جان پرکنز کی مشہو زمانہ کتاب سے اکنامک ہٹ مین کی اصطلاح مشہور ہوئی تھی۔ ایک نامور کام نگار نے ’’اکنامک ہٹ مین ‘‘ کا ترجمہ کیا تھا ’’معاشی غارت گر‘‘ سیاست کے نام پر ریاست کے خلاف جو مذموم حرکات سابق حکمراں جماعت کے شطو نگڑے کر رہے ہیں اسے ’’معاشی دہشت گردی‘‘ہی کہا جاسکتا ہے۔ اللہ نظر بد سے بچائے! اپنے تئیں سب سے زیادہ مقبول اور حد سے زیادہ محب وطن قائد نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے اپیل کی ہے۔ یہ اپیل اندھے پیروکاروں کے لئے مرشد کے مقدس حکم کا درجہ رکھتی ہے۔ مرشد نے فرمایا ہے کہ سول نافرمانی کی مہم شروع کی جائے۔ مہم کے پہلے مرحلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانی ترسیلات زر کا سلسلہ بند کر دیں۔ دوسرے مرحلے میں پاکستان میں عوام یوٹیلیٹی بل اور ٹیکس ادائیگی بند کردیں گے۔ ہو سکتا ہے مرشد سرکاری ملازمین کوقلم چھوڑ ہڑتال کا فرمان بھی جاری کردیں۔ پولیس ملازمین کو حکم دیں کہ وردیاں اتار کر تھانے غیرفعال بنا دیں۔ ملک میں بسیں ، ریلیں ، جہاز سمیت آمدو رفت کے تمام ذرائع بند کروادیں۔ مرشد کچھ بھی کرواسکتے ہیں۔ ہونے کو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ریاست کے خلاف یہ باغیانہ اقدامات کروا کر مرشد ذمہ داری ٹھانے سے صاف مکر جائیں اور سارا ملبہ جوشیلے لیکن عقل سے پیدل پیروکاروں پر ڈال دیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مرشد اپنے مریدین سے بالا ہی بالا معاملات سدھار کر سول نافرمانی کا حکم واپس لے لیں۔
سانحہ نو مئی کی عبرت انگیز مثال کو ذہن میں رکھیں تو بہت کچھ سمجھ آجائے گا۔ نو مئی کو یہ سانحہ انصافی لشکر کے لئے معرکہ حق و باطل قرار پایا تھا۔ بیک وقت ملک بھر میں دو سو سے زائد چھاونیوں اور حساس عسکری تنصیبات پر مسلح حملوں کو مرشد کی نگاہ ناز کی سیاسی کرامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ شرپسندوں اور بلوائیوں کو سپاہ انقلاب کے جیالے قرار دے کر سوشل میڈیا پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔ خود مرشد نے منظم بغاوت کو ضزباتی کارکنوں کا فطری رد عمل قرار دیا تھا۔ ریاست نے بغاوت پر آہنی ہاتھ سے سرکوبی شروع کی تو یکا یک ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘کا سفید جھو ٹ گھڑ کر مرشد اور ان کے قریبی حواری اپنے گرفتار شدہ پیروکاروں سے لاتعلق بن گئے۔ کہہ مکرنیوں اور یو ٹرن کی متعدد مثالیں زبان زد عام ہیں۔ فی الحال ترسیلات زر کے بائیکاٹ کا معاملہ توجہ طلب ہے۔ ایک نازیبا جملے اور براہ راست نشر ہونے والے ٹاک شو میں دو بدو لڑائی سے شہرت پانے والے تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی نے ایکس پلیٹ فارم پر یہ نعرہ بلند کیا ہے ’’ نو رائٹس نو ریمیٹینس‘‘ یعنی حقوق نہیں تو ترسیلات زر بھی نہیں۔ یہ نعر ہ ایسے وقت بلند کیا گیا ہے جبکہ انصافی قیادت کے بعض حلقے حکومت سے مذاکرات کے لئے اپنی جماعت کے مطالبات کی نوک پلک سنوار رہے ہیں۔
بعض انصافی قائدین مذاکرات کے لئے نیم رضامندی دکھانے کے ساتھ ساتھ سول نافرمانی کی دھمکی بھی دے رہے ہیں ۔ گویا مذاکرات میں پلہ بھاری رکھنے کے لئے ترسیلات زر کے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی دھمکی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ سیاسی رویہ نہیں بلکہ بلیک میلنگ ہے۔ یہ پہلو توجہ طلب ہے کہ بیرون ملک تارکین وطن اپنی خون پسینے کی کمائی ریاست کے خزانے میں نہیں بلکہ اپنے اہل خانہ کے اکائونٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔ انصافی لشکر اپنے مشکوک سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے تارکین وطن اور ان کے اہل خانہ کو ہدف کیوں بنا رہی ہے؟ انصافی قیادت کا بنیادی مقصد ریاست کی معاشی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی رقوم سے ریاست زر مبادلہ کے ذخائر میں توازن قائم رکھتی ہے۔ یہ توازن درہم برہم ہو جائے تو پہلے سے کمزور معیشت کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔
ماضی میں بھی سابق وزیر اعظم حکومت گنوانے کے بعد تسلسل سے ملک کے ڈیفالٹ ہو جانے کی پیش گوئیاں کر کے سیاسی بے یقینی اور معاشی عدم استحکام پیدا کرتے رہے۔ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے ان کے اشارے پر انصافی قیادت نے آئی ایم ایف کو خط لکھ کر بیل آوٹ پیکج رکوانے کی کوشش کی ۔ بعد ازاں کابینہ کے ایک سابق رکن اور امریکہ میں مقیم ایک فیصل آبادی سیاسی جگت باز نے مٹھی بھر افراد کے ساتھ آئی ایم ایف ہیڈکوارٹر کے سامنے مٹھی بھر افراد کے ساتھ اس نیت کے ساتھ مظاہرہ کیا کہ پاکستان کو درکار مالیاتی امداد رکوا دی جائے۔ ترسیلات زر کے بائیکاٹ کا مطالبہ سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ سیاست کی آڑ میں ریاست کی معاشی بنیادوں پر وار ہے۔ اس معاشی دہشت گردی کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔