حماس کے جانباز ترجمان 6 مارچ کے بعد چند دن قبل پہلی بار منظر عام پر آئے ،اور مزاحمت کی حکمت عملی اور مذاکرات پر خطاب کیا، الجزیرہ کے مطابق ’’ان‘‘ کا کہنا ہے کہ چار ماہ گزر چکے ہیں جب دشمن نے ایک بار پھر وعدہ خلافی کرتے ہوئے جارحیت کا سلسلہ شروع کیا۔ ان مہینوں کے دوران ہم نے سینکڑوں صہیونی فوجیوں کو ہلاک و زخمی کیا اور ہزاروں کو ذہنی بیماریوں اور صدمات سے دوچار کیا۔ ہمارے ’’جانباز‘‘مسلسل نئی حکمت عملیاں اپنا کر دشمن کو حیران کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے تاریخ کی طویل ترین مزاحمتی جنگ سے سبق سیکھا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں ہمارے ’’جانبازوں‘‘نے کئی صہیونی فوجیوں کو قیدی بنانے کی کوششیں کیں۔ غزہ کی مزاحمت آج کے دور کی سب سے بڑی عسکری تربیت گاہ ہے، جہاں ایک محکوم قوم اپنے قابضین سے نبرد آزما ہے۔ مزاحمت مکمل طور پر تیار ہے کہ دشمن کے ہر ممکن حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے اسے طویل جنگ میں الجھا دیا جائے۔امت کے حکمرانوں، دانشوروں اور علما ء کی گردنوں پر ہزاروں مظلوموں کے خون کا بوجھ ہے، جنہیں انہوں نے اپنی خاموشی سے تنہا چھوڑ دیا۔ دشمن نے یہ نسل کشی اس لیے کی، کیونکہ اسے یقین تھا کہ اسے کوئی سزا نہیں ملے گی اور وہ خاموشی اور بزدلی خرید چکا ہے۔ ہم کسی کو معاف نہیں کرتے، ہر وہ شخص جو بول سکتا ہے اور اثر و رسوخ رکھتا ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کردار ادا کرے۔ ہم اپنے یمن کے عزیز عوام، ان کی مسلح افواج اور انصار اللہ کے مخلصین کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے دشمن کے خلاف ایک موثر محاذ کھول کر بزدلوں اور خاموشوں پر حجت قائم کر دی ہے۔
دنیا بھر کے تمام آزاد انسانوں کو خراجِ تحسین جو خطرات کے باوجود ہمارے عوام کے ساتھ یکجہتی اور محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہم مذاکراتی وفد کی مکمل حمایت کرتے ہیں جو دشمن کے ساتھ بالواسطہ بات چیت میں شریک ہے۔ ہم نے بارہا مکمل قیدیوں کی رہائی کی جامع پیشکش کی، کہ تمام دشمن قیدیوں کو ایک ہی بار رہا کیا جا سکتا ہے۔ مگر مجرم نیتن یاہو اور اس کے وزراء نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، کیونکہ ان کے نزدیک قیدی صرف فوجی ہیں، اس لئے اہمیت نہیں رکھتے۔ دشمن کی حکومت نے اپنی قوم کو ذہنی طور پر قیدی فوجیوں کی موت کو قبول کرنے کے لیے تیار کر لیا ہے۔ ہم ان مذاکرات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسی ڈیل پر منتج ہوں گے جو نسل کشی کو روکے، قابض کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرے اور ہمارے عوام کی امداد کی راہ کھولے۔ اگر دشمن نے ضد دکھائی تو ہم دوبارہ جزوی معاہدوں یا ’’دس قیدیوں کی رہائی‘‘جیسے تجاویز پر واپس نہ بھی آئیں۔ صہیونی ناکامی کی علامت یہ ہے کہ وہ مزاحمت کا سامنا نہ کر کے اجتماعی سزا، نسل کشی اور جنگی جرائم کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔ دشمن نہتے عوام کو اذیت دینے میں مہارت رکھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ وہ آبادی کو جبری طور پر نکالے گا، منظم تباہی پر فخر کرتا ہے جیسے یہ کوئی عسکری کامیابی ہو۔ وہ دنیا کے سامنے نازی طرز کے عقوبت خانوں کے منصوبے ’’انسانی بہانے‘‘ سے پیش کر رہا ہے۔ دشمن ایک ایسی سادی ذہنیت میں مبتلا ہے کہ ماضی کے مظالم کو اپنے موجودہ جرائم کے لیے جواز بناتا ہے۔’’سام دشمنی‘‘کی جھوٹی کہانی جس پر وہ برسوں سے گزارہ کر رہے ہیں، ایک دن ہنسی کا باعث بنے گی۔
ہمارے عوام کو صہیونی نفسیاتی مسائل کا خمیازہ بھگتنے کی سزا کیوں دی جائے؟ صہیونیوں کو جان لینا چاہیے کہ دنیا ان سے اس لیے نفرت کرتی ہے کہ وہ انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں۔ عربی ناموں میں چھپ کر دشمن کی خدمت کرنے والے ایجنٹ دراصل شکست کی نشانی ہیں اور ناکامی کی ضمانت۔ یہ ایجنٹ عوام کے شعور، غیرت اور بغاوت کے طوفان میں بہہ جائیں گے۔ ہم ایجنٹوں کو توبہ کی دعوت دیتے ہیں کہ ابھی لوٹ آئیں، بصورت دیگر پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ہم اپنے عظیم عوام اور ان کے شریف قبائل کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ان ایجنٹوں سے اظہارِ برات کر کے اپنی عزت و غیرت کا ثبوت دیا۔ ہمارے عوام کا صبر، قربانی، ظلم کے خلاف مزاحمت اور بھوک و محرومی کو برداشت کرنا دشمن کے لیے سب سے بڑی اذیت ہے۔
فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ میں عارضی جنگ بندی کے حق میں ہیں لیکن اگر اس وقت جاری مذاکرات میں اس طرح کا معاہدہ نہیں ہوتا ہے کہ پھر تنازع کے خاتمے کے لیے مکمل معاہدے کا مطالبہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حماس غزہ میں موجود قیدیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی معاہدے کی مسلسل پیش کش کر رہا ہے لیکن اسرائیل انکار کرچکا ہے۔حماس کا موقف ہے کہ ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو مستقل جنگ بندی کی طرف پیش رفت ہو جبکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ جنگ اسی صورت ختم ہوسکتی ہے جب حماس کا صفایا ہو اور اس کی قیادت غزہ سے باہر چلی جائے۔
دوسری طرف اسرائیل میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوری جنگ بندی معاہدہ کیا جائے‘یرغمال بنائے گئے افراد کے اہلخانہ اور شہری بڑی تعداد میں تل ابیب میں جمع ہوئے اور امریکی سفارت خانے کی طرف مارچ کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا‘مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر حماس سے مذاکرات کرے تاکہ یرغمالیوں کی بحفاظت واپسی ممکن بنائی جاسکے‘یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور عوام حکومت کی پالیسیوں سے شدید نالاں دکھائی دے رہے ہیں۔