Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

حدیثِ نبویﷺکی ضرورت و اہمیت

’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالے سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل، یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے۔
رمضان المبارک میں ہم قرآن کریم عام دنوں سے زیادہ پڑھتے سنتے ہیں، اور یہاں بھی تراویح میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ قرآن کریم سماعت کر ر ہی ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ حدیث کا کیا تعلق ہے؟ اس پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا۔
❶ پہلی بات یہ ہے کہ حدیثِ نبویؐ قرآن کریم تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ ہم قرآن کریم کے الفاظ، جملوں اور آیات تک حدیث کے ذریعے ہی پہنچتے ہیں۔ اگر حدیث کا واسطہ درمیان میں نہ ہو تو قرآن کریم تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ مثلًا یہ ہمارے علم میں ہے کہ قرآن کریم کی پہلی آیات جو نازل ہوئی تھیں وہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ وربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ کم و بیش ہر مسلمان یہ جانتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے کہ یہ پانچ آیات قرآن کریم کی وہ پہلی آیات ہیں جو غارِ حرا میں جناب نبی اکرمؐ پر نازل ہوئی تھیں۔ مگر یہ بات ہمیں معلوم کیسے ہوئی؟ اور کس ذریعہ سے ہم نے ان پانچ آیات تک رسائی حاصل کی؟ یہ ذریعہ حدیث نبویؐ کی وہ روایت ہے جس میں غارِ حرا کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور جناب نبی اکرمؐ پر وحی کے نزول کے آغاز کی کیفیات ذکر کی گئی ہیں۔ اگر یہ واقعہ اور اس کے بارے میں یہ روایات ہمارے علم میں نہ ہوں اور ہم ان پر یقین نہ رکھیں تو قرآن کریم کی ان پانچ آیات تک رسائی کا ہمارے پاس اور کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
اسی طرح ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ پہلی آیات کریمہ سورۃ العلق والی ہیں، جب ہم قرآن کریم کی تلاوت شروع کرتے ہیں تو سورۃ العلق کی پانچ آیات سے نہیں بلکہ سورۃ الفاتحہ کی سات آیات کی تلاوت سے آغاز کرتے ہیں۔ یعنی قرآن کریم کی تلاوت اس ترتیب سے نہیں کرتے جس ترتیب سے وہ نازل ہوا تھا۔ ترتیب کی اس تبدیلی کا ہمارے پاس کیا جواز ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی دلیل یہی ہو گی کہ جناب نبی اکرمؐ نے اسے اس ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ نبی کریمؐ نے کون سی آیت اور سورت کس ترتیب کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے، یہ بات ہمیں کس ذریعہ سے معلوم ہوئی ہے؟ اور قرآن کریم کی ترتیبِ نبویؐ معلوم کرنے کا ذریعہ ہمارے پاس کیا ہے؟ یہی کہ کوئی صحابی نبی اکرمؐ سے روایت کرے گا کہ فلاں سورۃ نبی اکرمؐ نے اس ترتیب کے ساتھ پڑھی ہے اور فلاں آیت کو اس ترتیب کے ساتھ تلاوت کیا ہے۔ یہ روایت جو قرآن کریم کی ترتیب کے بارے میں کوئی صحابی بیان کر رہا ہے یہی حدیث کہلاتی ہے۔ اور قرآن کریم کی اس ترتیب تک رسائی کا ذریعہ ہمارے پاس حدیث کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔
پھر قرآن کریم کے اس مصحف کو دیکھ لیجئے جو ہمارے پاس موجود ہے اور مصحفِ عثمانی کہلاتا ہے۔ قرآن کریم کو اس ترتیب کے ساتھ کتابی شکل میں حضرت زید بن ثابتؓ نے خلیفۂ وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم سے لکھا تھا۔ جناب نبی اکرمؐ کے دور میں قرآن کریم کتابی شکل میں مرتب نہیں تھا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس لیے کہ حفاظ کرام بکثرت موجود تھے اور ویسے بھی اس معاشرے میں حافظہ اور یادداشت پر اس قدر اعتماد کیا جاتا تھا کہ لکھنے پڑھنے کو کمزوری سمجھا جاتا تھا۔ اس کی ضرورت حضرت ابوبکرؓ کے دورِ خلافت میں مختلف جنگوں میں حافظ قرآن کریم صحابہ کرامؓ کی کثرت کے ساتھ شہادت کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے محسوس کی۔ اس کی بنیاد احتیاط اور تحفظ پر تھی کہ حفاظ کرام کثرت کے ساتھ جام شہادت نوش کر رہے ہیں، کہیں قرآن کریم کی حفاظت کے بارے میں کوئی مشکل نہ پیدا ہو جائے۔ اس تحفظ اور احتیاط کے ذہن سے حضرت عمرؓ کی تجویز بلکہ اصرار پر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ سے قرآن کریم کا ایک نسخہ کتابی شکل میں لکھوا کر محفوظ کر لیا، جسے بعد میں حضرت عثمانؓ نے اپنے دورِ خلافت میں کچھ ضروری تحفظات اور احتیاطات کے حوالے سے دوبارہ لکھوا کر اس کے چند نسخے عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں بھجوا دیے۔
سوال یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم کا یہ کتابی مصحف کس بنیاد پر مرتب کیا تھا اور ان کے پاس اس کا ذریعہ کیا تھا؟ حضرت زید بن ثابتؓ خود قرآن کریم کے حافظ تھے لیکن وہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے یہ اصول قائم کر لیا تھا کہ ہر آیت پر جناب نبی اکرمؐ سے سننے والے کم از کم دو اور صحابی شہادت دیں گے تو وہ اسے تحریر میں لائیں گے۔ اس اصول پر انہوں نے سارا قرآن کریم تحریر کر لیا مگر سورہ یونس کی آخری دو آیات اور سورہ الاحزاب کی ایک آیت پر انہیں الجھن پیش آگئی کہ ان پر صرف ایک صحابی ان آیات کو جناب نبی اکرمؐ سے سننے کی گواہی دے رہے تھے، وہ حضرت خزیمہ بن ثابتؓ تھے، ان کے ساتھ دوسرا گواہ نہیں مل رہا تھا۔ لیکن چونکہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک واقعہ میں حضرت خزیمہؓ کی شہادت کو دو گواہوں کی شہادت قرار دے رکھا تھا، اس لیے ان آیات کو اسی بنیاد پر قرآن کریم میں تحریر کیا گیا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں