلاف ہے لیکن اگر اسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنے ہی علاقے میں دوسرے درجے کاشہری بنانے کی کوشش کی تواس سے غم وغصہ بڑھے گا۔جنوبی افریقامیں سفیدفام اقلیت نے ایک عرصے تک مقامی سیاہ فام آبادی پراسی طرح حکومت کی اوراس کااستحصال کیالیکن وہاں کے لوگوں کی جدوجہداورعالمی دباو کے بعد بالآخراس نظام کاخاتمہ ہوگیا۔اسرائیل کیلئے ا ٓج کے دورمیں اسی طرح کاامتیازی نظام متعارف کرناناممکن نہیں تومشکل ضرورہو گا۔اس روش کے آگے جاکرخطرناک نتائج بھی نکل سکتے ہیں۔
فوری طور پر شاید کوئی شدید ردِعمل سامنے نہ آئے۔عرب حکمران اوردیگرملک فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی دکھانے کی خاطر زبانی کلامی اسرائیل کی مذمت کریں گے لیکن عملی طورپر دنیانے بظاہر فلسطینیوں کواب ان کے حال پرچھوڑدیا ہے۔ بیشترممالک سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے پرامریکا اوراسرائیل کے ساتھ ایک حدتک ہی محاذآرائی کی جاسکتی ہے لیکن فلسطینیوں کی خاطران سے لڑا ئی نہیں کی جاسکتی۔خودفلسطینی قیادت اتنی مایوس ہے کہ اس کاکہناہے کہ وہ اس کی سخت مخالفت کرے گی لیکن اسرائیل کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی حمایت نہیں کرے گی۔
امریکاسمیت عالمی برادری نوے کی دہائی سے اوسلومعاہدے کے تحت خطے میں دوریاستوں کے قیام کیلئے کوشاں رہی ہے لیکن دنیاکی نظرمیں نیتن یاہوکایہ اقدام فلسطینیوں کااپنی علیحدہ ریاست کادیرینہ خواب چکناچورکرنے کے مترادف ہے اورنیتن یاہوکی ان خواہشات میں ٹرمپ کے یہودی نژاددامادجیرالڈنے خوب رنگ بھراہے اورحالیہ عرب معاہدوں کیلئے سب سے زیادہ اس نے وہی کام کیاہے جوخلافتِ عثمانیہ کوپارہ پارہ کرنے کیلئے لارنس آف عریبیہ نے کیاتھا۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں