یہی وجہ ہے کہ امریکی معیشت کاپہیہ رک چکاہے۔اس کے نتیجے میں سا لمیت بھی متاثرہے۔ معیشت مزید خرابی کی طرف جائے گی۔بہت سے ادارے دیوالیہ ہوجائیں گے۔یہ سب کچھ امریکی بینکاری نظام کے منہ پرزوردارطمانچہ ہوگا۔سینڈی کیٹیڈقرضوں کو بونس سمجھئے۔ کارپوریٹ بونڈکے ایک بڑے حصے کابلاواسطہ یابالواسطہ تعلق توانائی کے شعبے سے ہے ۔ توانائی کاشعبہ بھی مشکلات میں گھراہواہے۔ماہرین کااندازہ ہے کہ عالمی پیداوارکے20 فیصدکے مساوی اضافی صلاحیت ہے۔
چین کے اپنے مسائل ہیں۔چینی قیادت نے کچھ عرصے سے اپنے چندبنیادی معیشتی مسائل کوحل کرنے کے بجائے چھپانے کو ترجیح دی ہے۔یہ حقیقت نظراندازکردی گئی ہے کہ کوئی بھی مسئلہ حل کرنے سے حل ہوتاہے،چھپانے سے ختم نہیں ہوتااورنہ ہی اس کے اثرات میں کچھ کمی واقع ہوتی ہے۔یورپی یونین نے معاملات کوسلجھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ یورپین سینٹرل بینک(ای سی بی)کے ذریعے کچھ وزن ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جرمنی اورچنددوسرے ارکان ایسا کرنے کے خلاف ہیں۔ کوئی بھی اپنی کرنسی کوداؤپر لگانے کے لئے تیار نہیں۔ای سی بی نے گزشتہ چندبرس قبل850 ملین یورو مالیت کے سرکاری اورکارپوریٹ بونڈخریدنے کااعلان کیاتھاجس پرابھی تک مکمل عملدرآمدنہیں ہوسکا۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ یورپی یونین میں اندرونی سطح پرکس نوعیت کے مسائل پنپ رہے ہیں۔
ایسالگتاہے کہ واشنگٹن کے قانون سازہرحال میں کسادبازاری کوروکناچاہتے ہیں۔یہ بجائے خودایک بہت بڑی غلطی ہوگی۔کسی بھی معاشی خرابی کو مصنوعی طریقوں سے روکنے کی کوشش مزید مسائل کوپیداکرنے یاپہلے سے موجودمسائل کومزید سنگین کردیا کرتی ہے۔ حکومتی سطح پرچاہے کتناہی بڑابیل آؤٹ پیکیج دیاجائے، معیشتی خرابی کوروکناممکن نہیں ہوتا۔ بیل آؤٹ پیکیج کے نتائج کچھ مدت کے بعدظاہرہونے لگتے ہیں اورخرابیاں کھل کرسامنے آنے لگتی ہیں۔
امریکااوریورپ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جومعاشی سرگرمیاں رک گئی تھیں۔وہ ابھی تک پوری طرح بحال نہیں ہوسکیں۔اب بھی جوصنعتی یونٹ بند ہو گئے تھے اورتجارتی اداروں کوتالالگ گیاتھا،اس کودوبارہ بحال کرنے میں مالیاتی مشکلات آڑے آرہی ہیں۔ لوگوں کی نقل وحرکت بھی محدودیابرائے نام ہے۔کوشش یہ کی جارہی ہے کہ خام قومی پیداوارمیں کمی واقع نہ ہو۔ ایساتو ممکن ہی نہیں۔جب معیشت کاپہیہ رکاہواہو گا تو خام قومی پیداوارمیں کمی لازمی طورپرواقع ہوگی۔ اس کمی کوروکنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس بات کی کوشش کی جانی چاہیے کہ یہ کمی عارضی ہو۔
کوروناوباکے دوران کوشش یہ کی جارہی تھی کہ کسی نہ کسی طورکوئی بہت بڑابیل آؤٹ پیکیج میدان میں لایاجائے۔کوروناکے ہاتھوں پیدا ہونے والی صورتِ حال پردولت برساکر اس کے اثرات کومحدودرکھنے کی کوشش کی گئی تاکہ جب یہ وباختم ہوگی اور معیشتی سرگرمیا ں بحال ہوں گی تب مکمل بحالی کاعمل غیرمعمولی اقدامات کاطالب ہوگالیکن عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق تمام اندازوں کوحالات نے مات کردیاہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیاامریکامالیاتی اورزرعی اعتبارسے دیوالیہ ہوچکاہے؟اگرکوروناکے بعد یوکرین کی جنگ کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی اخراجات کے ہاتھوں پیداہونے والابحران امریکاکومالیاتی اور زرعی اعتبار سے دیوالیہ چھوڑکر رخصت ہواتوبھرپور معاشی بحران کی حقیقت کوکیسے روکاجائے گا۔اس وقت امریکی پالیسی سازجوکچھ کررہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ امریکا مالیاتی اورزرعی سطح پرشدید ناکامی سے دوچارہے۔امریکی پالیسی سازوں کاکہنا ہے کہ دانش کاتقاضایہ ہے کہ جنہیں مالیاتی امدادکی غیرمعمولی ضرورت ہے انہیں مددفراہم کی جائے اورجن کی پوزیشن ذرابھی بہتر ہے،ان سے کہاجائے کہ مختصرعرصہ کے لئے خرابی کے اثرات کوکسی نہ کسی طور جھیلیں۔اس کاواضح مطلب یہ ہے کہ معیشت کوکم ازکم عرصے تک ہولڈپررکھاجائے۔صرف ضرورت مندوں کی مددکی جائے۔صحتِ عامہ کے معاملات پرخاطرخواہ توجہ دی جائے۔
واشنگٹن میں بہت سوں کی رائے یہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کاکریش کرجانااصل مسئلہ ہے۔یہ سوچ غلط نکلی۔معیشت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت ٹرمپ اسٹاک مارکیٹ کوغیر معمولی اہمیت دیتے رہے۔کچھ مدت سے اسٹاک مارکیٹ میں جوکچھ ہوتارہااس کے نتیجے میں عارضی بنیادپرکوئی بہتری لانے کی کوشش کی گئی یااسٹاک مارکیٹ کومصنوعی تنفس فراہم کرنے کی کوشش کی گئی تومعاشی اعتبار سے اعتماد بحال ہونے کی بجائے مزیدگر گیا ۔ماہرین کے مطابق معیشت کوحقیقت میں بحال کرناہے،تواعتماد کی بحالی کوسب سے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
کسی بھی بڑی بحرانی کیفیت کے شدیدمنفی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کے اعتبارسے ٹرمپ انتظامیہ پرعوام کااعتمادبہت نچلی سطح پررہاجوان کے جانے کے بعدبائیڈن حکومت کو ورثے میں توملالیکن باوجودلاکھ کوششوں کے وہ اس بحران سے مکمل طور پرباہرنہیں نکل سکے اوراب صدارتی انتخاب میں امیدواروں نے دھڑلے سے ایک دوسرے کوموردِ الزام ٹھہراتے ہوے امریکا کی بربادی کاذمہ دارقراردیا۔ اعتمادکے فقدان کاتعلق صرف مہارت تک یعنی معاشی پالیسی سازوں اوراندرون وبیرون ملک پروفیشنل سرمایہ کاروں تک محدودنہیں۔اس وقت50 فیصدسے زائد امریکیوں کاخیال ہے کہ ٹرمپ اس منصب کے لئے موزوں نہیں جس کی وجہ کوروناسے نمٹنے کے حوالے سے ٹرمپ کی ناکام پالیسیوں کو قرار دے رہے ہیں۔باقی لوگوں کوچھوڑیے،ان کے پسندیدہ ’’فوکس نیوز ٹی وی چینل‘‘ کودیکھنے والوں کے اعتمادمیں بھی اضافہ کرنے میں بھی ٹرمپ ناکام رہا۔
ٹرمپ نے اپنے دورِ اقتدارمیں شدیدتنقید کے باوجودبھی معاملات کوسنجیدگی سے نہیں لیا،حقائق کو غلط اندازسے بیان کرتے رہے اورپالیسی کے حوالے سے غلطیوں پرغلطیاں کرتے چلے گئے۔اسٹاک مارکیٹ ہی کوسب کچھ گرداننے والے ٹرمپ کی سوچ کے آگے ہتھیارڈالنے کی بجائے امریکی پالیسی سازوں کومعیشت کی تمام خامیوں اورخوبیوں کا جائزہ لیتے ہوئے متوازن اورقابلِ قبول پالیسی ترتیب دینی چاہیے تھی۔پالیسی سازوں کویہ بات کسی بھی حال میں نظرانداز نہیں کرنی چاہیے تھی کہ یہ سب کچھ کسی ریئلٹی ٹی وی کاپروگرام نہیں۔جس کے نتیجے میں اب امریکاکے معاشی اونٹ پر آخری تنکا کچھ یوں سامنے رہاہے کہ چین،روس کے علاوہ دیگردوملکوں نے آئندہ تیل کی خریدوفروخت اوراپنی تمام درآمد وبرآمدمیں ڈالرکوفارغ کرنے کا منصوبہ بنالیاہے گویاعالمی تجارت میں ڈالرکے استعمال سے یومیہ ڈھائی سوملین ڈالر کا کمیشن جواب کم ہوکرنصف رہ گیاہے،اب اس سے بھی محروم ہوناپڑے گا۔ گویااس کے بعدیہ پوچھنے کی ضرورت تو آن پڑی ہے کہ خودامریکاکی پانچ بڑی ریاستوں نے اپنے عوام کے ٹیکس کومزیدجنگی جنون میں خرچ کرنے پر شدیداحتجاج کرتے ہوئے آخری حدتک جانے کا عندیہ دے دیاہے توان حالات میں کیاامریکا ٹوٹنے جارہاہے؟