Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

فائنل کال اور امریکی خط

برصغیر کی سیاست میں جیل، تشدد اور احتجاج نہ ہو تولیڈر بنتا ہی نہیں ، کون لیڈر ہے اور کون گیدڑ اس کا پتہ بھی جیل میں ہی چلتا ہے ، لیڈر ہمیشہ تحمل ، بردباری اور وقار سے جیل کاٹتا ہے ، کاٹنے کو نہیں دوڑتا،سہولیات کی کمی کا رونا نہیں روتا ۔ بعض بھرم باز بھی سیاسی بنیادوں پر جیل پہنچ جاتے ہیں ، وقت کی ہوا ا س چھان بورے کو جلد اڑا کر دائیں بائیں کر دیتی ہے،اور پھر کسی کو ان کا نام بھی یادنہیں رہتا۔دشمن کی انگلیوں پر ناچنے اوراغیار کی سازشوں میں مہرہ بننے والےوقتی طور پر لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں،دھوکہ دے سکتے ہیں لیکن اس کی عمر کبھی طویل نہیں ہوتی۔ بر صغیر کی سیاست میں ماسٹر تارا سنگھ اس کی بہترین مثال ہے،ہمارے ہاں کے کلٹ لیڈر کی طرح اس دور کے سکھ نوجوان اس کے اشارے پر مارو یا مرجائو پر تیار رہتے تھے،1947کا قتل عام اسی کے خبث باطن کی ایک جھلک ہے،آج اس کا کوئی نام لیوا بھی نہیں۔
24نومبر کو ’’مارو یا مرجائو ‘‘کی فائنل کال پر مخالفین ہی نہیں اپنے بھی حیران تھے کہ ایسی کونسی آفت آن پڑی ، لیکن امریکی صدر کے نام ارکان کانگریس کے خط نے سب کچھ طشت از بام کردیا ہے کہ جلدی کیا تھی ؟ اورکسے تھی؟کلٹ لیڈر کی حمائت میں امریکہ کی ایک مخصوص لابی کی تلملاہٹ کوئی نئی بات نہیں ،ایک مسلسل عمل ہے جو حکومت ختم ہونے کے فورا ً بعد سے جاری ہے،اس حالیہ خط کا تجزیہ ان کے ماضی ، حال اور مستقبل کی پوری داستان بیان کرنے کو کافی ہے۔امریکی کانگریس کے 46 اراکین نے صدرِ امریکہ کو خط لکھا ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے اقدامات کی درخواست کی ہے،اس گرفتاری کا انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فلسطین میں ایک سال سے قتل عام جاری ہے،43ہزار لوگ مارے جا چکے ہیں ، جن میں 80 فیصد بچے اور خواتین ہیں ، مگر انسانی حقوق کے ان ٹھیکیداروں کو ایک لفظ بھی مذمت میں کہنے کی توفیق نہیں ہوئی،کیوں ؟ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی اوپن جیل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے ،دسیوں کشمیری قائدین جیل میں جان کی بازی ہار گئے ، یاسین ملک زندگی وموت کی کشمکش میں ہے ، انسانی حقوق کے یہ نام نہاد چمچے وہاں منقار زیر پر ہیں اور پاکستان میں کرپشن سمیت بے شمار مقدمات میں ملوث ایک شخص کی گرفتاری اور قید انہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے،یہ نابغے آخر ہیں کون ؟ زیادہ محنت کی ضرروت نہیں صرف گوگل سے چیک کرلیا جائے تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں معلوم ہوجاتا ہے کہ جن 46 ارکان کانگریس نے بائڈن کو خط لکھا ہے ، ان میں سے 30 صہیونی اسرائیلی لابی ’’امریکہ اسرائیل پبلک افیئر کمیٹی‘‘ کے رکن ہیں ، اس کے فنڈز پر سیاست کرتے ہیں۔ان سب کے نام اے آئی پی اے سی (AIPAC) کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ اس گروپ کا سربراہ بریڈ شرمین امریکی کانگریس کی ہاؤس اسرائیل کاکس کا چیئر مین ہے جو جنوری 2023 سے مسلسل پاکستانی سیاست میں مداخلت ہی نہیں کر رہا بلکہ کلٹ کے پیرو کار بھی اس سے مسلسل رابطے میں ہیں ۔ ان 46 اراکین میں سے 26 ارکان امریکہ کانگریس کے ہاؤس انڈیا کاکس کے رکن ہیں، جو امریکی کانگریس میں بھارت کے حق میں قوانین کو فروغ دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ انڈیا کاکس کا چیئرمین رو کھنہ بھی خط لکھنے والوں میں شامل ہے،یعنی10ارکان وہ ہیں جو اسرائیل اور انڈیا لابی کے مشترکہ رکن ہیں ، تیسرا ان کے درمیان اتفاق پاکستان میں اپنے اثاثے کے تحفظ پر ہے ۔ چند ماہ قبل بھی ایسا ہی ایک خط 60 کانگرس اراکین نے لکھا تھا اور عمران خان کی رہائی سمیت پاکستانی فوج پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ان 60میں سے 9 کٹر یہودی نسل پرست نکلے،29 اسرائیل کے کھلم کھلا حمایتی اور کاکس کے رکن ، 13 انڈین کاکس کے رکن ،اور 21 کٹر پاکستان مخالف تھے ۔ یہی لابی اب بھی متحرک ہے۔
بریڈ شرمین اور امریکیوں کی کھلی حمائت کوئی نئی داستان نہیں ہے ، بلکہ ابھی وہ کاغذ بھی میلا نہیں ہوا تھا ،جو لہرا کر اپنی حکومت کے خاتمہ میں امریکی سازش کا الزام لگا کر قوم کے جذباتی نوجوانوں کو گمراہ کیا گیا تھا کہ صرف 5ماہ بعد بزم ’’ہم نفساں‘‘ بپا ہوگئی تھی اور سابق امریکی سفارت کار اور سی آئی اے کی تجزیہ کار رابن رافیل بنی گالا پہنچ چکی تھی۔دوسری جانب امریکہ میں موصوف کے نمائندگان نہ صرف سابق وزیر خارجہ مائیک پامپیو اور امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین مائیک مک کال سے ملاقاتیں کر رہے تھے ، بلکہ آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن جم بینکس سے بھی ملاقاتیں کر رہے تھے ۔ اس سب کے نتیجے میں مارچ 2023 میں امریکی وفد نے زمان پارک لاہور میں واقع موصوف کی رہائش گاہ جا کرملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت کیلیفورنیا اسمبلی کے رکن کرس ہولڈن،وینڈی کیری،مائیک گپسن،اور ریزایلوئس کر رہے تھے ۔ملاقات میں کیا وعدے ہوئےاور کیا یقین دہانیاں کروائی گئیں ، وہ امریکی اور دیگر ممالک کے میڈیا میں شائع ہو چکا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ بریڈ شرمین کیوں اتنا متحرک ہے؟ اس کا جواب اس کے اپریل 2023 میں امریکی وزیرخارجہ کو لکھے گئے خط میں موجود ہے ، جس میں وہ لکھتا ہے کہ ’’ یہ امریکی مفاد میں ہے کہ پاکستان میں عمران خان کو سپورٹ کیا جائے ۔‘‘ یہی اسرائیل کاکس کا سربراہ بریڈ شرمین 21مارچ2024 کو امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں مطالبہ کرتا ہےکہ ’’ پاکستان میں امریکی سفیر جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرے۔‘‘ اسی اجلاس میں وہ مشہور زمانہ ڈیوڈ لو جس کا نام لے کر سائفر کہانی گھڑی گئی اور اسے پی ٹی آئی کا دشمن قرار دیا گیا ، اس نے کہا کہ ’’عمران خان کے معاملہ میں ہم پاکستانی حکام سے اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔‘‘ اس سے قبل فروری 2023میں بریڈ شرمین نے کھل کر بتایا کہ وہ عمران کی حمائت کیوں کر رہا ہے ، وائس آف امریکہ سے انٹر ویو میں اس نے کہا کہ ’’پاکستان میں ایسی حکومت چاہتے ہیں جو امریکہ کے ساتھ معاملات آگے بڑھائے۔‘‘ یہ حقائق وہ ہیں ، جو آن دی ریکارڈ ہیں اور میڈیا پر ہر ایک کی رسائی میں ہیں ، ان سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکی ارکان کا خط اور 24نومبر کے’’ مارو یا مرجائو‘‘میں کیا تعلق ہے ، اور اس آخری کال کا مقصد کیا ہے ۔ اس سب کے باوجود احتجاج اپوزیشن کا حق ہے ، اگر وہ پر امن رہیں تو طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ، لیکن اگر کوئی نیا 9مئی تخلیق کرنے کا خواہش مند ہو تو پھر قوم اور قومی اثاثہ جات کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، جس میں کوتاہی کی ان گنجائش نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں