Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

بابری مسجد کے بعد اب شاہی جامع مسجد اتر پردیش

بھارتی ریاست اتر پردیش کے سمبھل علاقے میں معصوم مسلمانوں کو خون میں نہلایا گیا ہے،جہاں17ویں صدی میں مغل دور کی طرز تعمیر شاہی جامع مسجد پر ہندوتوا دہشت گردوں نے اپنی ناپاک نظریں گارڈ دی ہیں اور ان ناپاک خاکوں میں رنگ بھرنے کیلئے عدالت بھی ہندتوا منصوبے کو پروان چڑھا رہی ہے۔عدالت نے شاہی جامع مسجد کا سروے کرانے کے احکامات19 نومبرکو جاری کیے ،تو24 نومبر کی صبح ساڑھے سات بجے ایڈوکیٹ کمشنر رمیش راگھو کی سربراہی میں سروے ٹیم آنا فانا سنبھل پہنچی اور اوپر سے لے کر نیچے تک مسجد کی ویڈیو گرافی کر ڈالی ۔مقامی مسلمانوں نے جب اس سروے کے خلاف جمع ہوکر احتجاج شروع کیا تو یوگی آدتیہ ناتھ کے احکامات پر دہشت گرد پولیس نے مسلمانوں پر براہ راست فائرنگ کی،جس کے نتیجے میں پانچ مسلم نوجوان بلال انصار، نعیم، کیف،ندیم غازی اور ایان موقع پر ہی شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے،یوں پانچ معصوم مسلمانوں کا خون بے دردی سے بہایا گیا مگر مودی اوراس کے ساتھی دہشت گرد جن میں یوگی آدتیہ ناتھ سرفہرست ہیں ،خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ دو خواتین سمیت 27 مسلمانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ، جبکہ2 700 کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔جن میں سماج وادی پارٹی کیساتھ وابستہ بھارتی ممبر پارلیمنٹ ضیاالرحمن برق بھی شامل ہیں،جو24 نومبر کے روز آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے بنگلور میں تھے۔ شہید نوجوانوں کی تدفین فوری طورپر کی جاچکی ہے اور یوگی حکومت نے سنبھل علاقے میں تمام پولیس تعینات کرکے نہ کسی کو باہر اور نہ ہی باہر سے کسی کو اندر کے آحکامات صادر کیے ہیں۔شہدا کے لواحقین پر اس قدر دبائو ڈالا جاچکا ہے کہ وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہہ رہے ہیں کہ ہم میں پولیس اور انتظامیہ سے لڑنے کی سکت نہیں ہے ،بس اللہ ہی ہمارا آخری سہارا ہیں۔حالانکہ سنبھل علاقے کی 65 فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔شاہی جامع مسجد کی تعمیر کو کم و بیش 04 صدیاں بیت چکی ہیں اور بقول ایک مسلمان کے ہمارے بڑے اسی مسجد میں نمازیں پڑھتے ہوئے اس دنیا سے جاچکے ہیں، ہم بھی اب قبر کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں،البتہ ہندوتوا جماعتوں کو صدیاں گزرنے کے بعد مندر کی جگہ شاہی جامع مسجد کی تعمیر کی یاد ستانے لگی ہے۔اس سے قبل ہندئووں نے اپنی درخواست میں دعوی کیا تھا کہ شاہی جامع مسجد دراصل بھگوان وشنو اوتار کو وقف ایک قدیم ہندو مندر ہے۔تاہم شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی اورمقامی مسلمانوں نے عدالت کی جانب سے عجلت میں مسجد کے سروے پر حیرت کا اظہار کیا۔ یاد رہے سول جج سینئر ڈویژن آدتیہ سنگھ نے مسجد میں داخلے کے حق کا دعوی کرنے والے ہندوتوا حامی وکیل ہری شنکر جین اور ہندو سنت مہنت رشی راج گری کی قیادت میں آٹھ لوگوں کی طرف سے دائر درخواست کے بعد شاہی جامع مسجد کے سروے کی ہدایت کی ہے۔شاہی جامع مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے پہلے مغل بادشاہ بابر کی ہدایت پر تعمیر کیا گیا تھا، جسے ضلع سنبھل کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی ایک تاریخی یادگارکے طور پر دکھایا گیا ہے۔ تاہم ہندو انتہاپسندوں نے دعوی کیا ہے کہ مسجد وشنو کے آخری اوتار کالکی کو وقف ایک قدیم مندر ہے گو کہ سروے کے دوران کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ جس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ شاہی جامع مسجد دراصل ایک مسجد ہی ہے۔شاہی جامع مسجد کی جانب سے ایک وکیل نے کہا کہ انہیں اپنا اعتراض درج کرانے کا موقع نہیں دیا گیا اور نہ ہی علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے ضروری امن اجلاس بلایاگیا۔جبکہ سماج وادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ ضیا الرحمان برق نے ایڈوکیٹ کمشنر کے سروے کو جلد بازی میں شروع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے شاہی مسجد کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ہمارا جواب نہیں مانگا گیا۔ حالانکہ شاہی جامع مسجد کو عبادت گاہوں کے ایکٹ 1991کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کھلے عام مسلمانوں کی مساجد،درگاہوں،مدارس اور قبرستانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے اعلانات کرچکے ہیں۔اتر پردیش میں قائم دو لاکھ سے زائد مدارس کو پابندیوں کی زد میں لاکر ان میں زیر تعلیم لاکھوں مسلم بچوں اور ہزاروں اساتذہ کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی،جس پر حال ہی میں بھارتی سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر پابندی لگائی کہ ریاستی حکومت کو ایسا کوئی اقدام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی،جبکہ اس سے قبل مسلمانوں کے رہائشی مکانات کو آئے روز بلڈوزر سے ملیا میٹ کرنا معمول بن چکا تھا،اس کاروائی پر بھی بھارتی سپریم کورٹ نے پابندی لگائی ہے۔یہ بلڈوزر کاروائی ہی ہے ،جس سے یوگی آدتیہ ناتھ نے بلڈوزر بابا کے نام سے شہرت پائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں