Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

حدیثِ نبویﷺکی ضرورت و اہمیت

(گزشتہ سے پیوستہ)
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے جن روایات کی بنیاد پر قرآن کریم کا یہ مصحف مرتب اور تحریر کیا، وہ احادیث ہی ہیں اور انہی احادیث کے ذریعے ہم نے یہ مصحف حاصل کیا ہے۔ اس لیے میری پہلی گزارش یہ ہے کہ حدیثِ نبویؐ قرآن کریم تک پہنچنے کا واحد ذریعہ ہے، اس ذریعہ کو درمیان سے ہٹا دیں تو ہمارا قرآن کریم کی آیات، سورتوں اور ترتیب تک رسائی حاصل کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بعد حدیث پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے، مگر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ قرآن کریم سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے، اس لیے کہ حدیث پر ایمان نہیں ہو گا تو قرآن کریم پر ایمان ہو ہی نہیں سکتا۔
❷ دوسری بات یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی کو بھی مطاع اور واجب الاتباع قرار دیا ہے۔ اور نبی اکرمؐ کی حیاتِ طیبہ کو قیامت تک مسلمانوں کے لیے اسوۂ حسنہ کا درجہ دیا ہے جس کی قدم بہ قدم پیروی ضروری ہے۔ جناب نبی اکرمؐ کی اطاعت اور اسوۂ حسنہ کے طور پر آپ کی قدم بہ قدم پیروی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں آنحضرتؐ کے ارشادات و اقوال، احوال و افعال، اور واقعات کا علم ہو۔ اس کے بغیر ہم اس فریضہ کی انجام دہی میں سرخرو نہیں ہو سکتے۔ اور یہ اقوال و افعال اور واقعات و کیفیات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ حدیثِ نبویؑ ہے، اسی کے ذریعے ہم کسی معاملہ میں جناب نبی اکرمؐ کی سنت اور آپؐ کی منشا معلوم کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
❸ تیسرے نمبر پر یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کی کسی آیت کریمہ کے سمجھنے میں الجھن پیش آئے تو اسے حل کرنے کے لیے سب سے پہلے جناب نبی اکرمؐ سے رجوع کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ صاحبِ قرآن ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ بھی ہیں، وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کو جب کسی آیت یا جملہ کا مفہوم سمجھنے میں الجھن ہوتی تھی تو وہ نبی اکرمؐ سے رجوع کرتے تھے، اس سلسلہ میں بیسیوں واقعات حدیث و تفسیر کے ذخیرے میں موجود ہیں جن میں سے مثال کے طور پر ایک کا ذکر کر دیتا ہوں۔ قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ یا ایہا الذین اٰمنوا علیکم انفسکم لا یضرکم من ضل اذا اھتدیتم (المائدہ ۱۰۵)
’’اے ایمان والو! تم پر لازم ہے کہ اپنا فکر کرو دوسرا کوئی اگر گمراہ ہوتا ہے تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا اگر تم خود ہدایت پر ہو۔‘‘
اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ دوسروں کی گمراہی کے بارے میں فکر اور تردّد کرنے کی ضرورت نہیں، حالانکہ مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود بھی جہنم کی آگ سے بچیں، اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں، اور معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ماحول قائم کریں۔
چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے جب مرتدین، منکرینِ ختم نبوت اور مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف عملی جہاد کا اعلان کیا تو کسی نے یہ آیت کریمہ پڑھ دی۔ اس ماحول میں اس آیت کریمہ کا حوالہ دینے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں کہ کیا ہو سکتا تھا؟ بخاری شریف کی روایت کے مطابق اس پر حضرت صدیق اکبرؓ نے باقاعدہ خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا کہ لوگو! اس آیت کریمہ سے مغالطے میں نہ پڑنا، اس لیے کہ میں نے جناب نبی اکرمؐ سے خود سنا ہے، آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو، یہاں تک کہ وہ وقت آجائے جب خواہش پرستی اور بخل کے فتنوں کے باعث اپنا ایمان بچانا مشکل ہو جائے، تو پھر سب سے پہلے اپنے ایمان کی فکر کرو۔ یعنی علیکم انفسکم کا حکم عام حالات میں نہیں ہے بلکہ فتنوں کے اس دور میں ہے جب فتنوں کی کثرت اور غلبہ کی وجہ سے خود اپنے ایمان کی حفاظت مشکل ہو جائے۔
جبکہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ اس آیت کریمہ کے حوالے سے یہی اشکال ایک صاحب نے حضرت ابو ثعلبہ خشنیؓ کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے باخبر آدمی سے سوال کیا ہے اس لیے کہ مجھے بھی اس آیت پر یہی اشکال ہوا تھا اور میں نے جناب نبی اکرمؐ سے دریافت کیا تو انہوں نے اس پر یہی فرمایا تھا کہ اس آیت کریمہ کا حکم فتنوں کے دور کے بارے میں ہے، اور اس سے اس کا ظاہری مفہوم مراد نہیں ہے۔
اب دیکھیے کہ ایک آیت کریمہ کا مفہوم و مصداق سمجھنے میں صحابہ کرامؓ کو الجھن پیش آئی اور جناب نبی اکرمؑ نے اس کی وضاحت فرما دی۔ اس قسم کی الجھنیں بیسیوں آیات کریمہ کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو پیش آئی ہیں جن کی وضاحت حضورؐ نے فرمائی ہے۔ اور یہ احادیثِ نبویہ ہی ہیں جن کے ذریعے ان وضاحتوں تک ہماری رسائی ہوتی ہے جو جناب نبی اکرمؐ نے قرآن کریم کی مختلف آیات کے بارے میں فرمائی ہے، اور احادیثِ نبویہؐ اور روایات کے بغیر ہمارے پاس ان کا علم حاصل کرنے کا اور کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے۔
❹ چوتھی بات اس سلسلہ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم کی مختلف آیات کریمہ کے بارے میں غیر مسلموں کی طرف سے اعتراضات کیے گئے جن کا جواب حاصل کرنے کے لیے صحابہ کرامؓ نے نبی اکرمؐ سے رجوع کیا اور آپؐ نے ان کی وضاحت فرما دی۔ مثلًا قرآن کریم میں ہے کہ اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللّٰہ والمسیح بن مریم (التوبہ ۳۱)
’’عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ساتھ اپنے احبار اور رہبان یعنی علماء اور مشائخ کو بھی اللہ تعالیٰ کے بعد رب بنا لیا تھا۔‘‘
اس پر حضرت عدی بن حاتمؓ نے، جو اسلام قبول کرنے سے پہلے مسیحی سردار تھے، اشکال پیش کیا کہ ہمارے ہاں تو ایسا نہیں ہوتا تھا، قرآن کریم نے ہمارے بارے میں یہ کیا کہہ دیا ہے؟ ان کا مطلب یہ تھا کہ ہم تو اپنے مشائخ اور علماء کو رب کا درجہ نہیں دیا کرتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس کے جواب میں ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے علماء و مشائخ کو حلال و حرام کا اپنی طرف سے فیصلہ کرنے کی اتھارٹی حاصل تھی؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ اتھارٹی تو انہیں حاصل ہے۔
اور میں عرض کرتا ہوں کہ یہ اتھارٹی آج بھی کیتھولک عیسائیوں میں پاپائے روم کو حاصل ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کہہ دیں وہ حلال سمجھی جاتی ہے اور جس کو حرام کہہ دیں وہ حرام قرار پاتی ہے۔
جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ رب بنانے کا مطلب یہی ہے کہ حلال و حرام میں ردوبدل کا اختیار، جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں ہے، عیسائیوں نے اپنے علماء و مشائخ کو اس اختیار کا حامل قرار دے رکھا ہے۔
اس سلسلہ میں اسلام کا عقیدہ کیا ہے؟ ذرا غور کر لیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی شخصیت کو حلال و حرام میں ردوبدل کا صوابدیدی اختیار دیتا تو اس کا حق سب سے زیادہ جناب نبی اکرمؐ کا ہو سکتا تھا۔ لیکن جب حضورؐ نے اپنی ذات کے لیے شہد کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ یاایھا النبی لم تحرم ما احل اللّٰہ لک (التحریم ۱)
’’اے نبی! جو چیز ہم نے آپ کے لیے حلال کی ہے وہ آپ نے کیسے حرام قرار دے دی؟‘‘
چنانچہ آپؐ نے حکمِ خداوندی کے تحت قسم توڑی اس کا کفارہ دیا اور شہد استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں