Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

اسرائیل‘ فلسطین اور لبنان

7اکتوبر سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اب لبنان اور اس کے قریب وجوار میں پھیل گئی ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ سمیت مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اس جنگ کورکوانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن اسرائیل ایسا کرنے سے گریز کررہا ہے۔و ہ فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے حالانکہ اس سلسلے میںکئی عرب ممالک خصوصیت کے ساتھ لبنان کی سیاسی قیادت نے اس جنگ کو رکوانے کی کوشش کی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ بلکہ اسرائیل اب جنوبی لبنان پرحملہ کرکے فلسطینیوں کو وہاں سے نقل مکانی پر مجبور کررہاہے اب تک سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید بھی کردیا ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی ہولناک بمباری سے لبنان میں آباد مہاجرین بھی نہیں بچ سکے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی امن کے حوالے سے انتہائی خطرناک ہوچکی ہے۔ امریکہ اگرچہ اسرائیل کی جارحیت کو رکوانے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا لیکن اس کو تشویش ہے کہ اگر اس جنگ کادائرہ پھیل گیا توصورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ میں بلکہ پوری دنیا کا امن متاثر ہوسکتاہے۔تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
دوسری طرف امریکہ سمیت یورپ کے لئے دیگر ممالک اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین جنگ رکوانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اسرائیل فی الحال جنگ بندی کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ وہ مسلسل غزہ اور مغربی کنارے پرحملہ کررہاہے بلکہ ان کی بستیوں کو تاراج کردیاہے۔ حماس اگرچہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کیلئے تیار ہے۔ لیکن وہ اس وقت تک اسرائیلی یرغمالیوں کونہیں چھوڑے گا جب تک حماس کو یہ یقین نہ ہوجائے کہ اسرائیل حقیقی معنوں میں جنگ بندی قبول کرکے اس خطے میں امن چاہتاہے۔تاہم اس پس منظر میں شواہد بتارہے ہیں کہ اسرائیل فی الحال کسی قسم کی جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہے۔ حماس اگرچہ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لئے تیار ہے‘ لیکن حماس اسرائیل کی اس شرط کو پوری کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس کے یرغمالیوں کو فی الفور رہا کیاجائے۔ نیز اگر حماس اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا بھی کردیتاہے تو اس کی گارنٹی کون دے گا کہ اسرائیل فلسطینیوں کی آبادیوں پر حملہ نہیں کرے گا۔بلکہ جنوبی لبنان کے خلاف بھی ایسی کارروائی نہیں کرے گا۔ لیکن فی الحال ایسا نظرنہیں آرہاہے کہ اسرائیل یکطرفہ طور پر جنگ بندی کااعلان کردے۔ اسرائیل کی قیادت کا استدلال ہے کہ جب تک حماس اور ان کے رفقاء 7اکتوبر کے حملے سے متعلق حقائق نہیں مانیں گے۔ جنگ جاری رہے گی۔ تاہم یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسرائیل نے حماس اور مغربی کنارے پرحملہ کرکے اب تک ہزار وں فلسطینیوں کو شہید کردیاہے۔ جبکہ ابھی تک فلسطینیوں کے علاقوں پراسرائیل کے حملے جاری ہیں۔
تاہم اگر امریکہ چاہے تو اسرائیل فلسطینی علاقوں پرحملہ رکواسکتاہے لیکن فی الحال امریکہ بھی اس سلسلے میں خاموش ہے‘ جس کا مطلب یہ لیاجاسکتاہے کہ اسرائیل کو شہہ مل رہی ہے کہ وہ اپنی جارحانہ کارروائی جاری رکھے۔
تاہم اس خطے میں آباد دیگر عرب ممالک اس جنگ کورکواناچاہتے ہیں۔ اس ضمن میں بعض عرب ممالک ک کے اسرائیل کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہیں۔ جس میں ترکی بھی شامل ہے‘ یہ تمام ممالک اسرائیل پر سیاسی دبائو ڈال رہے ہیں تاکہ یہ جنگ بندی ممکن ہوسکے ۔ یہ ممالک امریکہ بہادر سے بھی گزارش کررہے ہیں اس جنگ کو فی الفور روک دیناچاہیے۔ اب تک اسرائیل کی ہولناک بمباری سے 45ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ جبکہ غزہ کی پٹی تقریباً ملیا میٹ ہوچکی ہے۔ اگر عالمی طاقتوں نے خصوصیت کے ساتھ امریکہ نے اسرائیل پر جنگ روکنے کے سلسلے میں دبائو نہیں ڈالا تو پورے مشرق وسطیٰ میں سیاسی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ لبنان پہلے ہی اسرائیل کی جارحیت کا نشانہ بن چکاہے‘ اس کے بعد دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کی جارحیت کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اسرائیل کوجنگ روکنے کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کو بھی کوشش کرنی چاہیے ‘ ان کے درمیان ہرقسم کی تجارت بھی ہورہی ہے جس میں تیل کا کاروبار بھی شامل ہے‘ چنانچہ اگر تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک نے امریکہ سمیت مغربی ممالک کو تیل کی سپلائی بند کردی جیسا کہ ماضی بعید میں ایسا ہواتھا۔ تو پوری دنیا کی معیشت اور سیاست متاثر ہوسکتی ہے۔
چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس خطے کے تمام عرب ممالک اسرائیل پر اخلاقی اور سفارتی دبائو ڈال رہے ہیں کہ اس جنگ کو بند ہوناچاہیے ‘ ورنہ بہت ممکن ہے کہ دیگر عرب ممالک جن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں وہ اس جنگ میں شامل ہو کر فلسطینیوں کی حمایت کرسکتے ہیں۔ اس لئے امریکہ سمیت یورپی ممالک کو اسرائیل پر جنگ بند کرنے کے سلسلے میں دبائو ڈالناچاہیے تاکہ انسانیت کا مزید خون خراب نہ ہوسکے۔ حماس بھی جنگ بندی کے لئے تیار ہے اور اسرائیل کے یرغمالیوں کو بھی رہا کرنے کے لئے رضامند ہے لیکن اس بات کی گارنٹی ہونی چاہیے کہ اسرائیل دوبارہ جنگی کارروائی نہیں کرے گا‘ بلکہ اقوام متحدہ کے زیراثر دائمی جنگ بندی کی طرف پیشرفت کرے گا۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں