Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس اور توہین رسالت کے مقدمات

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان نے اپنی رپورٹ میں سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث ملزمان کے خلاف توہین مذہب و توہین رسالت کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیا۔نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی مذکورہ رپورٹ کی بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گیارہ زیر حراست گستاخ ملزمان کے خلاف سیشن کورٹ ملیر میں جاری ٹرائل کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے روک دیا۔تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی مذکورہ رپورٹ کو مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کے اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔مذکورہ رپورٹ کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرکے مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کی بھونڈی کوشش کو ناکام بنا دیں گے۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث زیر حراست گستاخ ملزمان کی فیملیز کی جانب سے دی گئی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے اپنی 66 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں مذکورہ ملزمان کے خلاف توہین مذہب و توہین رسالت کی دفعات کے تحت مقدمات کے اندراج کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایف آئی اے کی ملی بھگت سے نوجوانوں کو ٹریپ کرکے توہین مذہب و توہین رسالت کے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے۔
کمیشن نے وفاقی حکومت سے سفارش کی ہے کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے درج کئے گئے تمام مقدمات کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ دریں اثنا سندھ ہائیکورٹ کے فاضل جسٹس صلاح الدین اور جسٹس عدنان الکریم میمن پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کراچی میں گستاخانہ مواد کی تشہیر کے خلاف درج مقدمہ نمبر 13/2023میں زیر حراست گیارہ گستاخ ملزمان کی جانب سے دائر پٹیشن پر ابتدائی سماعت کے بعد اپنے حکم نامہ میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے مذکورہ ملزمان کے خلاف سیشن کورٹ ملیر میں جاری ٹرائل کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے روک دیا۔ عدالت عالیہ نے آئندہ تاریخ سماعت کے لئے ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو نوٹس جاری کر دیا۔دوسری طرف تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’ نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس پاکستان مقدس ہستیوں کے گستاخوں کا سہولت کار بن چکا ہے۔اسلام دشمن بیرونی ایجنڈے کے تحت مذکورہ کمیشن نے اپنے قانونی دائرہ اختیار سے تجاوز اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حقائق کے برعکس مذکورہ خلاف قانون رپورٹ مرتب کرکے مقدس ہستیوں کے زیر حراست گستاخوں کو تحفظ دینے کی ایک بھونڈی کوشش کی ہے۔جسے ہم ناکام بنا دیں گے۔‘‘
ذرائع کے مطابق ’’نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس ایکٹ 2012 کی دفعہ نائن سی کے تحت مذکورہ کمیشن کو صرف اس حدتک تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل تھا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث جیلوں میں قید گستاخوں کو کیا جیلوں میں قانون کے مطابق بنیادی حقوق فراہم کئے جارہے ہیں یا نہیں؟مذکورہ کمیشن کو قانونا یہ اختیار حاصل ہی نہیں کہ وہ کسی مقدمے کے درست یا غلط ہونے کے متعلق رپورٹ مرتب کرے۔ذرائع کے مطابق اس کمیشن نے گستاخوں کے خلاف درج مقدمات کے متعلق خلاف قانون رپورٹ مرتب کرکے نہ صرف یہ کہ عدالتوں کے قانونی امور میں مداخلت کی ہے،بلکہ اس رپورٹ کے ذریعے گستاخوں کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونے کی بھی کوشش کی ہے۔مذکورہ اقدام کے ذریعے سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔جس پر نہ صرف یہ کہ کمیشن کا عدالتی فورم پر محاسبہ بلکہ پارلیمانی اور عوامی فورمز پر بھی بھرپور محاسبہ ہونا چاہئے۔مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو تحفظ دینے کی کسی کوشش کو نہ تو پہلے کبھی عوام پاکستان نے کامیاب ہونے دیا اور نہ ہی آئندہ کبھی کامیاب ہونے دیں گے‘‘ ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما سینیٹر کامران مرتضی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخ ملزمان کے خلاف مقدمات کے متعلق نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی رپورٹ کو آئین و قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ این سی ایچ آر کی رپورٹ کا مقصد مقدس ہستیوں کے گستاخوں کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضی نے کہا کہ ’’نیشنل کمیشن فارہیومن رائٹس نے مقدس ہستیوں کے گستاخوں کے خلاف مقدمات کے متعلق رپورٹ مرتب کرکے اپنے قانونی مینڈیٹ سے تجاوز کیا ہے۔مذکورہ رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔یہ رپورٹ کمیشن کی چیئرپرسن اور ممبران کی اہلیت پر سوالیہ نشان ہے۔مذکورہ رپورٹ کا مقصد گستاخ ملزمان کے خلاف عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر اثر انداز ہونا ہے۔عدالتوں کو مذکورہ غیر قانونی رپورٹ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور گستاخوں کے خلاف مقدمات کے فیصلے شواہد کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین و قانون کے مطابق میرٹ پر کرنے چاہیے‘‘۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ کہ مقدس ہستیوں کے گستاخوں کو آئین و قانون کے مطابق انجام تک پہنچانے کے لئے جے یو آئی ہر فورم پر اپنا کردار ادا کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں