Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

مسلمانوں کی معاشرتی زندگی میں مساجد کا کردار

(گزشتہ سے پیوستہ)
میں نے انہیں اپنے کمرہ میں آنے کے لیے کہا اور اطمینان سے بٹھا کر ان کے سامنے قرآن کریم کھول کر رکھ دیا۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ قرآن کریم کی متعدد آیات میں نماز اور زکوٰۃ کا حکم یکجا بیان کیا گیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے کہ میں نماز کا حکم جمعہ کے بیان میں یا درس میں ذکر کروں تو اس کے ساتھ زکوٰۃ کا تذکرہ کروں یا نہیں؟ فرمانے لگے ضرور کریں میں نے عرض کیا کہ زکوٰۃ کا حکم ہمارے لیے انفرادی سطح پر ہے یا اس میں حکومت کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ فرمانے لگے کہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ بیت المال قائم کرنے اور زکوٰۃ کی وصولی اور اسے صحیح مصارف پر خرچ کرنے کا اہتمام کرے۔ میں نے عرض کیا کہ اگر میں جمعۃ المبارک کے بیان میں زکوٰۃ کے بارے میں حکومت کی ذمہ داریاں بیان کروں گا اور اس سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کروں گا تو آپ کو شکایت ہوگی کہ میں سیاست کی بات کر رہا ہوں۔ پھر میں نے گزارش کی کہ قرآن کریم میں کہا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بلکہ اس سے پہلی آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اے مسلمانو! تم پر قصاص کا قانون فرض کیا گیا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ میں روزے والی آیت پڑھ کر اس کا ترجمہ و تشریح بیان کروں تو اس کے ساتھ قصاص والی آیت کا ترجمہ تشریح بھی کروں یا اسے بغیر ترجمہ و تشریح کے صرف تلاوت کر کے آگے گزر جاؤں؟ فرمانے لگے کہ اس کا ترجمہ و تشریح بھی ضروری ہے۔
میں نے عرض کیا کہ قصاص کا قانون میں نے تو نافذ نہیں کرنا بلکہ حکومت نے کرنا ہے، اس لیے ظاہری بات ہے کہ جب اس کا ترجمہ کروں گا اور اس کے احکام بیان کروں گا تو اس کا مخاطب وقت کی حکومت ہوگی اور میں اسی سے مطالبہ کروں گا کہ وہ ملک میں قصاص کے قانون کے نفاذ اور اس پر عمل درآمد کا اہتمام کرے۔ اور اگر میں ایسا کروں گا تو آپ کو پھر شکایت ہوگی کہ میں نے مسجد میں اور جمعہ کے بیان میں سیاست شروع کر دی ہے۔ نیک آدمی تھے، مخلص تھے اور محض سنی سنائی باتوں کی وجہ سے غلط فہمی کا شکار تھے اس لیے جلدی سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ آپ جو مناسب سمجھیں جمعہ اور درس میں بیان کیا کریں۔ حتیٰ کہ اب اگر کسی جمعہ پر کسی وجہ سے حالات حاضرہ پر تبصرہ نہیں کرتا تو وہ بزرگ بعض اوقات مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس جمعہ کو آپ نے سیاست پر بات کیوں نہیں کی۔
پھر جمعہ کا اجتماع صرف اس لیے نہیں کہ خطیب اس میں حالات حاضرہ کے مطابق عامۃ المسلمین کی رہنمائی کرے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اگر کسی عام مسلمان کو حکمرانوں کے کسی طرز عمل پر اعتراض ہو تو جمعہ کے اجتماع پر کھڑے ہو کر اس کے بارے میں دریافت کر کرے۔ حضرت عمرؓ سے ان کا کرتا لمبا ہونے کا سوال جمعۃ المبارک کے خطبہ کے دوران ہی کیا گیا تھا۔ اور خلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ تاریخی جملہ مسجد نبویؐ میں خطبہ کے دوران ہی ارشاد فرمایا تھا کہ ’’میں اگر سیدھا چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر ٹیڑھا چلنے لگوں تو مجھے پکڑ کر سیدھا کر دو۔‘‘
اس لیے مسجد کے بارے میں یہ تصور کہ اس میں عبادت اور مذہبی تعلیم کے علاوہ کوئی بات نہیں ہونی چاہیے اور مسجد میں سیاسی امور کا تذکرہ اور حکمرانوں پر تنقید نہیں کی جانی چاہیے، اسلامی تعلیمات سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا۔ خا ص طور پر سعودی عرب کے حکمرانوں کے لیے تو کسی طرح بھی زیبا نہیں ہے کہ وہ اس تصور کا پرچارکریں کیونکہ سعودی حکومت قرآن و سنت کو ملک کا دستور قرار دیتی ہے، سعودی مملکت کے فرمانروا خود کو حرمین شریفین کا خادم کہتے ہیں، اور دنیا بھر میں آج کے دور میں ایک مسلمان حکومت کے طرز عمل کے طور پر سعودی عرب کی حکومت کو بطور حوالہ اور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب کے سفیر محترم کی وساطت سے سعودی عرب کے معزز حکمرانوں سے بڑے ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ وہ مساجد کے ائمہ اور خطباء پر بے جا غصہ نکالنے کی بجائے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور اس کے لیے باہر سے کسی کی بات سننے کی بجائے سعودی عرب کے سابق چیف جسٹس الشیخ محمد بن ابراہیمؒ کے ارشادات اور اب سے بارہ سال قبل سعودی عرب کے دو سو سرکردہ علماء کرام اور دانش وروں کی پیش کردہ ’’عرضداشت‘‘ کو ہی سامنے رکھ لیں تو انہیں ایک صحیح اسلامی حکومت کی شکل اختیار کرنے کے لیے کسی اور سے کچھ دریافت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں