(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکی سیاست اورپالیسی سازوں پرگہری نظررکھنے کے بعدیوں لگتاہے کہ ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل واضح طورپریہ کہنا مشکل ہوگاکہ وہ کس معاملے پر کیاپالیسی اختیارکرتے ہیں۔تاہم یہ واضح ہے کہ پاکستان ٹرمپ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور اگرہم ٹرمپ کی جانب سے عہدوں پرنامزدکی گئی شخصیات کے بیانات دیکھیں تولگتاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنے نظریات کے مطابق ہی کام کرے گی۔تاہم پالیسی سازی میں نظریات کاعمل دخل کم ہی ہوتاہے۔پالیسی سازی میں نظریات سے کام نہیں لیاجاسکتا بلکہ یہ پیچیدہ مشکلات سے نمٹنے کاایک طریقہ ہوتاہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ شخصیات متعدد موضوعات پرسخت مؤقف رکھتے ہیں لیکن ضرورت پڑنے پروہ کمزورآنے کے ڈر کے بغیراپنے عملیت پسند ہونے کی گنجائش بھی پیداکر لیتے ہیں۔ بالآخران سب کو صدرکی ایماپرہی کام کرناپڑے گااورٹرمپ کوئی نظریاتی شخصیت نہیں بلکہ ڈیل میکرہیں اورجنگوں کے خلاف ہیں۔جہاں تک پاکستان کی بات ہے تمام پالیسیاں پہلے جیسے ہی رہیں گی،اگرمعاملات خراب نہیں ہوتے یا پاکستان کسی بڑے بحران کاشکارنہیں ہوجاتا۔ پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کے لئے تیسرے درجے کی ترجیحات میں ہی رہے گایاپھرپاکستان کونئی آنے والی انتظامیہ کے سامنے خودکومددگارثابت کرناہوگالیکن چین کی دوستی ایک چیلنج کی طرح ہرحال میں مقدم ہوگی۔
نئی امریکی انتظامیہ کوچیلنجزکے ایک انبار کا سامناہے۔پاکستان خصوصاًاس کی اندرونی سیاست اور اس کاانڈیاسے تعلق ان کی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے ہوں گے۔نئی ٹرمپ انتظامیہ کی تمام ترتوجہ پہلے مشرقِ وسطیٰ اورخصوصاً ایران پرہوگی۔ قوی امکان یہی ہے کہ ٹرمپ کی مشرق وسطیٰ پالیسی کی بنیاد’’ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ڈالنے پرہوگی اوران کی کوشش ہوگی کہ معاہدہ ابراہیمی کوایک مرتبہ پھرزندہ کیاجائے اورتوجہ اس بات پررکھی جائے کہ سعودی عرب اسرائیل کوبطورریاست تسلیم کرلے۔تاہم ایساہونااس لیے مشکل ہے کیونکہ فلسطین کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور ریاض میں ہونے والی اسلامی کانفرنس میں سعودی ولی عہد نے اپنی تقریرمیں واضح طورپراسرائیل کوفوری طور پر جنگ بند کرنے اورایران پرحملہ ہونے کی صورت میں اپنے تعاون کابھرپوریقین دلایاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ افغانستان سے فوج کے انخلاکے بعدامریکاکی نگاہ میں پاکستان کی اہمیت کم ہوئی ہے اس لئے پاکستان ابھی واشنگٹن کے ریڈار پرنہیں ہے۔پاکستان اورچین کے درمیان سٹریٹجک تعلقات اورانڈیااورامریکاکے درمیان شراکت داری کے بیچ میں ہی پاکستان کوکوئی گنجائش نکالناہوگی اورامریکاسے تعلقات کوبہتربناناہوگا۔ تاہم ٹرمپ کی ٹیم میں چین مخالف شخصیات اگر پاکستان کوچین یاانڈیا کے لینس سے دیکھتی ہیں توامریکااورپاکستان کے درمیان معنی خیز دوطرفہ تعلقات کی گنجائش مزیدسکڑ جائے گی۔اس لئے اندازہ یہی ہے کہ نئی انتظامیہ کی پالیسی میں شاید پاکستان کے لئے کوئی خوشگوارتبدیلی دیکھنے میں نہ آئے۔
امریکی پالیسی سازیہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کونظراندازکرنے کی پالیسی اورواشنگٹن میں طاقت کے ایوانوں تک اسلام آبادکو رسائی نہ دیناپاکستان کوایک مشکل پوزیشن میں رکھنے کے لئے مناسب ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ایران اورچین کے مقابلے میں پاکستان کے پاس زیادہ موقع ہے کہ وہ کچھ کوششیں کرکے ٹرمپ انتظامیہ سے تعلقات بہترکرسکیں۔
مائیک ہکابی اسرائیل کے لئے امریکاکے نئے سفیرہوں گے۔اگرچہ وہ13سال میں اس عہدے پرآنے والی وہ پہلی شخصیت ہیں جو یہودی نہیں لیکن 69سالہ ہکابی ایک طویل عرصے سے اسرائیل کے حق میں آوازاٹھاتے رہے ہیں۔2008ء میں مائیک ہکابی نے ایک بیان میں کہاتھاکہ’’فلسطین نام کی کوئی چیزہی نہیں۔مائیک ہکابی کی نامزدگی پراسرائیل کے وزیربرائے قومی سلامتی ایتامیربین گویرنے سوشل میڈیاپران کانام جھنڈے اوردل کی ایموجیزکے ساتھ شیئرکیا۔امریکی ریاست آرکنساس کے سابق گورنرنے اپنا پہلا دورہ اسرائیل1973میں کیااوراس کے بعد سے وہ وہاں جانے والے درجنوں عیسائی مشنوں کی قیادت کرتے رہے۔2018ء میں اسرائیل کے دورے کے دوران مغربی کنارے پرایک نئے ہائوسنگ کمپلیکس کے لئے اینٹیں بچھاتے ہوئے انہوں نے کہاتھاکہ وہ’’کسی دن یہاں گھرخریدناپسند کریں گے‘‘۔
چنددن قبل ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے ڈونراوررئیل سٹیٹ ٹائیکون’’سٹیووٹکوف‘‘کوامن کے لئے ایک ان تھک آوازاوراسے اپنا فخرقراردیتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے لئے خصوصی ایلچی نامزدکیا ہے۔ یاد رہے کہ سٹیوٹرمپ کے قریبی دوست ہیں اورطویل عرصے سے ان کے گولف پارٹنرہیں۔درحقیقت،وٹکوف ستمبرمیں ٹرمپ پردوسرے قاتلانہ حملے کے دوران ان کے ساتھ گولف کھیل رہے تھے۔سٹیو نے مین ہٹن فراڈکیس میں عدالت میں ٹرمپ کے دفاع میں گواہی دی تھی۔دونوں کی ملاقات 1986ء میں کاروباری لین دین کے بعدہوئی تھی۔سٹیو کے مطابق اس وقت ٹرمپ کوسینڈوچ خریدکردیاتھاکیونکہ اس وقت ٹرمپ کے پاس کوئی کیش رقم نہیں تھی۔
پیٹ ہیگستھ ماضی میں امریکی فوج کے ساتھ بھی منسلک رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ فاکس نیوزکے میزبان بھی رہ چکے ہیں۔وہ فوجیوں کی وکالت کرنے والے دوگروپس کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں۔انہوں نے مینیسوٹامیں سینیٹ کی نشست کے لئے الیکشن میں بھی حصہ لیاتھالیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔ٹرمپ نے پیٹ ہیگستھ کوسیکرٹری دفاع کے عہدے کے لئے نامزدکرتے ہوئے لکھا ہے کہ’’وہ سخت،ذہین اورسب سے پہلے امریکاکوحقیقی معنوں میں مانتے ہیں۔پیٹ کی وجہ سے ہماری فوج دوبارہ بہترین بنے گی اورامریکاکبھی گرے گانہیں۔فوجیوں کے لئے کوئی بھی نہیں لڑتااور پیٹ ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘کی ہماری پالیسی کے دلیراورمحب وطن چیمپئن ہوں گے‘‘۔
فلوریڈاکے50برس کے رکن کانگرس مائیک والٹز ماضی میں امریکی فوج کاحصہ رہے اورکئی بار افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقاکادورہ کرچکے ہیں۔ان کوٹرمپ کے دوسرے دور صدارت میں قومی سلامتی کے نئے مشیرکے طورپرنامزدکیا گیا ہے۔وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کے حامی ہیں۔ایکس پراپنے پیغام میں انہوں نے لکھاکہ وہ ٹرمپ کی کابینہ میں خدمات سرانجام دینے پر’’بہت اعزاز‘‘محسوس کرتے ہیں۔ہماری قوم کی اقدار،آزادی اورہرامریکی کی حفاظت کادفاع کرنے سے بڑھ کرکوئی چیزنہیں‘‘۔
مسلح افواج کی سب کمیٹی کے سربراہ مائیک والٹزچین کے بارے میں سخت مؤقف رکھتے ہیں اوراس بات پرزوردیتے ہیں کہ بحرالکاہل میں تنازعات کے لئے امریکاکومزیداقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکاکو یوکرین کے لئے اپنی حمایت برقراررکھنی چاہیے لیکن حالیہ عرصے میں اس جنگ کے لئے امدادپروہ امریکی اخراجات کے دوبارہ جائزے کی وکالت بھی کرتے ہیں۔
ٹرمپ کے بڑے حامی اورفنانسرایلون مسک اورسابق رپبلکن صدارتی امیدواروویک رامسوامی کوبھی ٹرمپ نے حکومتی کارکردگی کے نئے محکمے کی قیادت کرنے کاکام سونپاہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے سب سے اہم حامی سمجھے جانے والے اور دنیاکے امیرترین افرادمیں شامل ایلون مسک نے ان کی انتخابی مہم کو11کروڑ90لاکھ کافنڈدیا ٹرمپ نے ایک بیان میں کہاکہ’’یہ دو شاندارامریکی مل کرمیری انتظامیہ کے لئے سرکاری بیوروکریسی کوختم کرنے،اضافی ضابطوں میں کمی،فضول اخراجات میں کمی اوروفاقی ایجنسیوں کی تنظیم نوکرنے کے لئے راہ ہموارکریں گے،جو’’امریکا بچاؤ‘‘تحریک کے لئے ضروری ہے‘‘۔
ٹرمپ انتظامیہ میں ملنے والی اس ذمہ داری پرردعمل دیتے ہوئے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلاکے سربراہ ایلون مسک نے لکھا کہ’’یہ نظام میں شامل افرادکو ہلا کررکھ دے گا‘‘ ۔ دوسری جانب وویک رامسوامی نے بھی لکھاکہ وہ’’کوئی رعایت نہیں برتیں گے‘‘۔ اسی طرح ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنوبی ڈکوٹاکی گورنرکرسٹی نوم کومحکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہی کے لئے مقرر کریں گے۔نوم کانام موسم گرمامیں ایک ممکنہ نائب صدرکے امیدوارکے طورپرسامنے آیاتھا۔وہ طویل عرصے سے ٹرمپ کی اتحادی رہی ہیں اورانہوں نے منتخب صدرکے لئے بھرپورمہم بھی چلائی۔رواں برس وہ میڈیاکی شہ سرخیوں میں بھی رہی تھیں،جب انہوں نے انکشاف کیاتھاکہ انہوں نے اپنے کتے کوگولی سے ماراکیونکہ یہ’’غیرتربیت یافتہ اورخطرناک‘‘تھا۔
ان نامزدگیوں سے یہ معلوم ہوتاہے کہ ٹرمپ اپنے حامیوں کونوازرہے ہیں اوردوسرایہ کہ چین اورایران کے ساتھ انتہائی سخت مؤقف رکھتے ہوئے اسرائیل کی کھل کرحمائت کریں گے جس سے ان کے جنگ بندکرانے کاانتخابی وعدہ مشکوک ہوگیا ہے۔