Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

کیا امریکا کے دن گزر چکے ہیں؟

نائن الیون کے بعدباقاعدہ ایک سازش کے تحت پینٹاگون کے کرنل رالف پیٹرنے خطے کے جاری کردہ نقشے میں پاکستان کے کئی ٹکڑے دکھاتے ہوئے تاریخوں کاتعین بھی کیالیکن ہرسال اپنی خباثت کو چھپانے کے لئے مختلف توجیہات سامنے لاتارہا۔ پاکستانی میڈیا میں جب ہرطرف سناٹاتھاتواس وقت بھی قلمی دلائل کے ساتھ اس کامفصل جواب دیتارہا اورآخر میں28اگست 2017 ء کومیں نے ایک آرٹیکل ’’کیا امریکاٹوٹ جائے گا‘‘جب تحریرکیاتواس وقت چاروں طرف سے کئی جغادریوں نے یورش کردی اورکئی ایک امریکاکے نمک خواروں نے بھکاری کی خواہش قرار دیتے ہوئے بڑاتمسخراڑایا لیکن آج خودامریکا کی کئی امیرریاستوں میں یہ مطالبہ سامنے آناشروع ہوگیا ہے کہ ہماری ریاستوں کاٹیکس جنگی جنون کی تکمیل کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی چاہے اس کیلئےیونائیٹڈسٹیٹ آف امریکا سے چھٹکارہ کیوں نہ حاصل کرناپڑے گویاسوویت یونین کے طرح امریکابھی اب ٹکڑے ہونے جا رہاہے۔
آج سے چندماہ قبل بھی کیاکوئی سوچ سکتاتھا کہ ایک متکبرشخص ٹرمپ جب ننگرہارپرغیرجوہری بموں کی ماں کے نام سے موسوم سب سے بڑابم گراکردنیاکویہ کہہ کرڈرائے گاکہ امریکاجب چاہے اس دنیاکوپانچ منٹ میں خاکسترکرسکتاہے لیکن میرے رب کی طاقتوں کانہ دکھائی دینے والاایک انتہائی چھوٹاجراثیم کرونا وائرس کی شکل میں ایساواردہواکہ اس نے پوری دنیاکو ہلاکر رکھ دیا ہے۔واحدسپرپاوراوراس کے اتحادی بھی پریشان ہوگئے۔پریشان کیسے نہ ہوتے؟ معیشت کاپہیہ مکمل طور پررک چکا تھا۔ پیداواری عمل معطل ہوگیا تھا ۔تجارتی سرگرمیاں ایسی ماندہوئی ہیں کہ امریکی پٹرول پانی سے بھی سستاہوگیاہے۔تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے۔صارفین کااعتمادخطرناک حدتک ایسامجروح ہواکہ ابھی تک پوری طرح بحال ہونے کانام نہیں لے رہا۔ اگرکوروناکی وباجلدختم نہ ہوتی توخطرہ کالارم بج اٹھاتھا کہ امریکاکے مالیاتی اور زرعی طور پر دیوالیہ ہونے پرایک ایسے معاشی بحران کو روکناممکن نہ ہوگاجوامریکا کے ساتھ ساتھ باقی دنیاکوبھی لپیٹ میں لے گااور معاملات کو انتہائی خرابی تک پہنچادے گا ۔
کورونانے عالمی معیشت کے بنیادی ڈھانچے کی بہت سی خامیوں اورکمزوریوں کوبے نقاب کردیا۔ وباکے ہاتھوں عالمی معیشت کی مشکلات کئی گناہوچکی ہیں۔اس وباکے پھیلنے سے قبل ہی امریکامیں یہ خیال عام تھاکہ رواں بجٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا گراف ہزارارب ڈالرتک پہنچ جائے گالیکن امریکامیں کرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ دوہزارارب ڈالرکی حدچھو جانے سے دیگرقرضے بھی معیشت پرغیرمعمولی بوجھ کی صورت میں بڑھ گئے اوریہی وجہ ہے کہ صدربائیڈن کوامریکی قوم کواپنے خطاب میں بتانا پڑاکہ اگرامریکی سینیٹ نے مزیدقرض لینے کی منظوری نہ دی توامریکاکو دیوالیہ ہونے سے کوئی نہیں بچاسکتا۔اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں بھی معاشی حالات اس نج پرپہنچ گئے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق اسرائیل دیوالیہ ہوچکاہے اورنیتن یاہو جنگ کی آڑمیں اپنے اقتدارکوبرقراررکھنے کادھوکہ دے رہاہے۔
کاروباری سرگرمیاں جوکروناکی وجہ سے ماند پڑ چکی تھیں،اس کی بناپربینکاری نظام ابھی تک ڈھنگ سے کام نہیں کررہا۔آج بھی ہزاروں نہیں لاکھوں افراداپنے گھروں سے کام کر رہے ہیں اورہزاروں بینک کی برانچیں یاتوبندکردی گئی ہیں یاایک دوسرے میں ضم کردی گئی ہیں جس کی بنیادپرہزاروں عمارتیں خالی موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کاماتم کرتے دکھائی دے رہی ہیں۔اس کے نتیجے میں ہزاروں افرادکوبیروزگاری کاسامناکرنا پڑ گیاہے۔حکومت کوٹیکس اور ڈیوٹی کی مدمیں ہونے والاخسارہ الگ ہے۔ 2008 ء کی کسادبازاری میں وفاقی ٹیکسوں کی مدمیں امریکی خزانے کو400 ارب ڈالرسے زیادہ کانقصان برداشت کرناپڑاتھا جومسلسل جاری ہے۔اوراب حالت یہ ہے کہ اس بارامریکی خزانے کووفاقی ٹیکسوں کی مدمیں اِس سے کہیں زیادہ نقصان کاسامناکرناپڑے گا ۔سماجی بہبودکے کھاتے میں اس بارغیرمعمولی رقوم خرچ کرنا پڑیں گی۔اس کے لئے الگ سے فنڈمختص کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی کیونکہ نظام کچھ ایساہے کہ ضرورت کے مطابق فنڈنگ خودبخودبڑھ جاتی ہے۔امریکی بجٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ کتنارہے گا،اس حوالے سے ماہرین مختلف اندازے قائم کررہے ہیں۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صورتِ حال انتہائی خطرناک ہے۔ ہوسکتاہے کہ بجٹ خسارہ چارسے پانچ ہزارارب ڈالرسے کہیں زیادہ کاہو۔اگر ایسا ہوا تو امریکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانا انتہائی دشوارہوگا۔
2019ء میں امریکاکی خام قومی پیداوارکے حوالے سے تخمینہ21ہزارارب ڈالرتک لگایاگیاتھا۔ تب کوروناوباکانام ونشان بھی نہ تھا۔ اب معاملات یکسرتبدیل ہوچکے ہیں۔ معیشتی سرگرمیاں ماندپڑچکی ہیں۔ایسے میں خام قومی پیداوارسے متعلق تخمینوں کاغلط ہو جانابھی حیرت انگیز نہ تھا۔اس کے نتیجے میں2020ء میں15فیصدکمی سے امریکاکی خام قومی پیداوار18ہزارارب ڈالرتک پہنچ گئی۔ایسی صورت میں امریکاکاکرنٹ اکائونٹ کاخسارہ خام قومی پیداوارکے28فیصدسے بھی زائدہوگیاہے۔ بہت سے ماہرین کاخیال ہے کہ یوکرین کی جنگ کابوجھ ہی ناقابل تلافی تھاکہ اب اونٹ کی کمرپرآخری تنکے کے مصداق حالیہ اسرائیل کی مشرقِ وسطیٰ میں درندگی کابوجھ ممکنہ تباہی کے بھوت کی طرح سرپر کھڑا ناچ رہاہے تاہم عالمی مالیاتی اداروں کو بھی اپنی بقاکامسئلہ درپیش ہے اوریقیناوہ اپنایہ سارابوجھ تیسری دنیاکے مقروض ملکوں کی رگوں سے نچوڑنے کے لئے آئے دن نئی پابندیوں کے ساتھ حملہ آورہورہی ہیں جس کے نتیجے میں بالآخرتیسری دنیاکے عوام اپنی حکومتوں کے خلاف ایساردعمل دینے پرمجبورہوجائیں گی جس کی بنا پرعالمی طورپرکسادبازاری میں ایسا اضافہ ہوجائے گاکہ عالمی اقتصادی قحط کاجن نئے اندازسے عالمی تباہی کاموجب بن جائے گا۔۔
یہ ذہن نشیں رہے کہ یہ اعدادوشماربھی حتمی نوعیت کے نہیں۔یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا کا کرنٹ اکاؤنٹ کاخسارہ اس باراتنابڑاہوگاکہ اس کے شدیدمنفی اثرات سے بچنے کے لئے فنڈنگ کااہتمام تقریباناممکن ہوجائے گا۔ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سودکی شرح میں اضافے کاامکان دکھائی نہیں دیتااورسچ تویہ ہے کہ سودکی شرح میں کمی ہی واقع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ جب زیادہ منافع کی امیدہی نہ ہوتوسرمایہ کاروں کوکس طورمتوجہ کیاجاسکے گا۔امریکامیں سب سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے والوں کوزیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانے پرآمادہ کرنااب جوئے شیرلانے کے مترادف ہوگا۔ امریکامیں زیادہ سرمایہ کاری چین اور خلیجی ریاستوں، بالخصوص متحدہ عرب امارات کی ہے۔چین کوبیرونی طلب میں کمی کا سامناہے یعنی برآمدات کاگراف نیچے آرہا ہے۔دوسری طرف خلیجی ریاستوں کی تیل کی آمدن کاگراف بھی گررہاہے۔ ایسے میں امریکی پالیسی سازوں کوسوچناپڑے گاکہ امریکی معیشت کے لئے توانارکھنے کے لئے سرمایہ کہاں سے آئے گا۔چین اورسعودی عرب دنیابھرمیں سرمایہ کاری کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے سب سے اہم عوامل کادرجہ رکھتے ہیں۔اگر ان کی طرف سے سرمائے کابہاؤ متاثرہواتوعالمی منڈی میں امریکی ڈالرکی پوزیشن کمزورہوجائے گی۔
اب سوال یہ ہے کہ امریکاکواپنی معیشت کاتیاپانچاروکنے کے لئے کیاکرناچاہیے۔اس مرحلے پرامریکاکے لئے وہی آپشن بچاہے،جو 2008کی کسادبازاری کے موقع پربچاتھایعنی یہ کہ کسی بھی اور سرمایہ کارکے آگے بڑھنے کاانتظارکیے بغیرا مریکا کو اپنے ٹریژری بونڈخودخریدناپڑیں گے۔امریکاکامرکزی بینک اس حوالے سے کلیدی کرداراداکرے گا۔
ایسانہیں ہے کہ امریکا میں صرف کرنٹ اکاؤنٹ کایابجٹ خسارہ سرپرکھڑاہے۔حقیقت یہ ہے کہ امریکامیں کارپوریٹ سیکٹرکے قرضوں کابحران بھی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے۔یہ قرضے کم وبیش دس ہزارارب ڈالرسے کہیں زیادہ ہیں جوامریکی معیشت کے مجموعی ٹرن اوورکا50فیصدسے بھی زائد ہے۔معاملات کومزید خراب کرنے والی حقیقت یہ ہے کہ ان میں بیشتر قرضے نان انویسٹمنٹ گریڈکی کمپنیوں کے جاری کردہ ہیں اوراِن قرضوں کی حیثیت کچرے سے زیادہ کچھ نہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں