Search
Close this search box.
جمعه ,03 جولائی ,2026ء

سیاست میں علما ء کا کردار

عام طور پر ایک گمراہ کن تصور ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے کہ علماء کو سیاست میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔علما ء کا سیاست سے کیا لینا دینا۔ انہیں دین کی خدمت اور صرف تبلیغ اسلام کے لئے کام کرنا چاہیے-سیاست میں دلچسپی علما ء کے لئے غیر ضروری اور نامناسب ہے۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈہ مفاد پرست لوگوں اور وقت کے ٹھیکیداروں نے اس منظم طریقے سے پھیلایا ہے کہ لوگ اس پر یقین کرنے لگے ہیں۔ مناسب سمجھا کہ اس گمراہ کن نقط نظر کا جائزہ لے کر آگاہی دی جائے کہ علما ء کا سیاست میں حصہ لینا کیوں ضروری ہے؟ سب سے پہلے اس امر کو ذہین نشین کرنا ضروری ہے کہ دین اسلام صرف عبادات و اخلاق کے کسی مجموعہ کا نام نہیں بلکہ اسلام انسانی زندگی کے ہر شعبہ کے لیئے مکمل نظام حیات ہے-اجتماعی و انفرادی زندگی کے کسی بھی شعبہ میں اسلامی تعلیمات کی افادیت و ضرورت سے انکار کرنا کفر ہے۔عبادات و اخلاق دین اسلام کے شعبے ضرور ہیں لیکن صرف انہی پر اسلام انحصار نہیں کرتا بلکہ ان کے علاوہ اسلام نے نظام حکومت،نظام اقتصادیات، نظام قانون اور نظام جہاد کو بھی انسانیت کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ان نظاموں کو قبول کئے بغیر اسلام کا تصور بلاشبہ ناقص ،ادھورا اور نامکمل رہے گا-مسلم معاشرے میں ایک عادل اور صالح حکومت کا قیام اسلام کے بنیادی مقاصد میں سے ہے-خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے اسلام کا یہ بہترین نظام نافذ کر کے اس کی حقانیت،ضرورت اور افادیت واضح کر دی ہے۔مملکتِ اسلامیہ کے تمام شہریوں کے معاشی حقوق کی نگہداشت، انہیں روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنا اسلامی حکومت کے اہم فرائض میں سے ہے-جسے پورا کئے بغیر وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو سکتی۔ جرائم کے خاتمے اور معاشرے کی اصلاح کے لئے اسلامی حدود و تعزیرات مثلاً زنا، شراب، قتل، ڈاکہ اور چوری وغیرہ کے لیئے شرعی سزائوں کا نفاذ ناگزیر ہے جس کے بغیر کوئی بھی حکومت اسلامی کہلانے کی حقدار نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ کفر کی سرکوبی اور مسلمانوں میں ملی غیرت و حمیت برقرار رکھنے کے لئے نظام جہاد ضروری ہے-اس کے بغیر اسلامی سطوت و شوکت کا اظہار نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو براہ راست قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ دین کے ارکان میں شمار ہوتے ہیں۔ اس لئے قرآن و سنت کا علم رکھنے والے کسی بھی شخص کے لئے ان امور سے صرف نظر کرنا ناممکن ہے-علم دین سے بہرہ ور کوئی بھی شخص عبادات و اخلاقیات کے ساتھ ساتھ حکومت، اقتصادیات، قانون اور جہاد جیسے اہم معاملات میں قوم کی صحیح اور مکمل رہنمائی کیئے بغیر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو سکتی۔اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ علمائے اسلام نے ہر دور میں ملتِ اسلامیہ کی سیاسی رہنمائی کی ہے۔ ملت اسلامیہ کی تاریخ کا کوئی ایسا باب نہیں جو علماء کے عملی سیاست میں حصہ لینے کے مسئلے میں خاموش ہو۔علماء اسلام نے جہاں مسلم معاشرہ میں قرآن و سنت اور فقہ و تاریخ جیسے اسلامی علوم کی حفاظت و اشاعت کی ہے۔وہاں ملت اسلامیہ کو ظلم سے نجات دلانے، نظام عدل و انصاف کے مکمل نفاذ اور مسلم حکومتوں کو راہ راست پر لانے کے لیئے بھی بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔تاریخ اسلام اس قسم کے بے شمار واقعات و شواہد سے بھری پڑی ہے۔ مثلا ًحضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کی جدوجہد کو سامنے رکھیے۔تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت امام اعظم کو جیل میں زہر دے کر شہید کیا گیا-جرم کیا تھا؟ کیا حکومت وقت نے انہیں نماز، روزہ، زکوٰۃ ، حج یا عبادات و اخلاس کے کسی مسئلہ پر عمل کرنے سے روکا تھا؟ یقینا ایسی بات نہیں تھی بلکہ مسئلہ صرف اتنا تھا کہ حکومت وقت انہیں قاضی القضا (چیف جسٹس) کی مسند پر بٹھا کر ان کی آواز کو خاموش کر دینا چاہتی تھی تاکہ وہ عدل کے لئے کچھ نہ کر سکیں مگر حضرت امام صاحب اس سیاسی خودکشی کے لئے تیار نہ تھے۔بالآخر حضرت امام اعظم نے زہر کا پیالہ تو پی لیا مگر سیاسی جدوجہد سے اپنے قدم پیچھے نہ ہٹائے-برصغیر پاک و ہند اور بنگلہ دیش میں ملت اسلامیہ کی سیاسی تاریخ علماء کرام کی جدوجہد سے عبارت ہے۔علما ء کرام کی سیاسی جدوجہد کو نظر انداز کر کے برصغیر میں ملت اسلامیہ کی سیاسی تاریخ کا کوئی باب مکمل نہیں کیا جا سکتا۔ برصغیر کے علما نے خواجہ قطب الدین بختیار کاکی، حضرت مجدد الف ثانی اور حضرت ملا جیون کی طرح حکمرانوں کی اصلاح کے فرائض سرانجام دیئے ہیں۔حضرت امام الہند، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اور شاہ عبدالعزیز دہلوی نے بھی فکر و نظر کے میدان میں سیاسی رہنمائی کی ہے-
الغرض علمائے اسلام خصوصاً برصغیر کے علماء کی سیاسی خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ سیاسیات کا کوئی بھی شعبہ ان کی خدمات اور کاوشوں سے محروم نہیں ہے۔اس طرح علمائے اسلام کا سیاست میں حصہ لینا ان کے ملی و دینی فریضہ کے ساتھ ساتھ ان کے اپنے اسلاف و اکابر کی شاندار روایات کا اہم حصہ اور ورثہ ہے جس سے علمائے اسلام کسی صورت روگردانی نہیں کر سکتے۔ میری معروضات بنیادی طور پر تین پہلوئوں پر مبنی ہیں:سیاست کے ساتھ علما کا تعلق کیا ہے؟قومی سیاست میں اب تک علماء کا رول کیا ہے اور اس کے ثمرات و نتائج کیا ہیں؟سیاسی محاذ پر آئندہ علماء کے آگے بڑھنے کے کیا امکانات ہیں؟ جہاں تک علماء اور سیاست کے باہمی تعلق کا سوال ہے تو یہ بات بطور اصول پیش نظر رکھنی ضروری ہے کہ سیاست کے ساتھ علماء کا تعلق دینی بھی ہے اور نظریاتی بھی، عملی و واقعاتی بھی۔ سیاست کے ساتھ علماء کے واقعاتی تعلق پر برصغیر پاک و ہند اور بنگلہ دیش کی تاریخ شاہد ہے کہ یہاں علما ء کرام نے امتِ مسلمہ کی سیاسی رہنمائی جس جرات و استقلال کے ساتھ کی ہے وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ تحریک آزادی میں علما ء نے ایثار و قربانی کا جو شاندار رول ادا کیا، وہ بڑا ہی یادگار ہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ سیاسی جدوجہد اور قربانیوں میں علما ء کا ایسا مربوط تسلسل پایا جاتا ہے جو بہت ہی بے مثل ہے۔ سیاست سے علماء کے باہمی تعلق کا یہ سب سے واضح اور روشن پہلو ہے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ علماء اس ملک میں کبھی انتخابی قوت نہیں رہے۔اسمبلیوں میں علماء کا وجود نمائندگی کی حد تک محدود ہے۔ان کی اصل قوت ہمیشہ سٹریٹ پاور رہی ہے۔حقائق تلخ ہوتے ہیں۔ میری یہ کمزوری رہی ہے کہ دوٹوک بات کرنے کا عادی ہوں۔یہ ماننا پڑے گا کہ علماء کو سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔مان لینا چاہیے کہ سیاست اور علماء لازم و ملزوم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں