کچھ نہیں رکھا جمہوریت و موریت میں، سیاست ویسے بھی گھری ہوئی ہے تماش بینوں میں، نواز شریف ، زرداری،عمران خان کی حمایت اور مخالفت یا اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کا نام ہی اگر سیاست ہے تو ایسی سیاست سے توبہ ہی بھلی، جس قوم کی ماں ،بہنوں بیٹیوں کی کئی کئی ماہ پرانی مسخ شدہ لاشیں فلیٹوں سے برآمد ہونا شروع ہو جائیں،قطع نظر اس کے کہ وہ متقیہ،صالحہ تھیں یا پھر اداکارہ یا فنکارہ؟ او خدا کے بندو! وہ ہیں تو اسی قوم کی مائیں بہنیں ،بیٹیاں، مگر افسوس حکمرانوں ، میڈیا، عدلیہ، کسی کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگے، عورتوں کے حقوق کی دعویدار کوئی این جی او اس پر انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ تو درکنار اس پر بات کرنا بھی گوارہ نہ کرے، تو پھر جان لیجئے اس ملک و قوم کو آقا و مولیﷺکے دین اسلام اور اسوئہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے، اب ہمیں لبرل ازم ،سیکولر ازم، فیمنزم، الحاد ازم کی گندگیوں سے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر ،گلی کوچوں تک کو پاک کرنا پڑے گا،اس قوم کو الحاد ازم کی نہیں،بلکہ آقا و مولی ﷺ کی تعلیمات کی ضرورت ہے، خاتون جنت سیدہ فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا اور سیدہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی تعلیمات کو عورتوں کے لئے حکومتی سطح پر نافذ کرنے کی ضرورت ہے،پاکستانی عورتوں ،بچوں،اور بوڑھوں کا اصل خیر خواہ اور ہمدرد وہ میڈیا ہے کہ جو معاشرے میں،حضور ﷺ،امہات المومنینؓ ،صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓ کی تعلیمات کو بار بار اجا گر کرئے، رسول پاک ﷺ عظیم معلم انسانیت تھے، آپﷺ پوری انسانیت کے لئے ایک عظیم اور مثالی معلم بن کر تشریف لائے،ایسے معلم جن کی تعلیم وتربیت نے صرف تئیس برس کی مختصر مدت میں نہ صرف پورے جزیرئہ عرب کی کایا پلٹ دی بلکہ پوری دنیا کے لئے رشد و ہدایت کی وہ ابدی شمعیں بھی روشن کر دیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کو عدل و انصاف،امن و سکون اور عافیت و اطمینان کی راہ دکھاتی رہیں گی۔
دراصل رسول پاکﷺ کو یہ منصب خود اللہ تعالیٰ کی طر ف سے عطا ہوا تھا۔ سورہ البقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا مذکور ہے۔ ترجمہ : اے ہمارے پروردگار ان لوگوں میں خود انہیں کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے۔ انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے (البقر ہ: 129) اسی طرح ایک اور آیت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ترجمہ: ’’وہی ہے جس نے امیوں کے درمیان خود انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو ان کو اس کی کتاب پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔‘‘ قرآن پاک کی یہ آیات نبی کریمﷺ کو بطور معلم متعارف کرواتی ہیں۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول پاکﷺ نے فرمایا علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔رسول اللہﷺ نے نفع بخش علم کو ایک ایسی مثنی قرار دیا جس کا اجر موت کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔ آپﷺ نے فرمایا جب انسان مرتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین چیزیں باقی رہتی ہیں ۔ -1صدقہ جاریہ-2ایسا علم جس سے بعد کے لوگ فائدہ اٹھائیں -3اولاد صالح جو اس کے لئے دعا کرے۔ ایک معلم کے لئے سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ رسول کریمﷺ خود بھی معلم تھے آپﷺ نے فرمایا انما بعثت معلما، یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔کتب احادیث میں حضور پاکﷺ کی زندگی کا ایک واقعہ مذکور ہے جس سے آپﷺ کا علم میں شغف واضح ہوتا ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ مسجد میں منعقدہ دو مجلسوں میں سے گزرے۔ ان دونوں میں سے ایک عبادت اور دعا میں مصروف تھی۔ دوسری تعلیم و تعلم میں۔ آپﷺ اس مجلس میں بیٹھ گئے جو تعلیمی مذاکرہ میں مصروف تھی۔ آپﷺ نے فرمایا میں بھی معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
آپﷺ کی تعلیم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپﷺ نے ابتدا ہی سے لوگوں کی تربیت کے لئے ایک مرکز کی ضرورت محسوس کی جہاں لوگ جمع ہوں اور اجتماعی طور پر ان کی تہذیب و اصلاح کا کام ہوسکے۔ جب تک دعوت کا سلسلہ مخفی تھا آپﷺ نے حضرت ارقم کے گھر کو مرکز قرار دیا تھا۔ یہاں تمام اولین رفقا جمع ہوتے،کتاب اللہ کی تلاوت ہوتی،اسے یاد کرتے اور بنیادی مسائل کے معاملے میں حضورﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے۔ پھر آپﷺ کا اپنا گھر بھی مسلمانوں کا مرکز بن گیا جہاں صحابہ جمع ہو کر اپنے عظیم معلم سے رہنمائی حاصل کرکے اپنے کام کاج میں مشغول ہو جاتے۔ حضورﷺ کتابت سیکھنے کو تعلیم میں فوقیت دیتے تھے۔ کتابت کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضورﷺ نے ہجرت جیسے پرخطر سفر میں بھی سامان کتابت کو ساتھ رکھنا ضروری سمجھا تھا۔ اس کے علاوہ بدر کے قیدیوں میں سے کچھ پڑھے لکھے قیدیوں کا مزید یہ قرار پایا کہ ہر ایک دس دس مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دے۔ حضورﷺ کی تعلیم کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ آپ اسے اس طرح جاری رکھتے کہ متعلم اکتاہٹ محسوس نہ کرے جب تک تعلیم اپنی خوشی سے حاصل نہ کی جائے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس لئے آپﷺ دوران تعلیم کوئی ہلکی پھلکی پرمزاح بات کہہ دیتے جس سے دلچسپی برقرار رہتی۔آپﷺ کی تعلیم کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ مخاطب کے ذہنی معیار کو ہمیشہ مدنظر رکھتے۔
آپﷺ کا بڑا مقصد یہی تھا کہ لوگ آپﷺ کی بات سمجھ جائیں۔ آپﷺ کے پاس بدوی اور شہری،ان پڑھ اور تجربہ کار کم عقل اور ذہین دونوںطرح کے لوگ آتے تھے آپﷺ ہر ایک سے اس کی سمجھ کے مطابق سلوک کرتے۔ بطور معلم آپﷺ کی ایک خوبی آپﷺ کا انکسار اور تواضع بھی ہے۔ اگرچہ آپﷺ کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا شرف حاصل تھا اور آپﷺ کو اللہ تعالیٰ سے حقیقی علم عطا ہوا تھا اس کے باوجود آپﷺ نے کبھی غرور نہ کیا اور تواضع کو نہیں چھوڑا۔آپﷺ نے امت کو جس بات کی تعلیم دی اس کا بذات خود عملی نمونہ بن کر دکھایا۔ آپﷺ نے لوگوں کو نماز کی تلقین فرمائی تو خود اپنا یہ حال تھا کہ اگر دوسرے پانچ وقت نماز پڑھتے تھے تو آپ آٹھ وقت نماز پڑھتے تھے جس میں چاشت، اشراق اور تہجد کی نمازیں شامل ہیں،آپﷺ نے دوسروں کو نماز باجماعت کی تعلیم دی تو خود یہ عمل کرکے دکھایا کہ ساری زندگی تو نماز باجماعت کی پابندی فرماتے رہے۔
مرض وفات میں بھی آپﷺ نے مسجد کی جماعت کو نہ چھوڑا اور دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں تشریف لا کر نماز ادا کی۔آپﷺ نے مسلمانوں کو زکو دینے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید فرمائی تو سب سے پہلے اس کا نمونہ خود پیش فرمایا۔ عام مسلمانوں پر مال کا چالیسواں حصہ فرض کے طور پر دینے کا حکم تھا لیکن آپﷺ کا اپنا عمل یہ تھا کہ اپنی ضروریات کو نہایت سادہ طریقے سے پورا کرنے کے بعد اپنی ساری آمدنی ضرورت مند افراد میں تقسیم فرما دیتے تھے۔
(جاری ہے)