Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

احتجاجی فساد اور اجتماعی ناکامی

دارالحکومت اسلام آباد حالیہ احتجاجی یلغار سے تو آزاد ہو چکا ہے تاہم سیاسی بے یقینی ہر سو پھیلی ہوئی ہے۔ دھرنے اور لانگ مارچ کے معرکے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ کون جیتا اور کون ہارا ،البتہ واضح دکھائی دے رہا ہے کہ تشدد آمیز رویوں سے سیاسی عمل ناکام ہوا ہے جمہوری قدریں مزید پامال ہوئی ہیں!عوام کے مصائب میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے!کیا یہ احتجاج پرامن تھا؟ کیا حکومت کی حکمت عملی درست تھی؟ بدقسمتی سے ان دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ احتجاج کے ابتدائی اعلانات جس غیر ذمہ دارانہ انداز میں کئے جاتے رہے اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ عمل پرامن نہیں رہے گا بلکہ کشیدگی کی آگ بھڑکائے گا۔ کے پی صوبے کے وزیراعلیٰ نے ببانگ دہل یہ فرمایا تھا کہ ہم سر پر کفن باندھ کر نکلیں گے! اب کوئی واپس نہیں آئے گا!ہم واپس نہ آئے تو ہماری قبریں تیار رکھنا!ایسے آتشی بیانات عوامی جذبات کو مشتعل کرتے ہیں اور فریق مخالف کو بھی جارحانہ اقدامات پر اکساتے ہیں۔ اپنی جماعت کے بانی عمران خان کو رہا کروانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کے قانونی راستے کے بجائے دھرنے کا ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان تحریک انصاف کے جارحانہ عزائم کا بین ثبوت ہے ۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور پنجاب کی صوبائی حکومت کی مشترکہ حکمت عملی بھی قابل تعریف نہیں؟ کیا وجہ ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود احتجاجی لشکر دارالحکومت کے مرکز میں پہنچ گیا۔ جگہ جگہ تعینات بھاری نفری آخر کے پی سے آنے والے ریلے کو کیوں نہ روک سکی ؟ رکاوٹیں کھڑی کر کے صوبہ پنجاب اور دارالحکومت میں معمول کی زندگی میں تعطل پیدا کرنے کی حکمت عملی اس لحاظ سے بھی ناکام رہی کہ جس احتجاجی گروہ کو روکنے کے لئے یہ اہتمام کیا گیا تھا وہ باآسانی اپنے ہدف تک پہنچ گیا۔ اسلام آباد میں احتجاجی ہلہ گلہ ہوا تو دنیا بھر کے میڈیا میں ملک کا منفی تاثر اجاگر ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ ملک کی جگ ہنسائی سے نہ تو تحریک انصاف کو کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ ہی حکومت اس معاملے پر کوئی خاص پریشانی کا شکار ہوتی ہے۔ بعد از خرابی بسیار اسلام آباد بلیو ایریا سے احتجاجی گروہ کو منتشر کر دیا گیا دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ عمل دو سے تین گھنٹوں میں مکمل ہو گیا۔ گو حکومت اس کارروائی کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے لیکن تحریک انصاف نے حسب روایت اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیا ہے۔ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی غیر دانشمندی کی وجہ سے ملک میں عدم اطمینان کی فضا بن رہی ہے۔ بعض نکات اور سوالات تا دم تحریر وضاحت طلب ہیں ۔ان پہلوئوں پر غور کئے بنا درست لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جا سکتا۔ اول، وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کی قیادت کو قبل از وقت مذاکرات کے ذریعے احتجاج کا مقام تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ دوم ،تحریک انصاف آخر ڈی چوک جانے پر ہی مصر کیوں تھی جبکہ احتجاج تو شہر سے باہر ایسے مقام پر بھی ریکارڈ کروایا جا سکتا تھا جہاں عوام کے معمولات زندگی متاثر نہ ہوتے۔ سوم، اگر احتجاج بیلاروس کے صدر کے دورے کے ایک دو روز بعد رکھ لیا جاتا تو کون سی قیامت آ جاتی؟ ایس سی او کانفرنس کے موقع پر احتجاج کی کال اور آئی ایم ایف کو خط لکھنے جیسے ماضی کے قابل اعتراض اقدامات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف جماعتی مفادات کی خاطر ملکی مفادات کو ضرب لگانے سے نہیں چوکتی۔ چہارم، بعض وفاقی اور پنجاب کے صوبائی وزرا وقفے وقفے سے پریس کانفرنسز اور بیانات کے ذریعے سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھاتے رہے۔ حکومت کا کام آگ پر پانی ڈالنا ہوتا ہے جبکہ یہ وزرا ء جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کرتے رہے۔ آخر وزرا ء زبانی جمع خرچ کے بجائے کارکردگی پر توجہ مرکوز کیوں نہیں کر رہے پنجم، اسلام آباد ہائی کورٹ کے واضح حکم کے باوجود تحریک انصاف نے احتجاج کے لیے اسلام آباد کا رخ کیوں کیا؟
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نامور وکلاء پر مشتمل ہے۔ ان وکلا ء نے عدالتی حکم کی پامالی کیوں ہونے دی؟ ایک ضمنی سوال یہ بھی ہے کہ احتجاج کی قیادت کرنے والوں پر توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی؟ ششم، جذباتی کارکنوں کو اشتعال دلا کر اسلام آباد میں لانے والی قیادت خود رفو چکر کیوں ہو گئی؟ پنجاب کے قائدین احتجاج کے دوران دور دور تک دکھائی نہیں دئیے ۔ کیا یہ غریب اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کا جذباتی استحصال نہیں؟ کے پی وزیراعلیٰ پر مشتعل کارکنوں کی تنقید اور غصے میں پھینکی جانے والی بوتل اس تنقیدی عمل کاآغاز لگتا ہے جس کے نتیجے میں کھوکلے دعوے کرنے والے قائدین کو اپنی ہی جماعت کے حامی احتساب کے کٹہرے میں لائیں گے ۔ سوالات تو بہت ہیں لیکن اختصار کے تقاضے پیش نظر ہیں۔ یہ امر شک سے بالا ہے کہ حزب اختلاف اور حزب اقتدار کا طرز عمل ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے کے پی میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا عفریت سر اٹھا رہا ہے۔
بلوچستان میں ازلی دشمن بھارت کے پروردہ فتنہ گر سرگرم عمل ہیں۔ تحریک انصاف کا طرز عمل ایک قومی جماعت جیسا نہیں رہا بلکہ اس کے حامی اور فیصلہ ساز انتشار پسند پریشر گروپ جیسی حرکات کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دانش سے محروم حکومت ہے جو اپنے غیر متوازن طرز عمل سے حزب اختلاف کے غبارے میں غیر ضروری ہوا بھرتی رہتی ہے۔ ملک کو استحکام ،امن اور معاشی ترقی درکار ہے۔ احتجاج، تشدد اور جلائو گھیرائو کے بجائے سیاسی تدبر اور اجتماعی دانش پر انحصار کر کے ہی ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں