Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

افغان وزیر خارجہ کا دورہ، ایک اہم پیش رفت

افغان عبوری وزیر خارجہ پاکستان کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔ خطے میں علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے والوں کے لئے یہ خبر نہایت اہم ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے دو طرفہ تعلقات کی بہت سی جہتیں ہیں تاہم گزشتہ پانچ دہائیوں میں ان تعلقات میں علاقائی سلامتی کا رنگ غالب رہا ہے۔ روس کی جارحانہ دراندازی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے جو عدم استحکام پیدا کیا اس کے سب سے زیادہ بد اثرات افغانستان اور پاکستان نے برداشت کیے۔ روس کی پیش قدمی سے امریکی فوجوں کے انخلا تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ پاکستان اور افغانستان نے عدم استحکام کی بدولت بہت سے زخم سہے ہیں۔ باہمی تعلقات کے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد دونوں ممالک کے سنجیدہ طبقات میں یہ سوچ پختہ ہوتی جا رہی ہے کہ عدم استحکام کا خاتمہ اشتراک عمل سے ہی ممکن ہے۔ شدت پسندی کسی مسئلے کو الجھا سکتی ہے لیکن حل نہیں کر سکتی۔ مسلح جدوجہد غیر ملکی قابض قوتوں کے خلاف تو جائز ہے لیکن اپنے شہریوں اور قابل اعتماد پڑوسیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان مخالف گروہوں کی موجودگی ایک ناقابل برداشت حقیقت ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کے متعدد ذیلی گروہ ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کے قاتل ہیں۔ ان دہشت گرد گروہوں کو ریاست پاکستان باضابطہ طور پر ’’فتنہ خوارج‘‘قرار دے چکی ہے۔
افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کا تذکرہ اقوام متحدہ سمیت متعدد مستند تحقیقاتی رپورٹوں میں بھی کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کو یہ توقع تھی کہ افغان عبوری حکومت کے قیام کے بعد افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروہوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔ توقعات کے برعکس ایسا نہ ہوا بلکہ دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں پاکستان میں زور پکڑنے لگی۔ دہشت گردی کا قابل مذمت سلسلہ صوبہ کے پی سے دراز ہوتا ہوا صوبہ بلوچستان تک جا پہنچا۔ آج ان دونوں صوبوں میں کالعدم دہشت گرد گروہ ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ان فتنہ گر دہشت گردوں کے خاتمے کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے۔ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کا خاتمہ پاکستان کے ریاستی پالیسی کا لازمی جزو ہے۔ مغربی سمت میں واقع ہمسائے افغانستان کی سرزمین پر پاکستان مخالف گروہوں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی معاملے کو مزید خراب کر رہی ہے۔ افغان عبوری حکومت کو پاکستان متعدد ذرائع سے بار بار اپنے جائز تحفظات سے آگاہ کرتا آیا ہے۔ کابل کی سست روی اور سرد مہری نے اس اہم معاملے کو الجھا دیا تھا۔ البتہ گزشتہ تین ماہ میں اس حوالے سے مثبت خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے جولائی کے تیسرے ہفتے میں یہ بیان جاری کیا کہ طالبان عبوری حکومت نے کالعدم دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے مثبت اشارے دئیے ہیں۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور فتنہ خوارج کے حوالے سے با مقصد مذاکرات ہوئے ہیں۔
پاکستان میں طویل عرصے سے مقیم افغان پناہ گزینوں کی واپسی سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوا۔ رجسٹرڈ پناہ گزینوں کی واپسی کی مقررہ تاریخ 30جون کو ختم ہونے کے بعد کی صورتحال بھی نہایت اہم ہے۔ کابل میں طالبان کی عبوری حکومت کے قیام کے بعد پناہ گزینوں کی واپسی ہو جانا چاہیے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون باہمی ترقی کے لیے بہت اہم ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی میں تعاون ممکن نہیں۔ چین کے تعاون سے ہونے والی حالیہ سہ فریقی ملاقاتوں نے بھی باہمی اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان نے زرعی مصنوعات پر ٹیرف کم کرنے کا معاہدہ کر لیا ہے۔ انگور اڈا کراسنگ پوائنٹ کھولنے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے اور رواں ماہ کے اختتام تک آمد و رفت کا آغاز بھی متوقع ہے۔ افغان عبوری وزیر خارجہ امیر متقی کی پاکستان آمد ایک خوشگوار پیش رفت ہے۔ قوی امید ہے کہ افغان عبوری حکومت دہشت گرد گروہوں پر علاقائی سلامتی کو ترجیح دے کر پاکستان جیسے قابل قابل اعتماد ہمسائے سے تعاون کی مثبت طرز فکر اپنائے گی۔

یہ بھی پڑھیں