امریکا میں عمومی طورپررائے عامہ کے جائزوں کے ذریعے پیشگوئی کی جاتی ہے وائٹ ہائوس کا فاگلامکین کون ہوگا،کون سا صدارتی امیدوار عوامی مقبولیت کی کس سطح پرکھڑاہے۔کیا یہ جائزے درست بھی ثابت ہوتے ہیں،اس کافیصلہ اگلے چنددنوں میں دنیاکے سامنے آجاتاہے جس طرح حال ہی میں امریکی انتخابات کے نتائج آنے پرجن اداروں نے ٹرمپ کی فتح کی پیشگوئیاں کیں تھیں،ان کے مخالفین ایسے سروے رپورٹس کومستردکرتے ہوئے اسے ٹرمپ کی پروپیگنڈہ مہم سے تشبیہ دیتے ہوئے اپنے حامی ووٹرکونہ صرف تسلی دیتے تھے بلکہ اپنے امیدوار کملاہیرس کے حق میں سروے جاری کرتے رہے لیکن کیاواقعی اس مرتبہ اسرائیل کاغزہ میں جاری انسانیت سوزسلوک خاصازیرِ بحث رہاجوکملاہیرس کی شکست کاسبب بنا؟ یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی۔ آیئے اس بات کاجائزہ لیتے ہیں کیاامریکا میں اسلام فوبیا کی جاری فضاء میں مسلمان آئندہ امریکی انتخابات پراثراندازہوسکتے ہیں اورامریکامیں مسلمانوںکی تاریخ کیاہے؟
امریکاکے تیسرے صدراوراعلانِ آزادی کے خالق تھامس جیفرسن کے پاس نہ صرف یہ کہ قرآن کا نسخہ تھابلکہ انہوں نے اسلام کو امریکی معاشرے کی تصویرکے ایک ممکنہ رنگ کے طور پر دیکھا اور مسلمانوں کے حقوق کاتحفظ یقینی بنانے کی کوشش بھی کی۔ تھامس جیفرسن نے مسلمانوں کونئی ابھرتی ہوئی امریکی ریاست کے ممکنہ شہریوں کے روپ میں دیکھا۔امریکا کا اعلانِ آزادی تحریر کرنے سے 11سال قبل انہوں نے قرآن کانسخہ خریداتھا۔ تھامس جیفرسن کاقرآن کاوہ نسخہ آج بھی کانگریس کی لائبریری میں محفوظ ہے اورامریکیوں کے اجداد اوراسلام کے تعلقات کی علامت ہے۔ امریکی راست گودانشوروں کیلئییہ تعلقات آج بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
تھامس جیفرسن کے پاس قرآن کے نسخے کاہونا اس بات کاثبوت ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات میں دلچسپی لیتے تھے مگراس امرکی وضاحت نہیں ہوتی کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کاحل بھی چاہتے تھے ۔ تھامس جیفرسن نے بنیادی حقوق پراسلامی تصور سے پہلی شناسائی سترہویں صدی کے انگریز فلسفی جان لاک کی تحریروں سے حاصل کی۔ جان لاک نے یورپی معاشروں پر زور دیا تھا کہ وہ مسلمانوں اوریہودیوں کواپنے اندرسمونے کی کوشش کریں۔ جان لاک نے ان کے نقشِ قدم پرچلنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے یہ نکتہ ایک صدی قبل سمجھ لیاتھا۔ مسلمانوں کے حقوق سے متعلق تھامس جیفرسن کا تصوربحیرہ اوقیانوس کے آرپار سولہویں سے انیسویں صدی عیسوی تک کے فکری ارتقاکی روشنی میں زیادہ آسانی سے سمجھا جاسکتاہے۔
جب یورپ میں عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تب بہت سے عیسائیوں نے مسلمانوں کواس امرکی نشانی کے طور پرآزمایاکہ نظریاتی معاملات میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کے حوالے سے تحمل اوررواداری کی حدکیاہوسکتی ہے۔یورپ میں قائم ہونے والی نظیروں کی بنیادپرامریکامیں بھی مسلمان،شہریت کی حدوداورروادادکے حوالے سے بحث کا موضوع بن گئے۔نئی حکومت کی تیاریوں کے دوران جب امریکاکے بانیان نے(جوتمام کے تمام پروٹسٹنٹ تھے)مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کودی جانے والی مذہبی آزادی کے بارے میں غورکیاتو اس حوالے سے اسلامی دنیامیں پائی جانے والی نظیروں کے حوالے دیے۔امریکاکی بانی نسل نے اس نکتے پرخصوصی بحث کی کہ امریکاکومذہبی اعتبار سے پروٹسٹنٹ ہوناچاہیے یا تمام مذاہب کے پیروکاروں کوکھلے دل سے قبول کرنا چاہیے ۔ اس نکتے پربھی پورے اہتمام سے بحث کی گئی کہ اگرتمام مذاہب کے پیروکاروں کو قبول ہی کرناہے توکیاکسی بھی غیرپروٹسٹنٹ کوصدرکے منصب تک پہنچنے کی اجازت دی جانی چاہیے؟اس سے انہیں مذہبی آزادی سے متعلق امورپرغورکرنے کی تحریک ملی۔ انہوں نے کئی باتیں سوچیں مثلاً یہ کہ کیاامریکامیں کوئی ایسی اسٹیبلشمنٹ قائم ہونی چاہیے، جو پروٹسٹنٹ فرقے کوتحفظ فراہم کرتی ہو۔اس کا بنیادی مقصد مذہب کو ریاست سے الگ رکھنے کا انتظام یقینی بنانا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ آئین میں مذہب سے متعلق ٹیسٹ کامعاملہ بھی شامل کیا جاناتھا ، جیساکہ19ویں صدی تک ریاستوں میں رہا۔
مسلمانوں کی شہریت کے خلاف مزاحمت کاتصور18ویں صدی تک حیرت انگیزنہ تھا۔ امریکیوں کویورپ سے مذہب کے پیشوایانہ اورسیاسی کردارپرکم وبیش ایک ہزارسال کے منفی خیالات ترکے میں ملے تھے۔مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے منفی تاثرکے باوجود یہ بات حیرت انگیزہے کہ امریکاکے ابتدائی دورکی چند اہم ترین شخصیات نے اس تصورکو مسترد کردیا کہ مسلمانوں کوامریکاکے متوقع شہریوں کی حیثیت سے سوچاہی نہ جائے۔بانیانِ امریکانے مسلمانوں کاایسے شہریوں کے روپ میں تصورکیا جنہیں تمام حقوق میسر ہوں۔مسلمانوں کے حقوق کے دفاع سے متعلق بانیانِ امریکا کا یہ حیرت انگیز موقف دراصل یورپ میں سیاسی فکرکے ہزارسالہ ارتقا کا منطقی نتیجہ اوراس کی توسیع کے مترادف تھا۔ اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ شدید مخالفت کی فضا میں بھی مسلمانوں کوتمام حقوق کے ساتھ شہری بنانے کاتصورامریکامیں کیوںکرمحفوظ رہا؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اس تصور کا21 ویں صدی میں مستقبل کیاہے؟
یہ کتاب ہمیں امریکاکے قیام کے ابتدائی دورمیں چندنمایاں شخصیات کے ان تصورات سے آگاہ کرتی ہے،جووہ اسلام کے بارے میں رکھتے تھے۔انہوں نے اسلام کے بارے میں پائی جانے والی منفی آراکوجوں کاتوں قبول کرنے سے انکارکردیا۔یورپ نے انہیں اسلام اورمسلمانوں کے بارے میں برداشت کارویہ نہ اپنانے کی غیرمحسوس تعلیم دی تھی، مگر انہوں نے اس تعلیم کوقبول نہ کیا۔
( جاری ہے )