جگہ اور دوست کا نام تو نہیں بتا سکوں گا مگر یہ زیادہ دیر کی بات نہیں ہے کہ دوران سفر کسی جگہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے سلام و جواب اور پرسش احوال کے بعد پہلا سوال یہ کیا کہ سنائیے مولانا! پاکستان کب ٹوٹ رہا ہے؟ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ آپ کو اس سے کیا دلچسپی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے بزرگوں نے اس کی مخالفت کی تھی اس لیے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ میں نے عرض کیا کہ میرے حضور اس ملک کی خیر منائیے اور اس کا بھلا سوچیے کہ یہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی آخری پناہ گاہ ہے، خدانخواستہ اس کو کچھ ہوگیا تو اس خطہ کے مسلمانوں کو سمندر بھی پناہ نہیں دے گا۔
اس وقت تو میں نے جنوبی ایشیا کے حوالہ سے بات کی مگر بعد میں جب سوچا تو معروضی حقائق کا ایک نیا نقشہ سامنے آیا کہ بات صرف جنوبی ایشیا کی نہیں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور مشرق بعید کے سنگم میں واقع یہ اسلامی ریاست ان تمام خطوں کے مسلمانوں کی امیدوں کا آخری مرکز بن گئی ہے جو عالمی استعمار کے مذموم عزائم کی تکمیل کی راہ میں ایک مضبوط رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ جبکہ مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا میں امریکی عزائم اور پروگرام کی راہ میں حائل ہونے کی وجہ سے بھی پاکستان کی نظریاتی اور عسکری قوت ناقابل برداشت ہوتی چلی جا رہی ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے وجود اور جغرافیائی وحدت یا کم از کم اس کی نظریاتی و عسکری قوت کو توڑنے پر ان سب قوتوں کا درپردہ اتفاق محسوس ہو رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے جہاں پاکستان میں علاقائی، نسلی اور لسانی عصبیتوں کو ایک کارآمد ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے وہاں مذہبی حلقوں کو بے وقوف بنانے کے لیے یہ نفسیاتی وار بے کار ثابت نہیں ہوگا کہ چونکہ ان کے بڑے بزرگوں نے پاکستان کے قیام اور برصغیر کی تقسیم کی مخالفت کی تھی اس لیے پاکستان کے منتشر ہوجانے سے ان بزرگوں کی سیاسی بصیرت کا اظہار ہوگا اور ان کا موقف تاریخ کے میزان پر درست ثابت ہو جائے گا۔
میں نہیں سمجھتا کہ کوئی باشعور شخص یا حلقہ صرف اتنی سی ’’نفسیاتی تسکین‘‘ کے لیے پاکستان کی جغرافیائی سالمیت اور قومی وحدت کو داؤ پر لگانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جائے گا لیکن کسی بھی طبقہ میں ایسے جذباتی اور ظاہر بین لوگوں کی کمی نہیں ہوتی جو بزرگوں کے نام اور ان کے ساتھ عقیدت کے حوالہ سے بے وقوف بننے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس لیے اس موقع پر اس بات کی وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ جن بڑی دینی شخصیات اور بزرگوں نے برصغیر کی تقسیم اور قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی انہوں نے پاکستان بننے کے ساتھ ہی اپنا اختلاف ختم کرنے کا اعلان کر دیا تھا اور پاکستان کے وجود اور استحکام کو ملت اسلامیہ کے مفاد میں ضروری قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو اس کی بقا و استحکام کے لیے محنت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی تھی۔
قیام پاکستان کی مخالفت میں جن علمی و دینی شخصیات کے نام لیے جاتے ہیں ان میں تین بزرگ سب سے زیادہ نمایاں اور سرفہرست ہیں۔ امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی اور امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ۔ یہ تین بزرگ وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے قیام کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اسے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کے قیام کو روکنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیا لیکن پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان کے بارے میں ان بزرگوں کا طرز عمل کیا تھا؟ اس کے لیے چند تاریخی حوالوں کو سامنے لانا مناسب نظر آتا ہے۔
مولانا ابوالکلام آزادؒ کے بارے میں پاکستان کی پولیس اور انٹیلی جنس کے ایک اہم سابق عہدیدار راؤ عبد الرشید کی مطبوعہ یادداشتوں کے حوالہ سے یہ بات قومی پریس کے ریکارڈ میں آچکی ہے کہ پاکستان اور بھارت کی تقسیم کا فیصلہ ہوجانے کے بعد جب ریاستوں کو ان میں سے کسی کے ساتھ الحاق کرنے کا اختیار ملا تو بلوچستان کی ریاست قلات کے نواب احمد یار خان مرحوم نے بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا اور اپنے وزیر دربار میر غوث بخش بزنجو مرحوم کو اس سلسلہ میں کانگریسی لیڈروں سے بات چیت کے لیے دہلی بھیجا۔ وہاں حسن اتفاق سے ان کی پہلی ملاقات مولانا ابوالکلام آزادؒ سے ہوئی جنہوں نے اس فیصلہ کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے میر غوث بخش بزنجو کو دوسرے کانگریسی لیڈروں کے ساتھ ملاقات کرنے سے روک دیا اور قلات واپس جا کر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے اور اسے مستحکم بنانے کی تلقین کی۔
(جاری ہے)