Search
Close this search box.
بدھ ,08 جولائی ,2026ء

انسان کی حقیقت اور قدر و قیمت

انسان وہ مخلوق ہے جس کی حقیقت کو جسمانی، حیاتیاتی، نفسیاتی، جمالیاتی، فلسفیانہ، اخلاقی اور روحانی زاویوں سے پرکھا جا سکتا ہے۔ مگر یہ سب پہلو اس وقت مکمل تصویر پیش کرتے ہیں جب انسان کو ایک جامع وحدت کے طور پر دیکھا جائے۔ انسانیت کا تصور محض ایک سادہ تعارف نہیں بلکہ ایک آفاقی سچائی ہے جو ارتقائی شعور اور روحانی بیداری پر مبنی ہے۔
قرآنِ حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا: میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ (البقرہ: 30)
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خلافت کے لیے منتخب فرمایا اور اسے ایسی خصوصیات سے نوازا جنہوں نے اسے تمام مخلوقات پر فضیلت دی۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنی ذہنی، فکری، اور روحانی قوتوں کے باعث تخلیقِ کائنات کا نچوڑ اور مرکز ہے اور دنیا میں ہر چیز اس کے لئے مہیا کی۔ پرندے‘ جانور سمند‘ پہاڑ ‘جنگل طرح طرح کے میوے پھل ‘ خوراک‘ سبزیاں پانی سب اس کیلئے مفت فراہم کئے۔ مگر شیطان کی چالوں میں آکر یہ انسان لالچ اور طمع کا شکار ہوکر مادیت کے دھوکہ میں ٹریپ ہوکر مادی نظام کا غلام بن کر رہ گیا اور اپنی اصل روحانیت کو بھول گیا۔ یہ جان کر بھی کہ وہ اس عالم خا کی میں محدود وقت کے لئے ہے اور اچانک خال ہاتھ اپنے اصل گھر لوٹ جائے گا۔ یہ معاشی غلامی کو کامیابی سمجھ کر اس میں غرق ہوگیا۔
مولانا رومی ؒفرماتے ہیں:’’ایں بدن را، جان زِ گوہر آفریدزِ خدا داند کہ گوہر را چہ دید‘‘ یہ جسم تو محض خول ہے، اصل گوہر تو روح ہے، اور خدا ہی جانتا ہے کہ اس گوہر میں کیا عظمت پوشیدہ ہے۔
انسان کے متضاد پہلو‘ قرآنِ پاک میں انسان کی صفات کو مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
بیشک ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا کیا ہے۔(التین: 4)
دوسری طرف فرمایا:’’بیشک انسان بڑا ظالم اور ناشکرا ہے۔‘‘(ابراہیم: 34)
انسان کے اندر ایک طرف نورِ الٰہی کی چمک ہے تو دوسری طرف نفس کی تاریکی۔ وہ ایک ایسا وجود ہے جو فرشتوں سے برتر ہو سکتا ہے، لیکن جب اپنے نفس کے دھوکے میں پڑ جائے تو حیوانیت کے درجے تک گر سکتا ہے۔
مولانا رومیؒ نے انسان کے ان دو پہلوئوں کو خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:’’آدمی مخفی است در زیرِ زبان ایں زبان پردہ است بر درگاہِ جان‘‘ا نسان کی حقیقت اس کی زبان کے پیچھے چھپی ہوتی ہے، اور زبان دل کے دروازے پر ایک پردہ ہے۔
انسان اور دنیا کی حقیقت‘ انسان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ اپنی اصل قدر کو فراموش کرکے دنیاوی چمک دمک میں کھو جاتا ہے۔ دولت، شہرت، اور عہدوں کی طلب اسے اپنی اصل حقیقت سے دور کر دیتی ہے۔ وہ چیزوں کا غلام بن جاتا ہے جنہیں اس کے تابع ہونا چاہیے تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’لوگوں کے لیے دنیا کی محبت خوبصورت بنا دی گئی ہے: عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر۔‘‘(آل عمران: 14)
مولانا رومیؒ کہتے ہیں:’’این جہان چون خط و خال و چشم و ابروست کہ بود مر عاشقان را دامِ راہ‘‘ دنیا تو محض ایک خوشنما دھوکہ ہے، جو عاشقانِ حق کے لیے راہ میں ایک آزمائش ہے۔
انسان کی اصل عظمت‘ انسان کی اصل عزت و عظمت اس کے اخلاق، علم، اور روحانی شعور میں ہے۔ جس دن انسان اپنے اندر کی دنیا کو فتح کرلے، اسی دن وہ اپنی اصل حقیقت کو پا لیتا ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور نفس کی قسم اور اسے درستگی دینے والے کی، پھر اس میں اس کی بدی اور پرہیزگاری کا شعور ودیعت کیا۔‘‘ (الشمس: 7-8)
’’رومیؒ فرماتے ہیں:تو بظاہر قطر آبی، ولیکن درحقیقت بحرِ نابی ‘‘ظاہری طور پر تو ایک قطرہ ہے، مگر حقیقت میں تو ایک بے کنار سمندر ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی اصل حقیقت کو پہچانے، دنیاوی دھوکے سے نکل کر روحانی کمالات کی طرف گامزن ہو۔ وہ خود ایک جہانِ معنی ہے، اور اس کے اندر پوری کائنات سمٹی ہوئی ہے۔
مولانا رومیؒ کے ایک شعر پر یہ مضمون ختم کرتا ہوں:’’گر درونِ خود سفر کنی، مردِ راہ شوی زِ خاک تا افلاک، ہمہ در تو جاں شوی‘‘ اگر تو اپنے اندر کا سفر کرے، تو راہِ حق کا مرد بن جائے گا، مٹی سے لے کر آسمان تک سب کچھ تیرے اندر جلوہ گر ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں