(گزشتہ سے پیوستہ)
لیکن درمیان میں یہ بات کرنا چاہتا ہوں کہ انسان اس زمین کی مخلوق نہیں ہے، باہر سے آیا ہے۔ یہ بات آج سائنس بھی ڈسکس کر رہی ہے۔ ایک امریکن سائنسدان کی ریسرچ آج کل سامنے آ رہی ہے، وہ کئی سال سے اس ریسرچ پر لگا ہوا ہے کہ انسان اس زمین کی مخلوق نہیں ہے، باہر سے آیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ زمین پر پیدا ہونے والا ہر جاندار پرندہ، چرندہ، درندہ، جانور چاہے جو بھی ہو، اسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرنا پڑتا جو کہ انسان کو کرنا پڑ رہا ہے۔ ان مخلوقات کی ضروریات خودکار طریقے سے پوری ہو رہی ہیں۔ کیا چڑیا کو وہ سارے کام کرنے پڑ رہے ہیں جو ہم کر رہے ہیں؟ شیر اور مچھلی وغیرہ کو بھی وہ سب کام نہیں کرنے پڑتے جو ہم کر رہے ہیں۔ ہاتھی کو بھی ان کاموں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے حالانکہ سب سے زیادہ خوراک کی ضرورت اسے ہوتی ہے۔ زمین کے اندر رہنے والے حشرات الارض اور شہد کی مکھی کو اپنی خوراک مل رہی ہے۔ جنگل کے درندوں کو ان کی خوراک بآسانی مل رہی ہے۔ باقی کسی مخلوق کو انسانوں جیسی تگ و دو نہیں کرنی پڑ رہی۔ کبھی کسی اور مخلوق کے ہاں مشینیں، گاڑیاں، کھیتی باڑی اور ٹیکنالوجی دیکھی ہے؟ چنانچہ اس نے کہا کہ زمین، فضا اور سمندر میں بسنے والی لاکھوں قسم کی مخلوقات میں واحد مخلوق انسان ہے جسے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے تگ و دو کرنا پڑ رہی ہے۔ قرآن مجید نے بھی یہ بات فرمائی ہے کہ انسان اس دنیا کی مخلوق نہیں ہے ’’منھا خلقناکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم‘‘ کہ ہم نے اسی زمین سے تمہیں پیدا کرنے کا بندوبست کیا ہے، اسی میں دوبارہ لوٹا دیتے ہیں، اور واپس لوٹا کر تم ختم نہیں ہو جاتے بلکہ تمہیں یہاں سے نکالیں گے، اور نکلنے کے بعد تم یہاں نہیں بسو گے، بلکہ پھر تمہیں کہیں اور لے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے زمین پر آنے کا منظر بیان فرمایا۔ آزمائش کا مرحلہ گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت حوا سے فرمایا ’’اھبطوا منھا جمیعا‘‘ کہ چلو دونوں زمین پر اتر جاؤ۔ اس وقت دو ہی آئے تھے حضرت آدم اور حضرت حوا علیہم السلام۔ بھیجنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ کیا اور ایک حکم دیا۔ وعدہ یہ فرمایا ’’ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین‘‘ کہ میں زمین میں تمہیں ٹھکانہ بھی دوں گا اور زندگی کے اسباب بھی دوں گا۔ روٹی، کپڑا، مکان ملے گا۔ لیکن یہ قرارگاہ اور سامان محدود ہوگا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوگا ’’الیٰ حین‘‘ ایک خاص مدت تک ہوگا۔ ہر بندے کا بھی حین ہے اور زمین کا بھی حین ہے۔ بندے کا حین چالیس، پچاس، ساٹھ، ستر، اسی سال ہے، اور نوے تک پہنچ جانے کے بعد غریب کیا کر لے گا؟ اور زمین کا بھی حین ہے دس ہزار سال یا پندرہ ہزار سال جتنا بھی ہو، بالآخر اس نے ختم ہونا ہے، یہ اللہ رب العزت نے وعدہ فرمایا۔
اور اس کے ساتھ یہ حکم فرمایا کہ تمہیں زمین پر بھیج رہا ہوں جہاں تم کچھ عرصہ رہو گے ’’فاما یاتینکم منی ھدی‘‘ تو ہدایات اور ڈائریکشن میں دوں گا، دنیا کی زندگی میں کرنا کیا ہے؟ اس بارے میں میری طرف سے ہدایات آئیں گی۔ دنیا کی زندگی میں انسان اور انسانی نسل کا ایجنڈا تمہارا اپنا نہیں ہوگا بلکہ میرا ہوگا۔ پھر یہ ہوگا ’’فمن تبع ہدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون والذین کفروا وکذبوا باٰیاتنا اولئک اصحاب النار ھم فیھا خالدون‘‘ کہ جس نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ خوف اور غم سے نجات پا کر واپس اپنے گھر جنت جائیں گے جہاں سے چلے تھے، اور جس نے میری ہدایت کی پیروی نہ کی اس کے لیے ایک اور گھر بنا رکھا ہے یعنی دوزخ جہاں انہیں جانا پڑے گا۔
اللہ رب العزت نے نسل انسانی کو دنیا پر بساتے ہوئے آغاز میں ہی کہہ دیا تھا کہ رہنمائی اور ہدایات میں دوں گا۔ گائیڈنس اور ایجنڈا میرا ہوگا۔ اس کے مطابق چلو گے تو واپس یہاں آؤ گے، ورنہ کہیں اور جاؤ گے۔ وہ ہدایت اور انسانی سماج کا ایجنڈا قرآن مجید ہے۔
آسمانی تعلیمات اور خدائی ہدایات کا سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہوگیا تھا۔ قرآن کریم نے حضرت آدمؑ کے دو بیٹوں کا جھگڑا ذکر کیا ہے جو کہ انسانی سماج کا زیرو پوائنٹ ہے، جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔ نسل انسانی میں ہونے والا پہلا جھگڑا جو حضرت آدمؑ کے دو حقیقی بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ہوا تھا، قرآن مجید نے اس کی پوری تفصیل بیان فرمائی ہے۔ روایات کے مطابق ان کا جھگڑا رشتے پر ہوا تھا۔ تین چیزیں زر، زمین اور زن ہی عموماً انسانوں کے جھگڑے کا باعث بنتی ہیں۔ حضرت آدمؑ کے دو بیٹے رشتے پر جھگڑ پڑے تھے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ قربانی دو، جس کی قربانی قبول ہو گئی وہ حق پر ہے اور جس کی قبول نہ ہوئی وہ غلط ہے۔
آج ہمیں یہ سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ انسان ہزاروں سال بعد سماجی ارتقا کے ذریعے قانون تک پہنچا ہے۔ جبکہ قرآن کہتا ہے کہ قانون کا وجود حضرت آدمؑ کے زمانے میں بھی تھا۔ مغرب ہمیں اپنی تھیوری پڑھا رہا ہے کہ انسان جنگلوں میں رہتا تھا، اسے کسی چیز کا پتہ نہیں تھا، بعد میں ارتقا اور انسانی سوچ سے قانون بنتا گیا۔ حالانکہ قانون انسانی سوچ کا ارتقا نہیں ہے۔ قانون پہلے دن سے حضرت آدمؑ کے بیٹوں میں موجود تھا اور اسی کی خلاف ورزی پر ان کا جھگڑا ہوا تھا جس پر ایک بھائی قتل ہو گیا تھا۔ ہدایت کا طریقہ کار دیکھیں۔ قرآن مجید نے یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ چونکہ یہ انسانوں میں پہلی موت تھی، انسان کو یہ علم نہیں تھا کہ مرنے والے کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ بھائی کے ہاتھوں بھائی قتل ہوگیا ہے، لاش پڑی ہے، لیکن اسے پتہ نہیں ہے کہ اسے کیا کرنا ہے؟ جلانا ہے، پھینکنا ہے، کھانا ہے، یا کچھ اور کرنا ہے؟ تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ہم نے اسے دو کووں کے ذریعے سمجھایا۔ ایک کوے کے پاس دوسرا کوا مردہ پڑا تھا، اس نے قابیل کے سامنے زمین کھو دی اور مردہ کوے کو اس میں دبا دیا۔ یوں قابیل کو سمجھایا کہ مردے کو یوں دفن کیا جاتا ہے۔ اس پر قابیل نے کہا ’’یا ویلتٰی اعجزت ان اکون مثل ھذا الغراب فاوٰری سوأۃ اخی فاصبح من النادمین‘‘ کہ اس کوے نے مردہ کوے کی لاش کو دفن کر لیا ہے، مجھے اتنی بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ میں نے اپنے بھائی کے ساتھ کرنا کیا ہے۔
بہرحال اللہ تعالی نے جو ہدایات دینے کا وعدہ فرمایا تھا ان کا سلسلہ حضرت آدمؑ سے شروع ہو گیا تھا۔ حضرت نوح، حضرت موسٰی، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت عیسٰی علیہم السلام اور ہزاروں پیغمبروں پر وہ ہدایات آتی رہیں۔ ان سب کا مجموعہ اور فائنل ایڈیشن قرآن مجید ہے ’’ذٰلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین‘‘قرآن مجید نے آغاز میں ہی اپنا تعارف کروایا ہے کہ میں انسانی سماج کا ایجنڈا ہوں، نسلِ انسانی میرے مطابق چلے گی تو نجات پا سکے گی، ورنہ نہ آخرت میں نجات ہوگی اور نہ دنیا میں۔ یہ قرآن مجید کا تعارف اور قرآن مجید کا موضوع خود اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔