Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

VPN غیر شرعی اور چیئر مین نظر آتی کونسل

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل کا VPN کے استعمال کو غیر شرعی قرار دینے کا موقف مضحکہ خیز قرار کیوں دیا جا رہا ہے؟سوال یہ ہے کہ چیئرمین محترم نے یہ موقف دینے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل کے اراکین سے مشورہ کیا؟اس حوالے سے کونسل کا کوئی اجلاس بلایا ؟ اس خاکسار کی معلومات کے مطابق بالکل بھی نہیں،ا چھے بھلے معاملے کو بگاڑنے کا فن کوئی ہم سے سیکھے،سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توہین رسالت،،،توہین مذہب وغیرہ کا ارتکاب فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے کیا جا رہا ہے،،،جبکہ فحاشی کو فروغ ٹک ٹاک کے ذریعے دیا جا رہا ہے،اب کوئی چیئرمین ’’نظر آتی کونسل‘‘سے پوچھے کہ فیس بک، واٹس ایپ اور ٹک ٹاک شرعی ہے یا غیر شرعی؟ اس خاکسار نے ،ممتاز دانشور اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مفتی محمد زبیر کو جب اس حوالے سے کریدنے کی کوشش کی تو انہوں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بڑے کھرے انداز میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ایک عرصہ سے سنتے آرہے ہیں کہ کئی ویب سائیٹس پر توہین رسالت اور توہین مذہب کا مواد شئیر کیا اور لکھا جاتا ہے، کئی علماء اور اس موضوع پر کام کرنے والے حضرات کے متعدد اجلاسوں میں جب اس طرح کی تفصیلات سامنے آئیں تو شدید ترین ذہنی وقلبی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا ، مفتی زبیر حق نواز نے بتایا کہ ہر ایسے موقع پر انہوں نے یہ رائے دی کہ ایسی ویب سائیٹس کو بجائے کل کے آج اور ابھی اسی وقت فی الفور بند کر دیا جائے، حتیٰ کہ انہوں نے یہ تک بھی کہا ہے کہ اس خباثت کو بند کرنے کے لئے اگر بالفرض کوئی راستہ نہ بچے اور توہین کا سلسلہ ختم کرنے کے لئے پورا سوشل میڈیا بھی بند کرنا پڑے تو بند کیا جائے، مگر توہین کا سلسلہ ختم ہونا چاہئیے، ہرایسے موقع پر بعض لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ جی سوشل میڈیا کے بغیر ترقی نہیں ہوسکتی، اور یہ جدیدیت کے خلاف ہے وغیرہ ،وغیرہ، تو یہاں سوال یہ ہے کہ کیا چین نے ترقی کی ہے یا نہیں ؟ظاہر ہے اس کی ترقی کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔جبکہ چائنا میں فیس بک ، ٹوئیٹر یوٹیوب حتیٰ کہ اگر گوگل تک نہیں ہے تو کیا اس سے چین کی ترقی رک گئی؟چائنا کا عروج اور ترقی آج ساری دنیا کے سامنے ہے، کیا کسی فیسبک ،واٹس ایپ،وی پی این یا ٹک ٹاکر کے باپ میں جرات ہے کہ وہ چین کی ترقی کو روک سکے؟اسی طرح کیا عرب ممالک نے ترقی نہیں کی؟ وہاں سوشل میڈیا کی ایسی آزادی ہے کیا ؟ تو کیا ان کی بھرپور ترقی ساری دنیا کے سامنے نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہماری چاہت یہ ہے کہ کسی سیاست کے مقصد وغیرہ سے قطع نظر ہر قسم کی توہین کا سلسلہ بند کرنے اور لوگوں کی جانوں کی حفاظت یعنی دہشت گردی سے بچائو وغیرہ کے لئے ہرطرح کے اقدامات بہرصورت ناگزیر ہیں۔جو بہت پہلے سے کرنے چاہئیں تھے۔ اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے وی پی این کااستعمال غیرشرعی قراردیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے، حکومت و ریاست کو شرعی لحاظ سے اختیا ر ہے کہ وہ برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کا انسداد کرے،لہٰذا غیر اخلاقی اور توہین آمیز مواد تک رسائی کو روکنے یا محدود کرنے کے لئے اقدامات کرنا،جن میں وی پی این کی بندش شامل ہے،شریعت سے ہم آہنگ ہے اور کونسل کی پیش کردہ سفارشات و تجاویز پر عمل در آمد ہے،لہٰذا ان اقدامات کی ہم تائید و تحسین کرتے ہیں۔انٹرنیٹ یا کسی سافٹ وئیر(وی پی این وغیرہ)کا استعمال،جس سے غیر اخلاقی یا غیر قانونی امور تک رسائی مقصود ہوشرعا ممنوع ہے۔
ریاست کی طرف سے وی پی این (VPN) بند کرنے کا اقدام قابلِ تحسین ہے، وی پی این کا استعمال اس نیت سے کہ غیر قانونی مواد یا بلاک شدہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کی جائے، شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔ حکومت کو بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے ذرائع اور ٹیکنالوجیز کے استعمال پر موثر پابندی عائد کی جائے جو معاشرتی اقدار اور قانون کی پاسداری کو متاثر کرتے ہیں ، ڈاکٹرراغب حسین نعیمی نے ایک سوال وی پی این (VPN) کا استعمال شرعی اعتبار سے جائز ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب اسے بلاک شدہ یا غیر قانونی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے؟ کے جواب میں رہنمائی کرتے ہوئے مزید کہاکہ وی پی این (VPN) ایک تکنیکی ذریعہ ہے جس کے ذریعے صارفین اپنی اصل شناخت اور مقام کو مخفی رکھ سکتے ہیں۔چیئر مین ’’نظر آتی کونسل‘‘ کی اس ذاتی رائے کو ’’کونسل‘‘کی طرف منسوب کرنا بذات خود باریک واردات کے مترادف ہے ،اللہ اسلامی نظریاتی کونسل کے حال پر رحم فرمائے، اقبال خان، مولوی محمد خان شیرانی ،قبلہ ایاز اور اب ڈاکٹر راغب نعیمی،ان سب چیئرمینوں کے لئے خیراں ای خیراں، اسلام کو کسی کونسل کا پابند بنانے کی بجائے اگر کونسلوں کو اسلام کا پابند بنا دیا جائے،تو اس سے معجزاتی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں،نجانے یہ باتیں کن دل جلوں نے اڑا ئی ہوئی ہیں کہ اسلامی’’نظر آتی کونسل‘‘میں چئیرمینی کا عہدہ رشوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،میں ان باتوں کو چاہے مسترد بھی کر دوں تب بھی چیئرمینوں کی حالت زار ’’قابلیت‘‘سے بڑھ کر’’قبولیت‘‘ والی ہی نظر آتی ہے، اور رہ گئی ’’امریکی سائے‘‘کی بات، یہ موضوع کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔
جناب عالیٰ،عوام روٹی روزی کے چکر میں بھلکڑ ضرور ہیں،مگر اتنے بھی نہیں،کہ نائن الیون کے بعد امریکی دستر خوان پر ڈالر خوری کرنے والی ’’خصوصی لاٹ‘‘ کو بھول جائیں، ہمیں یاد ہے وہ ذرا ذراتمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہوجاننے والے جانتے ہیں کہ اس وقت جن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ایپلیکیشنز کے ذریعے گستاخانہ اور فحش مواد کے تشہیر کی جا رہی ہے، ان تک رسائی بغیر وی پی این کے استعمال کے حاصل ہو جاتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ فضول بحث مباحثوں کی بجائے وی پی این کو رجسٹر کیا جائے اور غیر رجسٹرڈ تمام وی پی این کو بلاک کر دیا جائے تاکہ وی پی این کے ذریعے سوشل میڈیا پر کیے جانے والی تمام سر گرمیوں سے بھی متعلقہ ادارے اگاہ رہیں۔

یہ بھی پڑھیں