Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

توہین رسالت،انکوائری کمیشن پر اعتراض کیوں؟

(گزشتہ سے پیوستہ)
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اسپیشل برانچ کی جس رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے،اس رپورٹ کے متعلق نہ صرف یہ کہ کابینہ ڈویژن اور وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں یہ رپورٹ جمع کروائی ہے کہ ’’وفاقی حکومت کی تحقیقات کے مطابق مذکورہ رپورٹ بے بنیاد ہے اور مذکورہ تمام زیر حراست ملزمان کے خلاف مقدمات درست ہیں،ان مقدمات کے حق میں ناقابلِ تردید شواہد بھی موجود ہیں‘‘ بلکہ خود اسپیشل برانچ پولیس پنجاب کے ڈی آئی جی نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے روبرو پیش ہوکر یہ بیان دیا ہے کہ ’’اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ غیر مصدقہ ہے،،،اس رپورٹ کے حق میں کوئی ایک ثبوت بھی اسپیشل برانچ کے پاس موجود نہیں ہے۔‘‘ ڈی آئی جی اسپیشل برانچ کے اس موقف کو لاہور ہائیکورٹ نے اپنے دو حکم نامہ میں بھی نقل کیا ہے۔جب وفاقی حکومت بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کروائی گئی اپنی رپورٹس میں اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے انکوائری کمیشن کے قیام کی پٹیشن کی مخالفت کر چکی ہے تو پھر انکوائری کمیشن کے قیام کا کیا کوئی جواز باقی رہتا ہے؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں مذکورہ کیس کی سماعت کے دوران بھی گستاخوں کی فیملی اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ کے حق میں کوئی ایک ثبوت بھی نہیں پیش کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ مذکورہ انکوائری کمیشن کے قیام کی مخالفت کی جارہی ہے کہ جب ریکارڈ پر ایسے کوئی شواہد موجود ہی نہیں ہیں کہ جن کی بنیاد پر انکوائری کمیشن کے قیام کا کوئی جواز ہو تو پھر صرف گستاخوں کی فیملیز اور سہولت کاروں کی جانب سے حقائق کے برعکس عائد کئے جانے والے محض بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر انکوائری کمیشن قائم کرکے مذکورہ گستاخوں کے خلاف مدعیان مقدمہ کو کیوں انکوائری کے مراحل سے گزارا جائے؟
اب آتے ہیں۔ دوسرے سوال کی طرف کی مذکورہ گستاخوں کے رشتہ داروں اور سہولت کاروں کی جانب سے انکوائری کمیشن کے قیام کا کیوں مطالبہ کیا جا رہا ہے؟اگر ان کے پاس اتنے شواہد موجود ہیں کہ وہ انکوائری کمیشن کے روبرو اپنے الزامات کو درست ثابت کر سکتے ہیں تو پھر وہ انکوائری کمیشن کے روبرو وہ اس لاحاصل جدوجہد کے بجائے ان شواہد کو ٹرائل کورٹس کے روبرو پیش کرکے مذکورہ گستاخوں کو مقدمات سے بری کروانے کی کوشش کیوں نہیں کررہے؟اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی.انکوائری کمیشن اگر تمام گستاخوں کو گناہ گار قرار دے دے تو نہ تو اس سے کوئی فرق پڑے گا اور نہ ہی اگر وہ تمام گستاخوں کو بے گناہ قرار دے دے،اس سے کوئی فرق پڑے گا.بالآخر مذکورہ گستاخوں کے گناہ گار یا بے گناہ ہونے کا فیصلہ ٹرائل کورٹس نے ہی شواہد کی روشنی میں کرنا ہے،نہ کہ کسی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں۔گستاخوں کی فیملیز اور سہولت کار بھی اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ صرف اس لئے کررہے ہیں کہ ان کا اصل مقصد یہ ہے کہ جب انکوائری کمیشن بن جائے گا تو کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مقدمات کے متعلق انویسٹی گیشن اور ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر سکتا ہے،انکوائری کمیشن جب مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لے گا تو پھر مذکورہ گستاخوں کے خلاف مقدمات کے ٹرائل رک جائیں گے.مقدمات کے ٹرائل رکنے کی صورت میں مذکورہ گستاخ ضمانت پر رہائی کے قانونی طور پر مستحق بن جائیں گے.پھر ان کی ضمانت پر رہائی کے نتیجے میں پاکستان سے فرار ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
کمیشن کے قیام کے مطالبے کے پس پردہ دیگر مقاصد یہ بھی ہیں کہ جتنا عرصہ کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے گا،اس عرصے کے دوران گستاخوں کے سہولت کار ملکی و عالمی سطح پر توہین مذہب و توہین رسالت کے قوانین کے خلاف پروپیگنڈہ بھی کریں گے اور اس کے نتیجے میں توہین رسالت کی دفعہ میں ترامیم کرنے کے لئے دبائو بڑھایا جائے گا۔خلاصہ یہ ہے کہ انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے۔مزید یہ کہ جب انکوائری کمیشن کی رپورٹ کی کوئی حیثیت بھی نہیں ہو گی تو پھر گستاخوں کے رشتہ دار اور سہولت کار اگر سمجھتے ہیں کہ کوئی گستاخ بے گناہ ہے تو اس کی بے گناہی کمیشن کے سامنے ثابت کرنے کے بجائے ٹرائل کورٹس کے سامنے ثابت کرنے سے کیوں گریزاں ہیں؟جبکہ مذکورہ گستاخوں کے خلاف درج مقدمات کے فیصلے ٹرائل کورٹس نے ہی کرنے ہیں اور ٹرائل کورٹس کے ججز صاحبان بھی بالکل آزاد ہیں.وہ مذہبی جماعتوں کے زیر اثر بھی نہیں ہیں، ان حقائق کی روشنی میں انکوائری کمیشن کے قیام کی مخالفت کی جارہی ہے۔اگر یہ ضمانت دی جاتی کہ انکوائری کمیشن کے قیام کی وجہ سے مذکورہ گستاخوں کے خلاف جاری قانونی عمل نہیں رکے گا اور نہ ہی انکوائری کمیشن توہین مذہب و توہین رسالت کے قوانین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کے متعلق کوئی تجویز پیش کرے گا تو پھر انکوائری کمیشن کے قیام پر کوئی اعتراض نہ کیا جاتا۔بے شک پھر کمیشن ریٹائرڈ شخصیات پر مشتمل نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے تین سینئر حاضر سروس ججز صاحبان پر مشتمل قائم کر دیا جاتا۔اب گستاخوں کے رشتہ دار اور ان کے سہولت کار اپنے الزامات کو یا کسی بھی گستاخ کی بے گناہی کو ٹرائل کورٹ کے روبرو درست ثابت کر دیتے ہیں تو خاکسار اس حق میں ہے کہ پھر مدعی مقدمہ پر تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کا ہی اطلاق کرکے اسے سزائے موت دی جائے۔اس لئے کہ کسی بے گناہ شخص پر توہین رسالت کا الزام عائد کرنا بھی توہین رسالت ہی ہے۔اگر گستاخوں کے رشتہ دار اور سہولت کار اپنے موقف میں سچے ہیں تو پھر وہ عملی اقدامات کی طرف آئیں۔درست قانونی فورم ٹرائل کورٹ میں آئیں۔نہ کہ انکوائری کمیشن کے پیچھے چھپیں کہ جس کی رپورٹ کی نہ تو کوئی قانونی حیثیت ہو گی اور نہ ہی جہاں سے کوئی عملی نتیجہ برآمد ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں