Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

گستاخان رسول کے حقوق کی جنگ ؟

(گزشتہ سےپیوستہ)
قومی کمیشن برائےانسانی حقوق پاکستان کی جانب سےمذکورہ جانبدارانہ ،خلاف آئین وخلاف قانون رپورٹ مرتب کرنے سے نہ صرف یہ کہ مذکورہ مجرمان کےخلاف درج مقدمات کے مدعیان کو آئین پاکستان کے آرٹیکل ٹین اے کے تحت حاصل منصفانہ ٹرائل کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے،بلکہ مذکورہ رپورٹ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے مذکورہ مجرمان کے حق میں عدلیہ پر اثر انداز ہونے کی بھی کوشش ہے۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کو مذکورہ مجرمان اپنے حق میں استعمال کررہے ہیں جس سے مذکورہ مجرمان کےخلاف مدعیان مقدمہ کو آئین پاکستان کے آرٹیکل ٹین اے کے تحت حاصل منصفانہ ٹرائل کےحق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ یوں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان،کہ جس کے قیام کا مقصد ہی بنیادی آئینی و انسانی حقوق کاتحفظ تھا، خود آئینی و بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف مقدمات کا اندراج ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے بمطابق قانون کیا ہے۔ان تمام مقدمات کا ٹرائل بمطابق قانون ٹرائل کورٹس میں جاری ہے۔اگر مذکورہ مقدمات میں زیر حراست مجرمان سمجھتے ہیں کہ وہ بےگناہ ہیں یا ان کے خلاف مقدمات کے اندراج میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے تو انہیں نہ صرف یہ کہ قانون کے مطابق اپنے دفاع میں ٹرائل کورٹ میں گواہان وشواہد پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے،بلکہ وہ اپنے خلاف درج مقدمات کو ختم کرنے (Quashment) کے لئے ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ ٹرائل کورٹ یا ہائیکورٹ کے متوازی اپنی عدالت قائم کرکے مذکورہ مجرمان کے خلاف ٹرائل کورٹس میں زیر سماعت مقدمات کے متعلق یہ فیصلہ کرےکہ مذکورہ مقدمات میں زیرحراست مجرمان گناہ گار ہیں یا بے گناہ؟ان کے خلاف مقدمات کے اندراج میں قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں یانہیں؟یہ حق تو قطعی طور پر آئین و قانون نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کونہیں دیا۔قومی کمیشن برائےانسانی حقوق پاکستان نےمذکورہ رپورٹ میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس،اسپیشل برانچ لاہور،پنجاب کی جانب سےمورخہ 01-04-2024 کو لیگل کمیشن آن بلاسفیمی پاکستان نامی کسی تنظیم کے خلاف بلاسفیمی بزنس کے عنوان سے مرتب کردہ ایک رپورٹ پرانحصارکرتے ہوئے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ مذکورہ تنظیم کے نام سے ایک کریمنل گینگ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کی ملی بھگت سےکام کررہا ہے،جو نوجوانوں کو ٹریپ کرکے بلاسفیمی کے مقدمات میں پھنسا نے کے بعد ان سے پیسوں کا تقاضا کرتا ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ مذکورہ رپورٹ کا خلاصہ یہی ہے کہ نوجوانوں کو ٹریپ کرکے بلاسفیمی کے مقدمات میں ملوث کیا جارہا ہے،اس حوالے سے پرائیویٹ لوگ ایف آئی اے کےسائبر کرائم ونگ کےافسران، اہلکاران کی ملی بھگت سے کام کررہے ہیں اوربلاسفیمی کےمقدمات کے اندراج میں قانونی تقاضے پورے نہیں کئے جارہے۔ درخواست گزار ضروری سمجھتا ہےکہ اپنی گزارشات کو ختم کرتے ہوئے اپنی استدعا پیش کرنے سےقبل اس حوالے سےبھی چند گزارشات مختصراً پیش کرے۔پہلی گزارش یہ ہے کہ درخواست گزاراور درخواست گزارکی جماعت کاموقف بڑاواضح ہےکہ بلاسفیمی(توہین مذہب، توہین رسالت و توہین شعائر اسلام) جیسے سنگین جرم ہے،ویسے ہی کسی شخص کی جانب سے کسی بے گناہ شخص پر بلاسفیمی کا جھوٹا الزام لگانا،یا کسی شخص کو بلاسفیمی کرنے پر اکسانا بھی سنگین جرم ہے۔درخواست گزارکی یہ رائے ہےکہ جو سزا بلاسفیمی کرنے والے شخص کےلئے ہے،اسی سزا کا مستحق بلاسفیمی کا جھوٹا الزام لگانے یا کسی کو بلاسفیمی کرنے پر اکسانے والا شخص بھی ہےلہٰذا اگر اسپیشل برانچ لاہور،پنجاب کی مرتب کردہ رپورٹ مورخہ 01-04-2024 میں کوئی صداقت ہے تو اس رپورٹ کی بنیاد پر قانون کو پوری قوت کے ساتھ بلا امتیاز حرکت میں آناچاہیے۔اب سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیاپر گستاخانہ موادکی تشہیر میں ملوث مجرمان کےاہلخانہ اورقومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نےاسپیشل برانچ لاہور، پنجاب کی مذکورہ جس رپورٹ کو بنیاد بنا کر مذکورہ مقدمات میں زیرحراست مجرمان کےحق ایک بیانیہ بنایا ہے، وہ رپورٹ جولائی 2024ء تک کیوں خفیہ رہی؟
مذکورہ رپورٹ پرکوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ مذکورہ رپورٹ کو اسلام اور پاکستان مخالف سرگرمیوں کاحصہ رہنےوالےامریکہ میں مقیم ایک بھگوڑے پاکستانی صحافی احمد نورانی کے ذریعے 29 جولائی 2024 کو پہلی دفعہ منظرعام پر لانے،اس کے بعد صحافی احمد نورانی کی 29 جولائی 2024ء کو Fact Focus میں شائع ہونے والی رپورٹ کو بنیاد بناکر مغربی میڈیا کے ذریعے مذکورہ مجرمان کے حق میں بیانیہ بنانے اور پھر اسی اثنا میں ہی قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کا بھی متحرک ہوجانا کیا ایک ہی ایجنڈے،منصوبے کا حصہ نہیں؟؟؟اگر ان تمام کڑیوں کو ملایا جائے تو اس سے بھی قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی مذکورہ رپورٹ کے متعلق درخواست گزار کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔دوسری گزارش یہ ہے کہ چاہے اسپیشل برانچ لاہور، پنجاب کی مورخہ 01-04-2024کو مرتب کردہ رپورٹ ہو یا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ۔مذکورہ دونوں رپورٹس میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات میں زیر حراست مجرمان بے گناہ ہیں،انہوں نے بلاسفیمی نہیں کی۔یہ اہم نکتہ ہے۔مذکورہ دونوں رپورٹس میں یہ کہاگیاہےکہ نوجوانوں کوٹریپ کرکےبلاسفیمی کے مقدمات میں ملوث کیاجارہا ہے۔ یعنی سادہ لفظوں میں یہ کہاجارہا ہے کہ مذکورہ زیر حراست مجرمان کو ٹریپ کرکے ان سے بلاسفیمی کروائی گئی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں