قتل سینکڑوں افرادکا ہو یا 12افرادکا ،قتل تو قتل ہی کہلائے گا،قتل پارا چنار میں ہوں یا ڈی چوک میں،قتل سیاسی ،مذہبی کارکنوں کا ہو یا سیکورٹی اہلکاروں کا،قتل کو قتل اور قاتل کو قاتل ہی کہا جائے گا ،پارا چنار سے ڈی چوک تک انسانوں کا بہتا لہو ہمارے دانشوروں ،تجزیہ نگاروں ، کالم نگاروں ،اینکروں، سے چیخ،چیخ کر مطالبہ کر رہا ہے، کہ اب بھی وقت ہے،حکومت،اسٹیبلشمنٹ اور مختلف جماعتوں کی لفافہ خوری چھوڑ کر سنبھل جائو،حکمرانوں ، سیاست دانوں،دانشوروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے اکابرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کوباربار بتائیں کہ مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے ،اور اسلام کا یہ حکم اپنے اندر خوبصورتی کا پورا باغ سمیٹے ہوئے ہے ، کاش اے کاش ، آج کا مسلمان دین اسلام پہ عمل کرنے والا بن جائے،تو اس کی دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں ، آج جس طرح سے بھائی، بھائی کے خون کا پیاسا بن چکا ہے،اسے المیہ ہی قرار دیا جا سکتا،ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت انسان، رشتوں کی پہچان کے لئے اسلام کی طرف رجوع کرے اور دین اسلام کے حکم کے مطابق رشتوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے، اسلام کا رشتہ وہ رشتہ ہے جو ہمیں رنگ،نسل،قبیلہ اور برادری سے ممتاز کر کے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے، ایک بھائی دوسرے بھائی کے لئے حوصلہ،امید اور سہارا ہوتاہے،بھائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ جب حضرت موسیٰؑ کو بارگاہ ِ خدا وندی سے یہ حکم ہواکہ اے میرے کلیم آپ فرعون کے پاس جائو اور اس کومیرے دین کی تبلیغ کر وتو حضرت موسیٰؑ فرعون کی ہٹ دھرمی،نا عاقبت اندیشی اور کرختگی سے ہچکچا ئے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے کلیم آپ اپنے آپ میں ہمت اور حوصلہ پیدا کریں ہم آپ کو کمزور نہیں ہونے دیں گے، بلکہ آپ کی پیٹھ آپ کے بھائی حضرت ہارون ؑ کے ساتھ مضبوط کریں گے۔
حضور سید دو عالم ﷺنے حضرت علی المرتضی کو اپنا بھائی قرار دیا تھا،آپ نے فر مایا کہ علیؓ میرا دنیا اور آخرت میں بھائی ہے،آپ نے بوقتِ ہجرت اپنی امانتیں اپنے بھائی کے سپرد کیں اور خود مدینتہ المنورہ تشریف لے گئے۔مدینتہ المنورہ میں آپ ﷺ نے تمام مسلمانوں میں ایک ایسے رشتے کی بنیاد رکھی جو اس سے قبل نوعِ بنی آدم میں مفقود تھا،انسان انسان کے خون سے پیاس تو بجھا سکتا تھا مگر بہتے زخموں پہ مرہم نہیں رکھ سکتا تھا، ایسے حالات میں آ پ نے مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی بنایا ایک مہاجر اور ایک انصاری کو ایک دوسرے کے ساتھ مو اخات کے رشتے سے جوڑدیا،حضور اقدس ﷺ کا بنایا ہوا یہ رشتہ کا ئناتِ انسانی کے لئے ایک عظیم کارنامہ تھا۔جس رشتے کے ذریعے بے آسرا مہاجروں کو زمین پہ جائے پناہ مل رہی تھی۔ یہ رشتہ سگے رشتوں سے بھی ہمدردی،غمگساری اور جانثاری میں آگے نکل گیا، مسلمان آپس میں اس قدر رحیم و شفیق ہوگئے کہ اپنی جائیدادیں اور مال و متاع بھی ایک دوسرے ساتھ بانٹ لیا۔ قرآن مجید نے بھی اہلِ ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے اور ساتھ ہی اس رشتہ اخوت کی پائیداری کے لیے یہ بھی ارشاد فر مایا ہے کہ آپس میں اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کروایا کرو،اختلافات اور اعتراضات زندگی کا حصہ ہیں، انسانی جذبات کا گاہے مشتعل ہو نا ایک فطری امر ہے،جس سے دوریاں، ناراضگیاں اور رنجشیں پیدا ہوتی ہیں،یہ حسد اور عناد کی دراڑیں تعلقات کی عمارتوں کو زمیں بوس کر دیتی ہیں، اس نقصان سے بچنے کے لیے قرآن ِ مجید نے ارشاد فر مایا کہ اپنے بھائیوں میں صلح کر وایا کرو۔اسی طرح احادیث نبویہ میں رشتہ اخوت کی پائیداری اور مضبوطی کے لیے کئی اصول اور اخلاقی احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں۔آپ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ ’’مومن، مومن کا بھائی ہے نہ اس کو دھوکہ دیتاہے اور نہ اس سے دھوکہ کھاتا ہے،اس فرمانِ نبوی کی گہرائی کو دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہادی برحق کے نزدیک مسلمان کی مسلمان سے نسبت کسی محبت اور اعتماد کی بدولت استوار رہتی ہے، یہ بات تو ہر ذی شعورکی سمجھ میں آتی ہے کہ کسی کو دھوکہ نہ دیں، مگر اس بات کوکہ دھوکہ نہ کھائیں کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔یہ بات اس سوچ کے حامل افراد ہی سمجھ سکتے ہیںکہ جب دھوکہ دینے والے کو دھوکہ کھانے والے آسانی سے میسر آجائیں تو دھوکے کا بازار گرم ہو جائے گا ، ہر کوئی دھوکہ دہی کو فن اورخوبی سمجھنے لگے گا،یہ کردار اسلامی معاشرے کے لیے بہت زیادہ نقصا ن کا سبب بنے گا۔
اس ضمن میں ایک روایت کے ذریعے میں مسلمان کی سوچ مسلمان کے لیے سمجھا نا ضروری سمجھتا ہوں، کہ کسی طرح مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے سوچا کر تاہے۔یہ شہر بغداد کا واقعہ ہے کہ حضرت عبداللہ درزی کا کام کرتے تھے۔اسی وجہ سے الخیاط کے نام سے مشہور تھے، ان کا ایک گاہک باقاعدہ ان سے کپڑے سلواتا تھا وہ گاہک غیر مسلم تھااور ہمیشہ مسلمانوں سے دھوکہ کرنے کی کوشش کر تا تھا۔وہ کپڑے سلوانے کے بعد حضرت عبداللہ الخیاط کو کھوٹے سکے بطور مزدوری دے جاتاآپ ان سکوں کو پہچان کر بھی سنبھال لیتے او ر اس کے کپڑے اسے واپس کر دیتے، اتفاق سے ایک مرتبہ آپ دکان پہ تشریف فر ما نہ تھے کہ وہ شخص کپڑے لینے آگیا آپ کا شاگرد دوکان پہ موجود تھا،ا س نے کپڑے دئیے اور کھوٹے سکے اجرت میں لینے سے انکار کر دیا۔ آپ واپس تشریف لائے اور اپنے شاگرد سے اس غیر مسلم کا معاملہ پو چھا تو اس نے بتایا کہ وہ آیا تھا مگر اس نے مزدوری میں کھوٹے سکے دینے کی کوشش کی، جس کو میں نے وصول کرنے سے انکار کیا آپ نے فر مایا کہ میں تو اس سے عرصہ دراز سے یہی سکے وصول کر رہا ہوں تو شاگرد نے وجہ پوچھی آپ نے فر مایا کہ میں اس سے یہ سکے اس لیے وصول کر لیتاہوں کہ کہیں وہ یہ سکے کسی میرے کمزور بھائی کو دے کر اس کا نقصان نہ کر دے، میں خود اس نقصان کو برداشت کر لوں گا مگر کسی دوسرے مسلمان کا نقصان نہیں ہونے دوں گا۔یہ ایک مسلمان کی دوسرے مسلمان کے متعلق سوچ ہونی چاہیے کہ نہ خود اسے دھوکہ دے اورنہ دوسرے مسلمان سے دھوکہ کھائے،اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نصیب فر ما۔آمین