Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

کتے کی شامت اور شہر کا رخ

عمران خان کی طرح بھارتی ٹرمپ یعنی مودی کی گزر اوقات بھی اے ٹی ایم پر ہے ، لیکن ان دنوں مودی کی بڑی اے ٹی ایم اڈانی مودی کے سرپرست امریکہ میں شکنجے میں آچکی ہے ، اس پر سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے اور بھارتی حکام کو رشوت دینے کے الزامات ہیں ، یہ تمام صورتحال مودی کی گجرات کے وزیر اعلیٰ دور کی اقربا پروری کو ظاہر کر تی ہے ، مودی کی اڈانی پر اور اڈانی کی مودی پر نوازشات کے بدلے میں اڈانی اپنی دھوکہ دہی کی سلطنت کو پروان چڑھا نے میں کامیاب ہوا۔ اڈانی پر سولر کنٹریکٹس کے لیے 250 ملین ڈالر رشوت دینے کا الزام ہے اور اس کیس کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو مودی کی بی جے پی اس بدعنوانی میں برابر کی شریک نظر آتی ہے بلکہ اصل بینی فشری وہی ہے ، جس نے ایک جانب بھارت کی ساکھ کو آگ لگائی تو دوسری جانب پارٹی اور اس کے لیڈروں کے گھردولت سے بھردئے ، بلکہ عالمی سطح پر بدعنوانی کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔۔ گوتم اڈانی اور امریکہ میں اڈانی گروپ کے کئی اعلیٰ عہدیداروں پر فرد جرم مستقبل میں کینیا، بنگلہ دیش اور سری لنکا وغیرہ سمیت دیگر ممالک میں مختلف متنازعہ سودوں کے لیے ایک پریشان کن عنصر بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کا سب سے پہلا اثر یہ پڑا ہے کہ کینیا کے صدر ولیم رٹو نے امریکی مقدمے کے بعد اڈانی گروپ کے کئی معاہدے منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ سری لنکا کے ماہرین، بشمول نیشان ڈی میل نے بھی اڈانی پاور پروجیکٹ پر اپنی حکومت کو احتیاط برتنے کی کا مشورہ دیا ہے، کیونکہ اڈانی گروپ پر دھوکہ دہی اور رشوت کے الزامات ہیں اور سزا بھی یقینی ہے۔ ڈھاکہ کی اعلیٰ عدالت نے اڈانی گروپ کے 1600 میگاواٹ بجلی کے معاہدے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، جس سے اڈانی گروپ بنگلہ دیش کو بجلی برآمد کر رہا تھا۔ اس کے ساتھ اڈانی کے خلاف فوجداری کارروائیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اڈانی اور بنگلہ دیش حکومت کے درمیان یہ توانائی معاہدہ پہلے ہی متنازعہ تھا کیونکہ یہ کسی بھی قانونی ٹینڈر کے بغیر کیا گیا حسینہ واجد کی کرپشن کا حسین شاہکار تھا ۔ عبوری حکومت نے اس پر مذاکرات جاری رکھے تھے، لیکن امریکی الزامات کے بعد یہ مذاکرات بھی کھوہ کھاتے جاتے دکھائی دے رہے ہیں ۔
تحقیقات میں یہ انکشاف بھی ہو اہے کہ مودی کی مسلسل مگر غیر قانونی حمایت نے اڈانی کو بھارت کے ہوائی اڈوں سے لے کر افریقہ اور جنوبی ایشیا تک متنازعہ معاہدے کرنے کا موقع فراہم کیا ، جس سے بھارت کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچا لیکن کیا خیال ہے مودی نے یہ حمائت اسے مفت میں دی ہے ؟ یقینا ً نہیں بلکہ وہ مودی کا فرنٹ مین ہے اور اس پر بیرون ملک رشوت اور دھوکہ دہی کے الزامات مودی حکومت کی بدعنوان پالیسیوں کو بھی ظاہر کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری تیزی سے زمین کا رخ کر رہی ہے ۔
اڈانی کے جرائم کے اثرات، جیسے جعلی سرمایہ کاری کے دعوے اور چھپے ہوئے اقدامات، ظاہر کرتے ہیں کہ مودی کی حکومت نے بھارت کو دھوکہ دہی کرنے والوں کی محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔ اڈانی کے رشوت کے مقدمات کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد، غیر ملکی سرمایہ کار مودی حکومت کے تحت بھارت کی معاشی ساکھ پر سوال اٹھا رہے ہیں، جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں تیزی سے کمی ہو رہی ہے۔
کہتے ہیں کتے کا برا وقت آئے تو شہر کا رخ کرتا ہے ، یہی کچھ مودی کے ساتھ بھی ہو رہا ہے ، اس نے بھارت میں غنڈہ گردی کرتے کرتے امریکہ اور کینیڈا کا رخ کیا اور رنگے ہاتھوں پکڑا جا چکا ہے ۔ ابھی دہشت گردی کے الزامات؎ کی گرد بیٹھی نہ تھی کہ اڈانی کے سیاہ کرتوت سامنے آگئے ، وہ معاملہ ابھی شہ سرخیوں میں ہے کہ کینیڈا نے مودی کو سائبر جاسوسی کا مجرم اور خطرناک ملک قرار دے دیا ہے ۔ کینیڈا کا یہ الزام اس بنیا دپر ہے کہ کرپشن کے دھندے کے سب بھارت گلوبل انٹرنیٹ گورننس فورم کا نائب چیئرمین بن گیا ہے ، لہٰذا خطرہ ہے کہ وہ عالمی سائبر سکیورٹی پالیسیوں میں مداخلت کر ے گا، ایسے فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے جو تعاون کے بہانے خفیہ آپریشنز کی سہولت فراہم کریں۔ پاکستان کے خلاف مودی کی انڈین کرانیکلز کی بدمعاشی اب عالمی سطح پر اس کے منہ پر کالک ملتی دکھائی دے رہی ہے ، کینیڈا کو خطرہ ہے کہ “انڈین کرانیکلز” جیسی غلط معلومات کی مہم جوئی کی عادت کے سبب وہ عالمی پلیٹ فارمز کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر سکتا ہے ۔ خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ گورننس کی پالیسیوں کے ذریعہ سے جاسوسی کر سکتا ہے ، جس سے ICANN کی غیر جانبداری پر عالمی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ بھارت کی ڈیپ ویب کی سرگرمیاں، جن میں 2400 سے زائد بیچنے والے اور 320,000 سالانہ لین دین شامل ہیں، بھارت کو GAC میں لابنگ کرنے کی اجازت دے سکتی ہیں تاکہ غیر قانونی آن لائن مارکیٹس کو ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کی مخالفت کی جا سکے۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بھارت میں منی لانڈرنگ کی کم سزاوں پر تنقید اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نظام میں مجرموں کی سر پرستی کا عنصر پایا جاتا ہے ، اب گلوبل انٹرنیٹ گورننس فورم کا کردار بھارت کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جس کے ذریعے وہ سرحدی مالیاتی لین دین میں گھپلا کرتے ہوئے اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹا سکے ۔امریکہ اور کینیڈا میں بھارت کے خلاف شروع ہونےو الی قانونی کارروائی بظاہر بہت معمولی نوعیت کا معاملہ دکھائی دے رہی ہے ، لیکن یہ معمولی ہے نہیں ، بلکہ مودی اور بھارت کی ساکھ کے لئے اس کی حیثیت ٹائم بم کی ہے ، جو اپنے وقت پر پھٹے گا اور صرف مودی ہی قلاش نہیں ہوگا بلکہ بھارتی معیشت بھی منہ کے بل جا گرے گی ۔

یہ بھی پڑھیں