کون کیا سوچتا ہے آئیے پہلے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
حکومت والے سوچتے ہیں کہ ہمارا کام چل رہا ہے ہمیں کیا ضرورت ہے عمران خان سے بات کرنے کی۔ پنجابی زبان میں کہتے ہیں ’’ساڈی کیڑی ویلنے اچ باں آئی اے‘‘ مطلب ہمیں ایسی کیا مجبوری ہے کہ ہم عمران خان یا تحریک انصاف کی ڈیمانڈز کو اکاموڈیٹ کریں۔ عہد موجود میں حکومت نسبتاً کمفرٹیبل دکھائی دے رہی ہے لہٰذا ہمیشہ کی طرح حکومتی اکابرین اپنی مستی میں ہیں۔
دوسری طرف عمران خان ہیں جو یقینا یہ سوچ رہے ہوں گے کہ 2024ء کے انتخابات میں عوام نے مینڈیٹ ان کو دیا تھا لیکن فارم 47 کی جعل سازی کے ذریعے یہ لوگ حکومت بنا کر بیٹھ گئے ہیں۔ عمران خان کی جگہ دنیا کا کوئی اور لیڈر ہوتا تو شاید اس گھنائونے فعل کے بعد نظام سے بغاوت کی سوچتا لیکن عمران خان نے پھر بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ دنیا کے کسی مہذب ملک میں چشم فلک نے کبھی ایسی وارات نہ دیکھی ہوگی کہ ووٹوں کے نتیجے کو یوں بدل دیا گیا ہے۔ کمشنر راولپنڈی نے جو اعترافی بیان دیا اس کے مطابق پچاس پچاس ہزار کی لیڈ سے جیتنے والے امیدوار کو ہروا دیا گیا۔ یہ واردات پورے پاکستان میں ہوئی جس کے نتیجے میں عمران خان کی حکومت کو بننے سے روک دیا گیا اور فارم 47 والی حکومت برسراقتدار آگئی۔ عمران خان جب جیل کی قید تنہائی میں اس بابت سوچتے ہوں گے تو وہ کس کرب سے گزرتے ہوں گے۔ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
حکومت کو مگر اس کا احساس نہیں ہے اور احساس بھی کیونکر ہو کہ وہ اس جعلی سیٹ اپ کے بینی فشری ہیں۔ کوئی اس پیڑ کو نہیں کاٹتا جس پر خود بیٹھا ہو لہٰذا حکومت سے توقع رکھنا کہ وہ اصلاح احوال کا سوچے گی بالکل بے تکی سی بات ہے۔ عمران خان بھی یہ سوچ کر اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کا کہتے ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال کا اگر کوئی حل نکلنا ہے تو وہیں سے نکلنا ہے۔ وہاں سے بھی حل نکلنے کی مخصوص صورتیں اور حالات ہیں۔ قومی سطح کی کوئی ایمرجنسی جیسا کہ پاک بھارت جنگ کا معاملہ تھا یا پھر ذاتی مفاد کچھ اس نوعیت کا نکل آئے کہ کل کے دشمن دوست بن جائیں۔
موخرالذکر صورتحال کو سمجھنے کے لئے جنرل باجوہ اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان درویوں اور بعدازاں قربتوں کی ’’کہانی‘‘ یا مثال ہمارے سامنے ہے۔ کہاں جنرل باجوہ پر لعن طعن اور دشنام طرازی اور کہاں 2022ء میں عدم اعتماد تحریک کے دورارن پیار محبت کی پینگیں۔ آج یہ بات خود لیگی قائدین کہہ رہے ہیں کہ جنرل باجوہ ایک اور ایکسٹینشن چاہتے تھے۔
پاکستان میں ہر انہونی ہوسکتی ہے بات صرف ’’ضرورت‘‘ کی ہے۔ ہم پاکستانی ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے لوگ ہیں۔ ضرورت ہمارا قانون ہے اور یہی ہمارا آئین ہے۔ آج عمران خان اگر دشمن نمبر ایک ہے تو کل کو یہی عمران خان آنکھ کا تارا ہوگا۔ بات ضرورت کی ہے۔ ضرورت پڑی تو جیل کا پھاٹک کھل جائے گا اور دوریاں نزدیکیوں میں بدل جائیں گی۔ مشہور قول ہے کہ ’’دنیا میں مضبوط رشتہ مفاد کا رشتہ ہ ے۔‘‘
دریں حالات عمران خان کے پاس کیا راستہ ہے؟ ایک راستہ یہ ہے کہ وہ جیل میں رہ کر آنے والے اچھے وقت کا انتظار کریں یا اچھے وقت کے انتظار میں وہ کریں جو مسلم لیگ کے قائد میاں نواز شریف ’’ایسے وقت‘‘ میں کرتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف فارمولا ابتدائی طور پر بے عزتی کا باعث بنتا ہے لیکن بعدازاں یہ باعزت واپسی کا سبب بن جاتا ہے۔ جنرل مشرف کے عہد کے بعد ’’پلیٹلٹس کی کمی‘‘ کے بہانے ملک سے فرار میاں نواز شریف کا دوسرا ایڈونچر تھا جس میں وہ حیران کن طور پر دوبارہ کامیاب رہے۔ اب کی بار وزارت اعظمیٰ انہیں پھر چھوتے ہوئے گزری ہے؟ نواز شریف نے پاکستانی قوم کی نفسیات سے خوب کھیلا ہے۔ اپنی ہزیمت کو وہ نیلسن منڈیلا کے اقوال جیسا کہ ’’قیدی کا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا‘‘ وغیرہ میں کور (Cover) کرلیتے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ عمران خان کا مزاج ایسا نہیں ہے ورنہ وہ نواز شریف کی طرح اس وقت بیرون ملک بیٹھے ہوتے۔ عمران خان جیل میں رہ کر سسٹم کر گرانا چاہتے ہیں۔ ابھی تک وہ سختیوں اور مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور پرعزم ہیں کہ اپنے نظریات پر وہ کمپرومائز نہین کریں گے۔ ان کی امید ہے کہ پاکستانی عوام اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے لئے جب اٹھیں گے تو موجودہ نظام زمین بوس ہو جائے گا۔ ان کے ایام اسیری کے دورارن اس حوالے سے جو کوششیں ہوئیں ان میں 26 نومبر 2024ء اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ ان کی زوجہ محترمہ بشری بی بی نے اس کی قیادت کی۔ عوام کو اسلام آباد سے نکالنے کے لئے ریاست، طاقت کا استعمال کیا اور نہتے لوگوں پر گولی چلائی۔
عمران خان نے حقیقی آزادی کے لئے جو جدوجہد شروع کی ہے اس سے لوگ اختلاف کر سکتے ہیں اور سوال اٹھا سکتے ہیں کہ حقیقی آزادی کے لئے آخر ان کا ایجنڈا اور منشور کیا ہے؟ لیکن فارم 47 کی جعلی مینڈیٹ والی حکومت کے خلاف عمران خان کی تحریک کی مخالفت کوئی ذی شعور محب وطن پاکستانی کیسے کر سکتا ہے۔ کیا اس طرح انتخابی نتیجے تبدیل کرکے حکومتیں بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ موجودہ حکومت کے خلاف عمران خان کا مقدمہ تو ’’اوپن اینڈ شٹ‘‘(Open and Shat) کیس ہے۔ اس ناجائز حکومت کا وجود پاکستانی قوم کے ضمیر پر ایک گراں بوجھ ہے جس کو جتنی جلد اتار پھینکا جائے اتنا ہی بہتر رہے گا۔