(گزشتہ سے پیوستہ)
امریکاکے بیشترپروٹسٹنٹ باشندے یہ تصور رکھتے تھے کہ مسلمانوں کے خیالات کوقبول نہیں کیا جا سکتا ۔اس سے ایک طرف تو پروٹسٹنٹس میںاسٹیٹس کو کی راہ ہموارہوئی اوردوسری طرف امریکاکے دیگر باشندے یہ سوچنے پرمائل ہوئے کہ دوسروں کی بات سننے میں کوئی ہرج نہیں۔ایک طرف اگر مسلمانوں کوقبول نہ کرنے کی سوچ پروان چڑھی تودوسری طرف امریکیوں کی اکثریت نے یہ سوچناشروع کیاکہ دیگرمذاہب کے لوگوں کوبھی قبول کرناچاہیے تاکہ معاشرے میں امتیازی رویہ نہ پایاجائے۔اس صورت میں مسلمانوں کوبھی اپنانے کا شعور پیدا ہوا۔
یہ سب کچھ اس وقت سوچاجارہاتھاجب مسلمان ابھی امریکامیں آئے نہ تھے۔ان کے آنے سے پہلے ہی انہیں قبول کرنے کی سوچ پروان چڑھائی جارہی تھی۔تھامس جیفرسن اوران کے قریبی رفقابخوبی جانتے اورسمجھتے تھے کہ مسلمانوں کے حقوق کے بارے میں سوچنے اور بحث کرنے سے امریکامیں حقوق کے حوالے سے آفاقیت کی راہ ہموارہوگی اورپھریہ ہوا کہ امریکامیں اقلیتوں (کیتھولک عیسائی اوریہودی) کو قبول کرنے اورمعاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے فکرآگے بڑھی۔ مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث نے امریکامیں یہ تصور پیداکیاکہ سب کوکھلے دل سے قبول کیا جائے۔
امریکا کوبرطانیہ سے حقیقی آزادی1783 میں ملی۔اس سال جارج واشنگٹن نے نیو یارک میں سکونت پذیرآئرش کیتھولک عیسائیوں کوخط لکھا۔ تب تک امریکامیں صرف25ہزار کیتھولک عیسائی تھے،جن کے حقوق خاصے محدودتھے۔انہیں نیو یارک میں کسی بھی طرح کی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔جارج واشنگٹن نے اس نکتے پرزوردیاکہ امریکاکوہر مذہب اور فرقے سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کوقبول کرناچاہیے جن پرمظالم ڈھائے گئے ہوں اورجنہیں مستقل دباؤمیں رکھا گیاہو۔انہوں نے یہودیوں کوبھی خط لکھا۔تب تک امریکامیں صرف دوہزاریہودی تھے۔جارج واشنگٹن چاہتے تھے کہ امریکی سر زمین پردنیابھرکے کچلے ہوئے لوگوں،بالخصوص مذہب کے نام پر نشانہ بنائے جانے والوں کوپناہ ملے۔
1784میں جارج واشنگٹن نے ماونٹ ورنن کے مقام پراپنے گھرپرمسلمانوں کے حوالے سے اپنے خیالات کوپوری طرح کھول کررکھ دیا۔ ورجینیاسےکسی دوست نے جارج واشنگٹن کولکھاکہ اسےاپناگھربنانےکیلئےایک بڑھئی اورایک مستری(معمار)کی ضرورت ہے۔جارج واشنگٹن نے اسے لکھاکہ کسی بھی مکان کی تعمیریافرنیچرکی تیاری میں اس امرکی کوئی اہمیت نہیں کہ کاریگرکس مذہب،فرقے،رنگ یانسل سے تعلق رکھتا ہے۔ اچھاکاریگر ایشیا، افریقایا یورپ کا ہوسکتاہے۔ہوسکتاہے کہ وہ مسلمان، عیسائی یایہودی ہویاپھریہ کہ وہ کسی مذہب پریقین ہی نہ رکھتاہو۔اس خط سے اندازہ ہوتاہےکہ جارج واشنگٹن کے فکری دھاروں میں مسلمان بھی بہتےتھے۔انہوں نے امریکاسب کیلئے کے تصورمیں مسلمانوں کونظر اندازنہیں کیا تھا ۔ ہوسکتاہے جارج واشنگٹن کواندازہ ہوکہ کسی بھی شعبے میں کوئی کرداراداکرنےکیلئے ابھی بہت دنوں تک مسلمان نمودارنہیں ہوں گے۔
مختلف ذرائع سے معلوم ہوتاہےکہ 18ویں صدی عیسوی میں بھی امریکامیں مسلمان سکونت پذیرتھے مگرتھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں کو بہرحال ان کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکاتھا۔ تھامس جیفرسن اوران کے ساتھیوں نے مسلمانوں کومستقبل کے امریکی شہری تصورکرتے ہوئےان کاذکرکیاتھا۔جارج واشنگٹن اورتھامس جیفرسن کی تحریروں اور تقاریر میں مسلمانوں کاذکربلاسبب ہرگزنہیں ہوسکتا۔یہ دونوں عظیم شخصیات مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے دومتضادیورپی رویوں اورتصورات کی وارث تھیں۔
ایک تصوریہ تھاکہ اسلام کی تعلیمات پروٹسٹنٹ عیسائیت کی تعلیمات کے یکسرمنافی بلکہ اس سے متصادم ہیں اوریہ کہ جابرانہ حکومتوں کےقیام میں بھی اسلامی نظریات نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔مسلمانوں کوامریکاکےپروٹسٹنٹ معاشرے میں قبول کرنے کامطلب ایک ایسی برادری کو قبول کرناتھاجس کے مذہب اوراس سے متعلق تصورات کویورپ نے غلط،اجنبی اورخطرناک قراردیا تھا۔معاملہ مسلمانوں تک محدودنہ تھا۔ امریکی پروٹسٹنٹ توکیتھولک عیسائیوں کےنظریات کوبھی اِسی طرح اجنبی اورخطرناک قراردیتےتھے۔ کیتھولسزم کو بھی آزادی کے امریکی تصورات اوروسیع النظری کامخالف سمجھاجاتاتھا۔
جیفرسن اورنان پروٹسٹنٹ شہریت کی حامی دیگرشخصیات نے آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ ایک اورفکری دھارےکوپروان چڑھانے میں معاونت کی،جس کے ذریعے مسلمانوں کےساتھ ساتھ کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں کوقبول کرنےکی راہ بھی ہموار ہوتی تھی۔ 16ویں صدی کے جن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے اپنے اپنے نظریات کی تبلیغ کی تھی،انہوں نے ان کیلئے جان بھی دی تھی۔17ویں صدی عیسوی میں یورپ کے جن لوگوں نے تمام مذاہب کوقبول کرنےاورتمام ثقافتوں اورنسلوں کے لوگوں کواپنے ہاں قابل قبول قراردینےکی بات کی تھی انہیں سزائے موت یاپھرقیدِبامشقت کاسامناکرناپڑا۔اکثریت کوان نظریات کی بنیادپرملک سےنکال دیاگیا۔اس معاملے میں امیروغریب اوربے کس و طاقتور کی کوئی تخصیص نہ تھی۔اشرافیہ میں سے بھی جن لوگوں نے تمام مذاہب کے لوگوں کواپنانے کی بات کی،انہیں شدیدمخالفت اورایذاؤں کاسامناکرنا پڑا۔یورپ میں رومن کیتھولک چرچ سےمتصادم نظریات رکھنےوالےکیتھولک اورپروٹسٹنٹ کسان تھے،سیاسیات سمیت مختلف علوم کے ماہرین تھے یاپھراول انگریزبیپٹسٹ۔ان میں کوئی بھی سیاسی قوت رکھنے والا یااعلی معاشرتی حیثیت کاحامل شخص نہ تھا۔مذہب کے لگےبندھے نظریات سے ہم آہنگی نہ رکھنے والےاگرچہ منظم نہ تھے مگراس کےباوجودانہوں نےمنظم فکررکھنے والے مسلمانوں کو عیسائی ریاستوں میں ایذاوں سے بچانے کیلئے خاصی وقیع جدوجہدکی۔
18ویں صدی کی اینگلیکن اسٹیبلشمنٹ کے رکن اورورجینیاکے ایک اعلی سیاست دان کی حیثیت سے تھامس جیفرسن نے وہ تصورات پیش کیے،جواس سے قبل یورپ میں اپنے پیش کرنےوالوں پرشدیدلعن طعن کاسبب بنے تھےاوربہتوں کوتوسزائے موت کابھی سامنا کرنا پڑا تھا۔تھامس جیفرسن چونکہ خود اسٹیبلشمنٹ سے تعلق رکھتے تھے،اس لیے مسلمانوں کے حقوق سے متعلق ان کا موقف ورجینیامیں پوری توجہ سے سناگیا ۔ چندساتھیوں کے ساتھ مل کرتھامس جیفرسن نےنوزائیدہ ریاست ہائے متحدہ امریکامیں وہ تصورات پیش کیے، جو اس سے قبل یورپ کے مرکزی دھارے سے بہت دورجوہڑکی شکل میں اپنی وقعت کھوبیٹھے تھے۔ایسا نہیں ہے کہ تھامس جیفرسن نے تمام مذاہب کے لوگوں کوقبول کرنے اورہر مذہب کے پیروکاروں کے حقوق کوسرکاری مداخلت سے مبرارکھنے کاتصورپیش کیااوران پرمبارک بادکے ڈونگرے برسنے لگے۔مخالفین نے ہرقدم پران کیلئے مشکلات پیداکرنے کی کوشش کی مگریہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے حلقوں میں جیفرسن کوغیرمعمولی وقعت ملی۔ پریسبائٹی رینزاوربیپٹسٹس سمیت بہت سی ایسی برادریوں نے جیفرسن کی بات پرمسرت کا اظہارکیاجوپروٹسٹنٹس کی جانب سے جبرکاسامنا کرتے رہے تھے۔ویسے تو خیر امریکی معاشرے کاکوئی بھی طبقہ غیر پروٹسٹنٹس کوجامع امریکی شہریت دینے کے حق میں نہ تھا،مگر پھر بھی مسلمانوں کیلئے ان کے دلوں میں نرم گوشہ ضرورتھا۔
مسلمانوں کے حقوق کے حوالے سے بحث شروع کرنے والے جوکچھ کہہ رہے تھے ، وہ 18ویں صدی کے معاشرے میں محض فکری یانظری سطح پربھی خاصااجنبی اورناقابل قبول تھا ۔ تب تک امریکی شہریت کاحقداروہی سمجھا جاتاتھا جو پروٹسٹنٹ،سفیدفام اور مرد ہو۔ شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنالازم تھا۔ ورجینیا میں اس حوالے سے قانون سازی تو ایک بڑے سفر کی محض ابتداتھی۔تھامس جیفرسن،جارج واشنگٹن اورجیمز میڈیسن نے شہریت کے معاملے کومذہب سے الگ کرنے کاعمل شروع کیاتھا۔یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی کیریئرکے دوران اس آدرش کے حصول کیلئے غیرمعمولی محنت کی مگر مکمل کامیابی حاصل نہ کرسکے۔وہ اپنا ادھورا کام بعدمیں آنے والوں کیلئے فریضے کے طورپر چھوڑگئے۔یہ کتاب پہلی باراس امرپربحث کرتی ہے کہ کس طورجیفرسن اوران کے ساتھی،اسلام کے بارے میں اپنے نامکمل اورمبہم تصورات کے باوجود، مسلمانوں سمیت تمام نان پروٹسٹنٹ افرادکے شہری حقوق کیلئے متحرک رہے۔
جارج واشنگٹن نے جب1784میں مسلمانوں کومحنت کشوں کی حیثیت سے امریکا آنے کی اجازت دینے کی وکالت کی،اس سے ایک عشرہ قبل انہوں نےاپنی محصول پذیراملاک میں افریقی نسل کی دوعورتوں کاذکربھی کیا تھا، جوماں بیٹی تھیں۔ایک کانام فاطمہ اور دوسری کا فاطمہ صغیرہ تھا۔جارج واشنگٹن نےمسلمانوں کوامریکی شہریت دینے کی وکالت کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کوغلام کی حیثیت سے خریدکرانہوں نے خودہی ان کے بنیادی حقوق کی راہ مسدودکی تھی۔واضح رہے کہ تب تک غلام مسلمانوں کواپنے مذہب پرکاربند رہنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ہوسکتاہے کہ جیفرسن اور میڈیسن کی جاگیروں اورزرعی اراضی پربھی یہی حقیقت پائی گئی ہو۔مگرخیر،ان کے غلاموں کے مذہب کے بارے میں زیادہ کچھ معلوم نہ ہوسکا۔اس میں کوئی شک نہیں مغربی افریقاسے محنت کشوں کےطورپرلائے گئے مسلم غلاموں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔یہ تعدادامریکامیں آباد کیتھولک عیسائیوں اوریہودیوں سے کہیں زیادہ رہی ہوگی۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ بہت سے سابق مسلم غلاموں نے کانٹی نینٹل آرمی میں بھی خدمات انجام دی ہوں۔مگرخیر،اس امرکاکوئی ثبوت نہیں ملتاکہ وہ اپنے مذہب پرکاربندرہے ہوں اوریہ بھی ثابت نہیں کیاجا سکاہے کہ امریکا کے بانیوں کوان کی موجودگی کاعلم تھا۔یہ بات بھی قابل غورہے کہ مسلمانوں کے شہری یاشہریتی حقوق سے متعلق بحث پریہ سابق مسلم غلام اثرانداز نہیں ہوئے۔
(جاری ہے)