فیک نیوز یا جعلی خبرکا دھندہ مستند صحافت کے متوازی صنعت بنتا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا سمیت متعدد ڈیجیٹل پلیٹ فارم صحافت کی آڑ میں جعلی خبروں کی منڈیاں بن چکے ہیں۔ ہمارا عیار پڑوسی بھارت صحافتی جعلسازی میں اپنا لوہا منوا چکا ہے۔ تین برس قبل بھارتی جعلسازی کا بھانڈا ڈس انفو لیب کی تہلکہ خیز رپورٹ نے پھوڑا تھا ۔ مودی سرکار نے پاکستان کو سفارتی محاذ پر بدنام کرنے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی مظالم سے توجہ بٹانے کے لئے منظم ڈس انفارمیشن نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا ۔ بھارتی جعلسازی پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ دنیا بھر کو آزادی اظہار رائے اور آزادانہ صحافت پر بھاشن دینے والے مغربی ممالک میں بھی یہ دھندہ زور و شور سے جاری ہے۔ جھوٹے ذرائع کے اوزاروں سے گھڑی گئی جعلی خبروں کی مدد سے افراد ہی نہیں بلکہ ریاستوں اور اہم اداروں کو ہدف بنایا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والا جھوٹ اتنا سریع الاثر ہے کہ خونی تشدد جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا ہے۔ چند ماہ قبل ایسا بھیانک منظر برطانیہ میں ابھرا جہاں جعلی خبروں سے پھوٹنے والے نسل پرستانہ پرتشدد مظاہروں نے دیکھتے ہی دیکھتے امن و امان کو تہ و بالا کر دیا۔
برطانوی حکومت نے بروقت تادیبی کارروائی کر کے تخریبی عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔ سخت سزائوں کے خلاف نہ تو انسانی حقوق کی پامالی کا واویلا مچایا گیا اور نہ ہی کسی کو آزادی اظہار رائے پر قدغن لگنے کا دورہ پڑا۔ پاکستان میں البتہ معاملہ کچھ اور ہے۔ یہاں پریس فریڈم کی تشریح یہ کی جاتی ہے کہ جو دل کرے کہہ دو!جو دماغ میں سمائے وہ لکھ مارو!جو تصویر یا ویڈیو کلپ ہتھے چڑھے وہ سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ڈال دو! ریاست سمیت کوئی یہ نہ پوچھے کہ مواد مستند تھا ، ذرائع مصدقہ تھے، کہیں مواد قابل اعتراض تو نہیں تھا؟ کہیں نسل پرستی اور فرقہ ورانہ تعصب کا ایندھن تو فسادات کی آگ نہیں بھڑکا دے گا؟ ریاست آئین اور قانون کے تحت یہ سوال پوچھنے کی مجاز ہونے کے باوجود جعلی صحافت کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے۔ سوال پوچھتے ہی آزادی صحافت پر حملے کا بین شروع ہو جاتا ہے! انسانی حقوق کی دہائی دیتے ہوئے آسمان سر پر اٹھا لیا جاتا ہے۔ کوئی جعلی خبر گھڑنے والے فراڈی سے یہ نہیں پوچھتا کہ غزہ اور شام کی ویڈیو کلپ اور تصاویر کو سانحہ اسلام آباد بنا نا کون سی صحافت ہے ؟
دنیا کے کس مہذب ملک میں ایسے قابل اعتراض زہریلے مواد کو بلا روک ٹوک پھیلا نے کی اجازت ہے؟ یہ پہلو تشویش نا ک ہے کہ کل تک جعلی خبروں اور دو نمبر صحافت کے خلاف اپنے دور حکومت میں سخت اقدامات کی حمایت کرنے والی تحریک انصاف اب خود ڈس انفارمیشن اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ہتھیار سے ریاست کی جڑیں کھودنے میں مصروف ہے۔ بدنام زمانہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ’’ڈراپ سائٹ نیوز‘‘ کامعاملہ اس کی تازہ اور ناقابل تردید مثا ل ہے۔ یہ نام نہاد میڈیا ویب سائٹ زرد صحافت اور پروپیگنڈے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ ویب سائٹ کے معاملات دیکھنے والے جعلساز صحافتی دیانت ، خبر کی صداقت اور غیرجانبداری کے مسلمہ اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ گزشتہ دو برس کے دوران اس ویب سائٹ نے پاکستان کو متعدد جعلی خبروں اور جانبدارانہ مواد کے ذریعے ہدف بنایا۔ یہ کوئی من گھڑت رائے یا بے بنیاد تاثر نہیں۔ اس حوالے سے حال ہی میں ایک مفصل تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ یہ رپورٹ غزالہ یوسف زئی نے نہایت عرق ریزی سے مرتب کی ہے اور اسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم جی آئی زیرو فائیو نے شائع کیا ہے۔ رپورٹ کا عنوان ہے ’’ڈراپ سائٹ نیوز، ماسٹر آف کنٹرورسیز ، پروپیگنڈہ اینڈ ڈیتھ ٹو جرنلزم‘‘۔ اس رپورٹ میں مصنفہ نے نہایت عرق ریزی سے ڈراپ سائٹ نیوز کے مواد کا تجزیہ کر کے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ ویب سائٹ صحافت کی آڑ میں فیک نیوز یا جعلی خبروں کو پھیلا کر انتشار ، انارکی ، ریاست سے بغاوت اور اداروں کے درمیان تقسیم جیسے تباہ کن رجحانات کی ترویج میں ملوث ہے۔ دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستا ن اس ویب سائٹ کا خاص ہدف بنا رہا ہے۔
اس حوالے سے رپورٹ کے آخری حصے میں پیش کئے گئے نتائج بیحد تشویش ناک اور چشم کشا ہیں ۔ مشکوک شہرت کے حامل جن دو صحافیوں کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے وہ تحریک انصاف کی جانب نہایت معنی خیز جھکا رکھتے ہیں۔ پاکستانی ریاستی اداروں کو عوام کی نگاہ میں گرانے کے لئے اور ریاست کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے لئے ڈراپ نیوز سائٹ نے بے بنیاد ذرائع اور جعلی مواد کو لیک خفیہ دستاویزات کے طور پر بیان کر کے سنسنی پھیلائی۔ اس جعلسازی کو تحریک انصاف کے بیرون ملک مفرور اور اندرون ملک روپوش حامیوں نے سوشل میڈیا پر استعمال کر کے ریاست کے خلاف بغاوت کے لئے عوام کو اکسایا۔ اختصار کے پیش نظر رپورٹ کے مکمل مندرجات پیش کرنا ممکن نہیں۔ تاہم جو قارئین انصافی لشکر کے جھوٹے انقلاب کی حقیقت جاننا چائیں تو وہ درج بالا پلیٹ فارم پر پوری رپورٹ ضرور پڑھ لیں۔