(گزشتہ سے پیوستہ)
نیتن یاہواوران کےحمایتیوں کےنزدیک غرب اردن کاعلاقہ انتہا پسندیہودی عقیدے کے اعتبار سےاسرائیل کا اٹوٹ انگ ہےاورملک کی سلامتی کیلئےبھی ناگزیرہےلیکن دنیاکے نزدیک اسرائیل نے ان علاقوں پر1967ء کی جنگ کے بعد سے قبضہ کررکھاہے ۔
پچھلی چنددہائیوں میں اسرائیل ان مقبوضہ علاقوں میں نئے زمینی حقائق قائم کرنے کی پالیسی پرگامزن رہاہےجس کے تحت وہاں مسلسل نئے گھراورفلیٹ تعمیرکرکے باہرسے یہودی خاندانوں کولالا کربسایاجاتارہاہے۔عالمی برادری کی نظرمیں یہ تعمیرات غیرقانونی ہیں۔اس کے باوجود آج غرب اردن کی ان شاہکاربستیوں میں کوئی پانچ لاکھ کے قریب اسرائیلی یہودی بستے ہیں۔نیتن یاہوکاخیال ہےکہ وہ طاقت کےبل پرگریٹر اسرائیل کےخواب کوعملی جامہ پہنانے کیلئے تیارہےلیکن دنیاکی نظرمیں ان کا یہ عمل خطے کو تباہی اورجنگ کی طرف دھکیل رہاہے جس سے اسرائیل کے وجودکوبھی شدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔
دوقومی نظریہ تقسیمِ ہند کا اصل محرک بنایعنی مسلمان اورہندودوالگ قومیں ہیں جن کا مذہب،ثقافت،تاریخ،رہن سہن اورتہذیب وتمدن سب یکسر مختلف ہے۔اس فلسفے کے تناظر میں مملکتِ خداداد پاکستان معرضِ وجودمیں آیا اور ہندوستان دوالگ الگ ملکوں میں بٹ گیا۔ بانی پاکستان قائدِاعظم محمد علی جناح نے فروری1948 میں امریکاکے نام پیغام میں فرمایا تھامیں نہیں جانتاکہ پاکستان کے دستورکی آخری شکل کیا ہوگی لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں کاآئینہ داراورجمہوری انداز کا ہوگا۔ اسلام کے اصول آج بھی ہماری زندگیوں میں اسی طرح قابل عمل ہیں،جس طرح1300 سال پہلے تھے۔ اسلام نے ہمیں وحدتِ انسانیت اور عدل ودیانت کی تعلیم دی ہے۔ یہ تھاوہ نظریہ جس کی بنیاد پر پاکستان وجودمیں آیا۔یہ کوئی نیانظریہ نہیں بلکہ بنیادی طورپریہ وہی نظریہ ہے جورسول کریمﷺ نے آج سے تقریباً 1450سال قبل انسانیت کودیاتھا۔اس کی روشنی میں دیکھیں تو پاکستان کوئی معمولی ملک نہیں،اس کے قیام کی نوید1450 سال قبل سنائی گئی تھی۔
رسول کریم ﷺ کی ذات گرامی کو اہلِ عرب صادق اورامین کہتے تھے اوریہود و نصاری بھی اس بات پرمتفق تھےکہ آپ ﷺ صادق بھی ہیں اورامین بھی، لیکن یہودیوں نے آپﷺکواللہ کاسچانبی ماننے سے صرف اس لیے انکارکردیا تھا کہ آپ ﷺحضرت اسماعیل علیہ سلام کی آل میں سے تھے۔یہودی خودکواللہ کی مقرب ترین اور بہترین قوم سمجھتے تھے،سارے انبیا بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے تھےلیکن خاتم النبیین ﷺ کاتعلق بنی اسرائیل سے نہیں تھاجس کو یہود نے ماننے سےانکارکیا،انکی رائے میں اللہ نے عزت ووقارصرف بنی اسرائیل کو بخشا ہے،لہٰذا جو بھی نبی مبعوث کیاجائے گااس کاتعلق لازماً بنی اسرائیل سے ہی ہوگا۔یوں مسلمانوں سے یہودیوں کی جنگ شروع ہوئی جوآج تک جاری ہے۔
قیامِ پاکستان کے9ماہ بعدہی اسرائیل کےنام سے فلسطین کی سرزمین پراسرائیل کی جبری ریاست قائم کی گئی۔ اسرائیل کے پہلے وزیراعظم اور صہیونی تنظیم کے سربراہوں میں سے ایک ڈیوڈبین گوریان نےاپنی پہلی تقریرکرتے ہوئےکہاکہ ریاست اسرائیل کواگرکسی سے خطرہ ہے تووہ پاکستان ہے کیوںکہ پاکستان اسلام کے نام پرمعرضِ وجودمیں آیاہے۔
واضح رہےکہ14اگست 1947ء کو پاکستان وجودمیں آیااور14مئی 1948 ء کو اسرائیل کی ناجائزریاست قائم کی گئی۔ نومولود پاکستان کو اسرائیل نے اپنے لیے سب سے بڑاخطرہ قرار دیدیا۔گوریان نے کہاتھاکہ جس دن پاکستان ختم ہوجائے گااس دن اسلام کاخاتمہ ہوجائے گا۔
پاکستان ایک نظریے کے تحت وجودمیں آیااور نظریہ کوختم کرناچونکہ بچوں کے آسان کھیل جیسا نہیں ہوتاتویہاں دشمن نے سفاک چال چلی۔ ملک توڑنے کیلئےمذہب کی غلط ترجمانی کرتے ہوئے زبان،رنگ،نسل،قوم اورفرقوں کاسہارالیا گیا۔آج یہی غیروں کےایجنڈے پراس نظریاتی ملک کو توڑنے کی سازش کاحصہ بنے ہوئے ہیں۔ویسے تومسلمانوں کی تاریخ جرأت وبہادری سے عبارت ہے لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ اوروں کی طرح اس قوم میں بھی گلی محلوں سے لے کرسیاسی ایوانوں میں غدار لوگ پائےجاتے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کو انتہائی خطرات کا سامنا ہے۔بھارتی سرحد ہمیشہ سے ہی پریشانی کاسبب رہی ہے، اوردشمن افغان سرحدکوبھی استعمال کرتارہتاہے۔ایک طرف فوج طویل ترین سرحدوں کی حفاظت پرمعمور ہے تو دوسری طرف ملک میں انتہاپسندتنظیموں اوردہشت گردوں سے بھی نمٹ رہی ہے جبکہ کوئی قدرتی آفت آجائے، حتی کہ ابرِرحمت ہی کھل کربرس جائے توبھی انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور انہیں مدد کیلئے فوج کی جانب دیکھناپڑتاہے۔
پاکستانی افواج ہمہ وقت متعدد محاذوں پر برسرِپیکارہے۔ایسے میں اب سی پیک کے خلاف امریکا اسرائیل اوربھارت سے گٹھ جوڑ کرکےجہاں پاکستان کے گردگھیراتنگ کررہاہے وہاں امریکی دبائو اوردھمکیوں نےانتہائی گھمبیر صورتحال پیدا کر دی ہےلیکن دوسری طرف ہماری نااہل سول حکومت کرپشن کے مقدمات میں الجھی ہوئی ہے۔ لگ یوں رہاہے کہ ملک کی داخلہ وخارجہ امور بھی اب فوج کوہی دیکھنے ہوں گے۔ سیاسی عدم استحکام بھی عروج پرہے۔ سابقہ حکومت کے دورمیں اسلام آبادمیں ایک مذہبی جماعت کے دھرنے اوران کے مطالبات کے آگے گھٹنا ٹیک دینابھی عالمی سطح پربدنامی کاسبب بنا۔
اگرہم تاریخ کےجھروکوں میں جھانکیں تونظر آئےگاکہ امریکانے پاکستان کوہمیشہ ہی مایوس کیاہے۔سانحہ1971میں اس تاریخی بحری بیڑےکے دھوکے کوہم کبھی نہیں بھول سکتے جو امریکانے پاکستان کی مددکیلئے بھیجناتھا۔یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکاکے بیشترامور اسرائیل سے کنٹرول کیےجاتے ہیں۔ امریکا اسرائیل کو امداد کے نام پراتنی خطیر رقم دیتاہے جس کاکوئی جوازنہیں۔ 14ستمبر 2016ء کو امریکا نے اسرائیل کے ساتھ 10سالہ فوجی امداد کا38 ملین ڈالرکی مددکامعاہدہ سائن کیا اور یہی اسرائیل نے پاکستان کواپنے لئے سب سے بڑاخطرہ قراردیاہے ۔ امریکاکی سلامتی کی پالیسی سے لے کر انتظامی امورتک سب یروشلم میں طےپاتے ہیں۔ اقوام متحدہ،ورلڈبینک،ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن جیسے بین الاقوامی ادارےاسرائیل کے اختیار میں ہیں توامریکاکی پالیسیز پاکستان کے حق میں مفیدکیسے ہوسکتی ہیں؟
واضح رہےکہ پاکستان پورے عالم اسلام میں واحدنیوکلیئرپاورہے اوریہی اسرائیل کوکسی طورہضم نہیں ہوتی۔1981ء میں اسرائیل نے بھارت کی مدد سے کہوٹہ نیوکلیئر ری ایکٹر پر ناکام حملے کی سازش بھی کی جوکامیاب نہیں ہوسکی۔ان تمام معلومات اور تاریخی حقائق سے ثابت ہوتاہےکہ امریکاپاکستان اورمسلمانوں کادوست ہوہی نہیں سکتا۔ افغانستان، عراق،لیبیا،شام،یمن،مصر، مراکش، لبنان،تیونس اورفلسطین میں امریکااور اسرائیل کا کردار سب کےسامنے ہے۔یہاں ہونےوالی خونریزی کے پیچھے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ہے اور گریٹر اسرائیل کی راہ میں بڑی حد تک رکاوٹ پاکستان ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کوختم کرنے کیلئے ان ممالک کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔
برمامیں ہونے والےحالیہ فسادات اور مسلمانوں کی بدترین نسل کشی بھی اسی منصوبے سے متعلق ہے۔اگرآپ معاملات کابغورجائزہ لیں تو اندازہ ہوگاکہ عراق،افغانستان سمیت دنیاکےکئی ممالک میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کرنے والے امریکا نے برمامیں مسلمانوں کے قتل عام پرانسانی حقوق کاواویلاکرکے وہاں امن فوج بھیجنے کے مطالبہ کی آڑمیں بھی ایک بھیانک سازش میں مصروف تھا۔دراصل امریکااس خطے میں ایک محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈ رہا تھاجو اس کوافغانستان میں بدترین شکست کے بعد مطلوب تھی جو پاکستان سمیت، چین اور شمالی کوریاکی نگرانی کرسکے لیکن چین نے بروقت اس سازش کو بھانپ کرون روڈ ون بیلٹ کے منصوبے کے تحت فوری طورپربرما کے ساتھ کئی تجارتی معاہدےکرکے امریکا کاراستہ مسدود کردیا۔مختصراً یہ کہ آنگ سان سوچی امریکاہی کا پیداکردہ ایک ایسا کردار ہےجوبھارت کی مددسے میانمارمیں امریکا کی راہ ہموار کرتا تھا۔اس اسرائیل کایہ سازشی دماغ ہے جودرحقیقت گریٹراسرائیل کی منزل کی طرف گامزن ہے جس کی راہ ہموار کرنے کیلئے ایران کومشتعل کرکے جاری جنگ کی آگ پر مزید پٹرول پھینکناہے تاکہ اس سارے خطے کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا جائے اوراس کی آڑمیں گریٹر اسرائیل کی تکمیل کیلئے امریکا اور مغرب کی پشت پناہی سے اپنے شیطانی منصوبے پر عملدر آمد کیاجاسکے لیکن اس سارے منصوبے کے پیچھے اگرکوئی براہِ راست رکاوٹ ہے تووہ کلمہ طیبہ کے نام پر27رمضان کی مبارک شب کومعرضِ وجودمیں آنے والاایٹمی طاقت کاحامل ملک پاکستان ہے۔ربِ کریم ہمارے پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین