پہلگام فالس فلیگ آپریشن دراصل پلوامہ ڈرامے کی نئی قسط ہے۔ لاکھوں بھارتی فوجیوں، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی موجودگی میں دہشت گرد نہتے سیاحوں کو قتل کر کے چلتے بنے۔ یہ واردات سیکورٹی اداروں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ دس منٹ کے اندر درج کی جانے والی جھوٹی ایف آئی ار نے بھارتی ڈرامے کو مزید بےنقاب کردیا۔ بی جے پی کی رگوں میں مسلم دشمنی خون بن کر دوڑتی ہے۔ بھارتی میڈیا اور سرکاری ذرائع یہ واویلا مچا رہے ہیں کہ دہشت گردوں نے سیاحوں کا مذہب دریافت کیا اورچن چن کر ہندو سیاحوں کو اپنا نشانہ بنایا ۔یہ واویلا صرف اس لئے کیا جا رہا ہےکہ ہندوستان میں بسنے والی مسلم برادری کو دہشت گرد قراردیاجاسکے۔ پورے ہندوستان میں بی جے پی کے غنڈے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا رہے ہیں، بےگناہ نہتے اور بے ضرر مسلمان طالب علموں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ جنونی ہندو یہ دعوے کر رہے ہیں کہ 26 سیاحوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے 2600 مسلمانوں کا خون بہایا جائے گا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مودی کی قیادت میں بی جےپی سرکار نےجس طرح ریاستی اداروں اور اختیارات کو ہندوستانی مسلمانوں کا وجود مٹانے کے لئے استعمال کیا ہے اسے کیا نام دیاجائے؟
بابری مسجد کی شہادت، گائے ذبح کرنے کے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل ، مساجد کو مندر میں تبدیل کرنے کی مہم، مسلمان طالبات کے حجاب پر پابندی، مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل اور آسام میں مسلمانوں کی شہریت کی منسوخی جیسے نفرت انگیز اقدامات کو کیا نام دیا جائے؟ بی جے پی دراصل اپنی مادر تنظیم آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے۔ آر ایس ایس کے بانی گوالکر نے ہندوتوا کی صورت بھارت کو ایک ہندو ریاست میں ڈھالنے کا تصور پیش کیا۔ یہ وہی تنظیم ہے جس کے ایک شدت پسند نتھو رام گوڈسے نے ہندوستان کے بابائے قوم موہن لال گاندھی کو صرف اس لیے قتل کر دیا کہ وہ پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ہندوستان سے مسلمانوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کا صفایا کرنا آر ایس ایس کا بنیادی منشور رہا ہے ۔ بی جے پی نے اقتدار میں آنے کے بعد اس ایجنڈے پر تیزی سے کام کیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت کی منسوخی سے لےکر آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنےکے لئے وہاں غیرکشمیریوں کی منتقلی جیسے اقدامات نےاصل ایجنڈے کو بےنقاب کردیا ہے۔ پہلگام حملےکا بہانہ بناکر ایک جانب مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں ریاستی مظالم کے لیےجواز پیدا کر رہی ہےتودوسری جانب مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کےلیے پاکستان پر سرحد پاردہشت گردی کے جھوٹے الزام عائدکررہی ہے۔ ساتھ ساتھ ہی بہار میں آنے والے الیکشن میں پاکستان کے خلاف جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ کر ووٹ بٹورنےکا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ گزشتہ دنوں ڈپٹی وزیراعظم، ڈی جی آئی ایس پی ار اور دفترخارجہ کے ترجمان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بھارت کی جعلسازی اورمسلم دشمنی سے متعلق ناقابل تردید شواہد پیش کئے ہیں
عالمی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بھارت نے پاکستان کی جانب سے شفاف تحقیقات کی پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا۔ پہلگام حملے کو بنیادبناکرسندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ منسوخی دراصل عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ماضی میں اوڑی حملے کے بعد بھی مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی زہریلی دھمکیاں دی تھیں۔صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آر ایس ایس کے نظریے پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے آبی جنگ کا آغاز کرنا چاہتی ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کے مطابق پاکستان کے پانی کو روکنے کہ کسی بھی کوشش کو اقدام جنگ تصور کیا جائے گا۔ حالات کا تقاضا ہے کہ بھارت کی مسلط کردہ آبی جنگ کے خطرے سے نمٹنے کے لئے ایک متفقہ قومی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔