Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان، نامزدگیوں کا تجزیہ

ٹرمپ20جنوری کو امریکاکے47ویں صدرکی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے تاہم حلف اٹھانے سے قبل ہی ٹرمپ نے اپنے دوسرے دورصدارت کے لئے اہم عہدوں پر نامزدگیاں کر دی ہیں۔دنیابھرکے ممالک میں بھی ان تعیناتیوں کو غورسے دیکھاجارہاہے اور اس بات کااندازہ لگایا جارہاہے کہ کون سی شخصیت اہم امور پر ماضی میں کیامؤقف اپناتی رہی ہے۔ان تعیناتیوں سے ماہرین یہ اندازہ لگانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ٹرمپ کی پالیسی کیاہوگی؟مشرق وسطیٰ پرامریکاکیا مؤقف اپنائے گااورکیاوہ اسرائیل کی حمایت ہی جاری رکھے گا؟اب تک نئی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افرادسے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کونوازرہے ہیں لیکن کیا ٹرمپ واقعی قومی سلامتی کوترجیح دیتے ہوئے آئندہ دنیا میں جاری ان تمام جنگوں کوبندکروانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس کا انہوں نے وعدہ کیاہے۔
اس تحریرمیں ہم اہم ترین عہدوں پرہونے والی ان نامزدگیوں پرنظردوڑائیں گے کہ ٹرمپ کی ٹیم کاحصہ بننے والی یہ شخصیات کون ہیں اورماضی میں ان کی سیاسی سوچ کیارہی ہے؟ اس بات کااندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ رپبلکن صدرکی جنوبی ایشیاء ،مشرقِ وسطیٰ اورخصوصاً پاکستان کے لئے کیاپالیسی ہوگی۔ٹرمپ کی ٹیم میں ایسی کئی شخصیات شامل ہیں جو ماضی میں جنوبی ایشیاء خصوصاًپاکستان اورانڈیااورمشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے اپنے نقطہ نظرکے باعث خبروں میں رہے ہیں تاہم حلف برداری سے قبل واضح طورپریہ کہنامشکل ہوگا کہ وہ کس معاملے پرکیاپالیسی اختیارکرتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک سابق فوجی کرنل مائیک والٹز کو قومی سلامتی امورکے مشیرنامزدکیاہے جوماضی میں چین کوامریکی اثرورسوخ کے لئے معاشی اورعسکری اعتبار سے سب سے بڑاخطرہ سمجھتے ہوئے اسے ایک نئی سردجنگ سے تعبیرکرتے ہیں۔اسی طرح اقوام متحدہ کے سفیرکے لئے نامزدہونے والی الیزسٹیفنک نے بھی ماضی میں چین پرالزام لگایاتھاکہ وہ الیکشن میں مداخلت کررہاہے جب یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ چینی حمایت یافتہ ہیکرزنے سابق صدرکے فون سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے چین پرتنقیدکو تجارت تک محدودرکھاہے تاہم ان کی خارجہ امورکی ٹیم چین کے نقادوں سے بھررہی ہے۔
ٹرمپ نے سیکرٹری خارجہ کے اہم عہدے کے لئے سینیٹرمارکوروبیوکونامزدکیاجوکہ ماضی میں ٹرمپ کے مخالف رہے ہیں لیکن انہیں خارجہ پالیسی امورکاایک ماہرسمجھاجاتاہے۔وہ بنیادی طورپر امریکا کے اعلیٰ سفارت کارکے طورپرکام کریں گے۔ان کی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہاکہ’’ روبیوآزادی کی ایک مضبوط آوازاورامریکا کے لئے طاقتوروکیل ‘‘ ثابت ہوں گے۔وہ کیوباکے تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔اگران کی اس عہدے کے لئے منظوری دی گئی تووہ امریکی تاریخ میں پہلے لاطینی سیکرٹری خارجہ ہوں گے۔یہ ماضی میں چین کے ناقدرہے ہیں۔
روبیوپاکستان کے قریب ترین اتحادی چین کے حوالے سے بھی انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ رواں برس ستمبرمیں انہوں نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں لکھاتھاکہ چین امریکاکاسب سے بڑااورترقی یافتہ مخالف ہے۔ کمیونسٹ چین جمہوری ممالک کانہ ابھی دوست ہے اورنہ کبھی ہو سکتا ہے۔2020ء میں چینی حکومت نے ان پرپابندی عائدکردی تھی جب انہوں نے ہانگ کانگ میں مظاہروں پر کریک ڈائون کے بعدچین کے خلاف پابندیاں لگوانے کی مہم چلائی تھی۔وہ ایران اورچین سے متعلق سخت مئوقف اپنانے کے لئے جانے جاتے ہیں۔
رواں برس جولائی میں سینیٹرمارکوروبیواس وقت بھی خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے امریکی سینیٹ میں انڈیاکی حمایت اور پاکستان کی مخالفت میں ایک بِل متعارف کروایاتھا ۔ اس بِل کانام امریکا، انڈیا دفاعی تعاون ایکٹ تھاجس کامقصد دونوں ممالک میں دفاعی شراکت داری کوبڑھانا تھاتاکہ انڈوپیسیفک خطے میں’’چین میں بڑھتی ہوئی جارحیت‘‘کو روکاجاسکے۔ انڈیاکودرپیش خطرات کے پیش نظراسے سکیورٹی تعاون مہیاکی جائے اوراس کے ساتھ دفاعی،سِول سپیس، ٹیکنالوجی اورمعاشی سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی تعاون کیا جائے۔ اس بِل میں تجویزپیش کی گئی تھی کہ ’’ٹیکنالوجی کی منتقلی‘‘کے حوالے سے انڈیاکے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جائے جوکہ امریکاجاپان، اسرائیل، کوریا اورنیٹو اتحادیوں کے ساتھ رواں رکھتاہے۔
اس بِل میں پاکستان کاذکرکرتے ہوئے کہاگیاتھاکہ کانگریس کوپاکستان کے ’’دہشت گردی اور پروکسی گروپس کے ذریعے انڈیاکے خلاف طاقت کے استعمال پرکانگریس میں رپورٹ جمع کروائی جائے۔ اگر پاکستان انڈیاکے خلاف دہشت گردی سپانسرکرنے میں ملوث پایاجاتاہے تواسے سکیورٹی کے اعتبارسے مددنہ فراہم کی جائے۔مارکوروبیوایران کے حوالے سے بھی سخت مؤقف رکھتے ہیں اوراس کو’’دہشت گرد‘‘ملک بھی قرار دے چکے ہیں۔رواں برس اسرائیل پرایرانی حملوں کے بعدمارکوروبیونے حماس کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیاپر لکھا تھاکہ اسرائیل کوایران کوویساہی ردِعمل دیناچاہیے جیساامریکا دیتا اگرکسی ملک نے ہم پر180 میزائل داغے ہوتے۔ میں چاہتاہوں کہ وہ(اسرائیل)حماس کے ہرعناصرکوتباہ کرے۔یہ (حماس)جانورہیں جنہوں نے خوفناک جرائم کیے ہیں۔روبیوخارجہ تعلقات اورانٹیلی جنس کمیٹیوں کے سینئررکن اور ٹرمپ کے سابق سیاسی حریف اور سخت ناقدرہ چکے ہیں اب وہ ان کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔یہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب سربراہ کے طورپرکام کررہے ہیں اوروہ خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے بھی رکن ہیں۔روبیوکوخارجہ پالیسی کے حوالے سے ایک شاطرماہرسمجھاجاتاہے جنہوں نے ماضی میں کہاتھاکہ روس اوریوکرین کے درمیان جاری تنازع کو’’نتیجے تک پہنچانے‘‘کی ضرورت ہے۔تاہم روبیو نے اس عہدے کے لئے اپنی نامزدگی کو ایک’’بھاری ذمہ داری‘‘ قراردیتے ہوئے کہاہے کہ وہ بطورسیکرٹری خارجہ روزانہ ٹرمپ کے ایجنڈے کے لئے کام کروں گا۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم طاقت کے ذریعے امن قائم کریں گے اورہمیشہ امریکیوں اورامریکا کے مفادات کوہرچیزپرمقدم رکھیں گے۔
فلوریڈاکے رکنِ کانگریس مائیک والٹز جو امریکی فوجی ہونے کی حیثیت سے کئی بار افغانستان، مشرقِ وسطیٰ اورافریقامیں بھی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔گزشتہ برس انڈین چینل ویون کودئیے گئے ایک انٹرویومیں انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کہا تھاکہ دہشت گردی خارجہ پالیسی کاحصہ نہیں ہوسکتی۔ چاہے وہ لشکرِطیبہ ہویادیگردہشت گردگروہ،یہ ناقابل ِ قبول ہے۔ پاکستانی حکومت ،فوج اورانٹیلی جنس کواس سے آگے بڑھناہوگااورہم ان پرصحیح سمت اختیار کرنے کے لئے دباؤڈالتے رہیں گے۔رواں برس جولائی میں فلوریڈا پولیٹکس کودیے گئے ایک انٹرویومیں ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھاکہ: ہمارے ایک صدرتھے جنہوں نے نام نہاد دولت اسلامیہ کوشکست دی تھی، ایران کوتوڑدیاتھا،ہمیشہ اسرائیل اوردیگراتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہے اورچین کوپسپائی پرمجبورکیا۔ آپ نے صدرٹرمپ کی موجودگی میں کبھی امریکامیں جاسوس غبارے نہیں دیکھے ہوں گے۔
تلسی گبارڈ امریکی فوج میں بطورلیفٹیننٹ کرنل بھی خدمات سرانجام دے چکی ہیں اوروہ اس دوران مشرقِ وسطیٰ اورافریقامیں بھی تعینات رہی ہیں۔ٹرمپ نے سابق رکن کانگریس تِلسی گبارڈکو نیشنل انٹیلی جنس کا ڈائریکٹر نامزدکیاہے۔ماضی میں تلسی گبارڈبھی پاکستان پرتنقیدکرتی ہوئی نظرآئی ہیں۔2017ء میں انہوں نے پاکستان پراسامہ بن لادن کوپناہ دینے کاالزام بھی عائدکیاتھا۔اس وقت کالعدم جماعت الدعو ہ کے سربراہ حافظ سعیدکی ایک مقدمے پررہائی پربھی تلسی نے پاکستان پرتنقیدکرتے ہوئے کہاتھاکہ حافظ سعیدممبئی حملوں کے ’’ماسٹرمائنڈ‘‘تھے جن میں چھ امریکیوں سمیت سینکڑوں افرادہلاک ہوئے تھے۔مارچ2019ء میں انہوں نے پاکستان اورامریکاکے درمیان تعلقات پرتبصرہ کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیاپوسٹ میں لکھاتھاکہ’’جب تک پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتارہے گادونوں ممالک کے درمیان تنارہے گا وقت آگیاہے کہ پاکستانی رہنماانتہاپسندوں اوردہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں‘‘۔
جون ریٹکلف ٹرمپ کے پہلے دورِصدارت میں بھی نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراب ایک مرتبہ پھران کوبطور سی آئی اے کاسربراہ نامزد کیا گیاہے۔انہیں پہلی بار 2019ء میں سابق سپیشل کونسلر رابرٹ مولرسے کانگریس میں ہائی پروفائل سوالات کرنے کے چنددن بعدنیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹرکے لئے نامزدکیاگیاتھا۔ ملرایف بی آئی کے سابق ڈائریکٹر تھے جنہوں نے روس اورٹرمپ کی2016ء کی انتخابی مہم کے درمیان ملی بھگت کے الزامات کی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔ٹرمپ نے جان ریٹکلیف کی اہلیت کے بارے میں خدشات پردونوں جماعتوں کے اعتراضات کے چنددن بعدان کی نامزدگی واپس لے لی تھی۔ 2020ء میں ٹرمپ نے جان ریٹکلیف کودوبارہ نامزدکرتے ہوئے کہاتھا کہ ’’پریس نے ان کے ساتھ بہت براسلوک کیا‘‘۔ ان کے بارے میں مشہورہے کہ وہ چین اورایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ دسمبر 2020ء میں’’داوال سٹریٹ جرنل‘‘میں ایک مضمون میں انہوں نے لکھاتھاکہ ’’انٹیلی جنس بہت واضح ہے:بیجنگ اقتصادی،عسکری اورٹیکنالوجی کے میدان میں امریکا اورپوری دنیا پربرتری چاہتاہے۔چین کی بڑی کمپنیاں اپنی سرگرمیوں کی آڑمیں چین کی کمیونسٹ حکومت کے لئے کام کرتی ہیں۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں