Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

اسی خاطرتوقتل عاشقاں سےمنع کرتےتھے

اب یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ انتشاریوں نے پاکستان کے دارالحکومت پر یلغار کیوں کی اور اس کے لئے 24نومبر کا ہی انتخاب کیوں کیا؟ انہی کالموں میں یہ ذکر کئی بار ہو چکا ہے کہ لڑائی حکومت کی ہےنا الیکشن میں دھاندلی کی، بلکہ یہ عالمی استعمار کی مسلط کردہ جنگ ہے ، جس میں صرف دو فریق ہیں ، ایک وہ جو پاکستان کو امریکی غلامی سے نکال کر حقیقی خود مختاری اور اس علاقائی اتحاد کی جانب لے جانا چاہتا ہے جس کا خواب خودپاکستان نے اس وقت دیکھا تھا جب سوویت یونین افغانستان سے بھاگ رہا تھا ، اور پاکستان سےروسی زبان کا ایک ماہر ایلچی ماسکومیں گورباچوف کو نئے مستقبل کے بندوبست کی پیش کش کررہا تھا ۔ دوسرا دھڑا وہ ہے جو امریکی بلکہ صہیونی بوٹوں کے تسموں سے بندھا ہے اور پاکستان کے اس پالیسی شفٹ کی مزاحمت کر رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی ارکان کانگریس سے لے کر دنیا بھر کا صہیونی میڈیا اور صہیونی سیاستدان اس کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار بنے کھڑے ہیں ۔ اندرون ملک سے انتشاریوں کو تسلسل کے ساتھ جو کمک مل رہی ہے ، اس کا پس منظر بھی صرف اتنا ہے کہ پاکستانی ریاست اور لوگ اپنے مزاج میں مغربیت پسند ہیں۔ نظام تعلیم ہو، حکومتی نظام ہو ، معاشی ماڈل ہو یا سیاسی، جمہوریت عدالتی نظام سب پر مغرب یعنی استعماری چھاپ گہری ہے، چونکہ پاکستان کا ریجنل شفٹ ان تمام عناصر کے مفادات کی موت ہے لہذٰا اپنے آقا ولی نعمت کے اشارہ ابرو پر یہ تمام طبقات اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں اور استعاری سپاہ کےہراول یعنی انتشاری سپاہ کی معاونت کر رہے ہیں ۔ اس کلٹ یا انتشاری دھڑے کی سرگرمیاں دیکھیں تو یہ آج سے نہیں 2014 سےاپنی اسی ڈیوٹی پر ہیں ، چینی صدر کا راستہ روکنے ، اقتدار میں آکر سی پیک کی تمام خٖفیہ دستاویزات امریکیوں کو فراہم کرنے ،سی پیک بند کرنےسے کر اب در بدر ہونے کے بعد بھی ہر اس موقع پر اسلام آباد پر چڑھائی کا سلسلہ جاری ہے جب پاکستان کے دوست ممالک کے اہم وفود اسلام آباد کا دورہ کرتے ہیں ۔ انتشاری ٹولے کی اس سیاست کو اب پوری دنیا جان چکی ہے ، 24نومبر کو جب فتنہ عروج پر تھا ، اور پاکستان کو فکر ستائے جا رہی تھی کہ مہمان صدر کیا تاثر لیں گے تو انہوں نے خود ہی باوقار اور ساتھ کھڑے رہنے والے دوست کی طرح پاکستان کو اس فکر سے آزاد کردیا، اور کہا ’’ کچھ طاقتیں پاکستان کی ترقی سے خوش نہیں وہ فتنہ پیدا کرتی رہتی ہیں ۔‘‘مہمان نے اپنے میزبانوں کو باور کروادیا کہ پریشانی کی بات نہیں وہ فتنے کی اصل حقیقت سے آگاہ ہیں ، اور غالباً یہی وہ لمحہ تھا جب اسلام آباد کےا رباب بست وکشاد نے فیصلہ کرلیا کہ مہمان اگر جان ہی گیا ہے تو اس فتنے کو شہر سے نکالا جائے ، ورنہ ایک بین الاقوامی مہمان کی موجودگی میں ایسا آپریشن کسی طرح سے ممکن نہ تھا۔
بلاشبہ روسی صدر کے ہمزاد سمجھے جانے والے بیلا روس کے صدر کوپاکستان یہ پیغام دینے میں کامیاب رہا ہے کہ ترقی اورآزادی کے جس راستے پر قدم بڑھا دیئے ہیں ، اس میں اب واپسی کا کوئی امکان نہیں ، کوئی فتنہ ، کوئی شر انگیزی پاکستان کو واپس امریکی غلامی میں نہیں دھکیل سکتی ، نئے اتحادیوں کو اپنےمضبوط ارادوں اور دبائو قبول نہ کرنے کا پیغام دینا ازحد ضروری تھا ، جو دے دیا گیا ہے ۔ سوال اب یہ ہے کہ کب تک یہ کھیل جاری رہے گا ؟ کہ جب بھی کوئی مہمان آئے یہ منہ اٹھاکر ڈالر ہضم کرنے پہنچ جائیں ، ریاست نے اگر واقعی پالیسی شفٹ مکمل کرنا ہے ، جس کے سوا اب کوئی چارہ نہیں ، تو اس کے لئے کچھ بندوبست بھی کرنا پڑیں گے ۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم اس ان پڑھ کسان جتنا بندوبست تو کرنا ہی پڑے گا جو اپنی فصل جانوروں سے بچانے کی خاطر باڑ لگاتا ہےا ور پہرے کا بندوبست کرتا ہے ، ریوڑ تو کیا کسی ایک کو بھی گھسنے نہیں دیتا ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک ایسے مواقع اور امکانات کی جانب بڑھ رہے ہیں ، جو قوموں کو صدیوں بعد ملا کرتے ہیں ، ایک موقع بار ضائع ہوگیا تو نا معلوم کتنی دہائیاں یا صدیاں پھر سے دوسروں کی کاسہ لیسی کرتے گزارنی پڑیں ۔ دنیا کو اس سے پہلے یہ موقع دوسری جنگ عظیم کے بعدملا تھا ، اب سوویت یونین کے انہدام نے اس تبدیلی کی بنیاد رکھی اور افغانستان سےا مریکی فرار نےیہ موقع دوبارہ پیدا کیا ہے ، ہم اپنے محل وقوع اور رب کے فراہم کردہ وسائل کی وجہ سے مواقع کا ایک جہان رکھتے ہیں کہ ہمارے بغیر نیا اتحاد پائیدار ہو ہی نہیں سکتا، یہی حقیقت روس اور چین کو باربار ہمارے پاس لا رہی ہے ، ہماری تمام تر نالائقیوں کے باوجود ۔ جیسا کہ بیلا روس کے صدر نے کہا اس موقع پر اگر ہم متحد ، یکسو اور مستعد رہیں گے تو سنہرا مستقبل ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے ، ورنہ وقت کسی کا انتظار نہیں کیا کرتا اور بین الاقوامی برادری میں کوئی کسی دوسرے کے مفاد کی پرواہ بھی نہیں کرتا۔
اندازہ ہورہا ہے ، نقل وحرکت اور ایوان اقتدار میں ابھرتی سرگوشیوں سے سمجھنا مشکل نہیں کہ ریاست پاکستان اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اسلام آباد کو ہی نہیں ملک کے مفادات کو بھی محفوظ بنانے کی خاطر کچھ کڑوی گولیاں نگلنا پڑیں گی ، کچھ مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے ، اور شائد یہ بھی سمجھ لیا گیا ہے کہ جس مغربی چنڈال چوکڑی سے ہم رستگاری چاہتے ہیں ، ان کی رضامندی کی اتنی پرواہ بھی کیوں کی جائے ، کیوں نہ وہ فیصلے کئے جائیں ، جوہماری نئی منزلوں کے معیار پر پورا ترتے ہوں ۔ شنید ہے کہ ریاست نے سخت ترین ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے ، اب بحث صرف اس پر ہے کہ انتشاریوں کے قبضے سے ریاستی وسائل کو پہلے واگزار کروایا جائے اور گورنر راج نافذ کیا جائے یا انتشاری جماعت کو پہلے کالعدم قرار دیا جائے ، بہرحال یہ مسئلہ کا مکمل حل نہیں ہوگا ، بلکہ اطلاعات کے مطابق یہ ابتدا ہوگی انتہا کیا ہوگی ؟ اس کا فیصلہ انتشاریوں کا رد عمل کرے گا ۔ ایک بات البتہ طے ہے کہ اپنے اثاثہ جات کو پٹتا دیکھ کر عالمی استعمار کا رد عمل کیا ہوگا ؟ اور اس سے نمٹنا کیسے ہے ؟ اس پر بھی حتمی فیصلے کر لے گئے ہیں ، نتیجہ کوئی بھی ہو ، چھری خربوزے پرچلے یا خربوزہ چھری پر گرے نتیجہ ایک ہی ہوگا کہ نہ سمجھے تو بھگتنا انتشاریوں کو ہی پڑے گا، یہی وجہ ہے کہ ارباب دانش ایک عرصہ سے اس جماعت کو سیاسی سرگرمیوں کو انتشار اور جارحیت کی حدود تک لے جانے سے منع کرتے رے ہیں ، مگر یہ نہیں مانے ، اب وہی ہمدرد اس کے سو اکیا کہہ سکتے ہیں کہ :
اسی خاطر تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
ویسے خواجہ محمد وزیرکی طویل ترین غزل ساری ہی شاندار ہے ، لیکن درج ذیل اشعار تو گویا ہمارے ہی سب حال ہیں ۔
چلا ہے او دلِ راحت طلب کیا شادماں ہو کر
زمینِ کوئے جاناں رنج دے گی آسماں ہو کر
کیا ویراں چمن کو آئے ہو کیا بوستاں ہو کر
ہوئے گل پانی پانی یہ چلی آبِ رواں ہو کر
اسی خاطر تو قتلِ عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر
جوابِ نامہ کیا لایا تنِ بے جاں میں جان آئی
گیا یاں سے کبوتر واں سے آیا مرغِ جاں ہو کر
غضب ہے روح سے اس جامۂ تن کا جدا ہونا
لباسِ تنگ ہے اترے گا آخر دھجیاں ہو کر
اگر آہستہ بولوں ناتوانی کہتی ہے بس بس
صدائےِ جنبش لب دیتے ہی صدمے فغاں ہو کر
کیا غیروں کو قتل اس نے موے ہم رشک کے مارے
اجل بھی دوستو آئی نصیب دشمناں ہو کر
پھرا صد چاک ہو کر کوچۂ کاکل سے دل اپنا
عزیزو یوسفِ گم گشتہ آیا کارواں ہو کر
جہاں جو چاہئے ویسی ہی وہ دکھلائے نیرنگی
بصر آنکھوں میں گویائی زباں میں دل میں جاں ہو کر

یہ بھی پڑھیں