سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کی مکمل سدباب کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کا حکم دینے کے لئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کر دی گئی۔مرکزی جنرل سیکرٹری تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کی جانب سے وفاقی سیکرٹری وزارت آئی ٹی،چیئرمین پی ٹی اے اور وفاقی سیکرٹری وزارت دفاع کو فریق بناتے ہوئے دائر کی گئی پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وفاقی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کا سدباب کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلوں کے باوجود اس حوالے سے اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے سے گریزاں ہیں۔پٹیشن میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے کو حکم دیا جائے کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری مقدس ہستیوں کی توہین مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے بالخصوص اور،پاکستان،نظریہ پاکستان، پاکستان کی سالمیت و دفاع اور ریاستی اداروں کے خلاف مہم کے سدباب کے لئے بالعموم تمام ممکنہ اقدامات بلاتاخیر کرے۔اگر پی ٹی اے مذکورہ مہم کے مکمل سدباب کی استعداد نہیں رکھتا تو پھر وفاقی وزارت دفاع کو حکم دیا جائے کہ وہ سلمان شاہد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو آئی ایس آئی کے نمائندے کی جانب سے دیئے گئے بیان کی روشنی میں مذکورہ مہم کے مکمل سدباب کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کرے۔بصورت دیگر جن سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور ایپلی کیشن پر مذکورہ مہم جاری ہے،انہیں پاکستان میں بلاک کرنے کا حکم صادر کیا جائے۔
پٹیشن میں فاضل عدالت عالیہ سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ پی ٹی اے کو حکم صادر کیا جائے کہ وہ پیکا 2016ء کی دفعہ 37اور وفاقی وزارت آئی ٹی کی جانب سے پی ٹی اے کے لئے مرتب کردہ غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے،بلاک کرنے کے متعلق رولز 2021ء کے تحت اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے مذکورہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنائے۔مذکورہ پٹیشن کو سماعت کے لئے منظور کر لیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں مزید اضافہ ہو گیا۔صرف فیس بک پر 200سے زائد اکائونٹس،پیجز اور گروپس گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے لئے فعال ہیں۔مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف تحریک تحفظ ناموس رسالت پاکستان کی طرف سیہائیکورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہاعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ مذکورہ مہم میں ملوث مجرمان کو قانون کی گرفت میں لانے کے لئے متحرک ہے۔ اس وقت تک تقریبا ً 450 ایسے مجرمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے کہ جو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث تھے۔مذکورہ مہم میں بڑی تعداد میں مجرمان ملوث ہو رہے ہیں۔کتنے مجرمان کا ٹرائل کیا جا سکتا ہے؟اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے مکمل سدباب کے لئے اقدامات کرے۔تاہم یہ امر باعث تشویش ہے کہ وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے سپریم کورٹ،اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے متعدد احکامات کے باوجود مذکورہ مہم کے سدباب کے لئے اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنے سے مسلسل گریزاں ہیں۔جس کی وجہ سے مذکورہ مہم میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گیارہ نومبر کو وفاقی وزارت مذہبی امور نے بھی پی ٹی اے کو خط لکھ کر یہ درخواست کی ہے کہ پی ٹی اے مذکورہ گستاخانہ اور فحش مواد کی تشہیری مہم کے سدباب کے لئے ترجیحی بنیادوں پر تمام ممکنہ سخت اقدامات کرے۔پی ٹی اے کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم،ایپلی کیشن کو غیر قانونی،قابل اعتراض اور گستاخانہ مواد کو کسی بھی صورت اپلوڈ نہ ہونے دینے کا پابند کرے۔بصورت دیگر پی ٹی اے کسی بھی ایسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم،ایپلی کیشن کو بلاک کر سکتا ہے،جن پر غیر قانونی مواد اپلوڈ کیا جارہا ہو۔غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹانے،بلاک کرنے کے متعلق رولز 2021کے تحت لازم تھا کہ پانچ لاکھ سے زائد صارفین والے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم،ایپلی کیشن اور کمپنیز تین ماہ کے اندر اپنی رجسٹریشن پی ٹی اے کے پاس کروائے۔مزید یہ کہ مذکورہ رولز کے تحت پانچ لاکھ سے زائد صارفین والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،کمپنیز اور ایپلی کیشنز کے لئے یہ بھی لازم تھا کہ وہ تین ماہ کے اندر نہ صرف یہ کہ اپنے دفاتر پاکستان میں کھولیں بلکہ اپنے compliance اور grievance آفسر کی تعیناتی بھی کریں۔تاکہ انہیں پاکستان کے قوانین کا پابند بنایا جاسکے۔
پی ٹی اے نے مذکورہ رولز کے نافذ العمل ہونے کے دن سے لے کر تین ماہ کے اندر مذکورہ رولز پر عملدرآمد کروانا تھا۔تاہم مذکورہ رولز کے نافذ العمل ہونے کو تقریبا ًچار سال گزر جانے کے باوجود بھی پی ٹی اے مذکورہ رولز پر عملدرآمد نہیں کروا سکا۔پٹیشن میں مزید موقف اختیار کیا گیا ہے کہسوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف 2017ء میں سلمان شاہد کیس میں آئی ایس آئی کے نمائندے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے روبرو یہ بیان دیا تھا کہ آئی ایس آئی کو یہ استعداد کار حاصل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ مہم کا سدباب اور مذکورہ مہم میں ملوث مجرمان کا سراغ لگا سکے۔آئی ایس آئی کے نمائندے کے مذکورہ بیان کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے سلمان شاہد کیس کے فیصلے میں نقل کیا ہے۔اگر وفاقی وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرنے سے مسلسل گریزاں اور مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے مکمل سدباب میں ناکام ہیں تو پاکستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ وفاقی وزارت دفاع کو آئی ایس آئی کے نمائندے کی جانب سے دیئے گئے مذکورہ بیان کی روشنی میں سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے مکمل سدباب کے لئے اقدامات کرنے کا حکم دیا جائے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک اسلامی نظریاتی مملکت کہ جو خیر سے ایٹمی قوت بھی ہے کے حکمران رسول اللہ ﷺصحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اطہار ؓکے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر چلنے والی گستاخانہ مہم کو روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں، تو پھر یہ عوام کہاں جائیں؟ کس سے شکوہ کریں ؟کس کو حال دل سنائیں؟ انتہائی الم ناک صورتحال یہ ہے کہ عدالتوں میں بار بار گستاخانہ مواد کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے معاملات زیر بحث اتے ہیں، عدالتوں کے ججز صاحبان ایف ائی اے اور پی ٹی اے سمیت دیگر وزارتوں اور اداروں کو گستاخانہ مہم کو روکنے کے ارڈر جاری کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ادارے اس بدترین گستاخانہ مہم کو روکنے میں مکمل ناکام نظر ارہے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے 24کروڑ مسلمانوں میں بے چینی بے یقینی اور غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے، اگر حکومت سوشل میڈیا پر جاری بدترین گستاخانہ مہم روکنے میں یوں ہی مجرمانہ غفلت برتتی رہی تو مجھے ڈر یہ ہے کہ کہیں پاکستان کے عوام گستاخانہ مہم کے خلاف پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔