Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

پنجاب حکومت گڈ گورنس یانمائشی حکمرانی

انسانی تاریخ درحقیقت تہذیبوں کے عروج و زوال کی تاریخ ہے اور اس کی ہر منزل پر ایک سوال ہم سے بارہا سرگوشی کرتا ہے، ترقی کیا ہے؟ کیا یہ صرف بلند و بالا عمارات، شاہراہیں اور انڈسٹریل زونز کی تعمیر کا نام ہے؟ یا ترقی کا مفہوم کہیں زیادہ وسیع، عمیق اور انسان مرکز ہے؟ ابتدائے تاریخ سے لے کر آج تک، ہر معاشرہ ترقی کے کسی نہ کسی تصور کے زیر اثر رہا ہے۔ قدیم مصر، یونان، چین اور برصغیر کی تہذیبوں نے اپنی ترقی کو روحانیت، علم، فنونِ لطیفہ، یا معیشت سے جوڑا۔ اسلام نے ترقی کو انسانی فلاح، عدل، تعلیم اور مساوات سے وابستہ کیا، جبکہ مغرب نے صنعتی انقلاب کے بعد ترقی کو مادی سہولیات، ٹیکنالوجی اور معاشی اشاریوں میں ناپنا شروع کیا۔لیکن ترقی کی یہ دوڑ جب سیاست، سرمایہ داری اور استحصالی نظاموں کی نذر ہوئی تو ترقی کا مطلب صرف وہی رہ گیا جو دکھائی دیتا ہے سڑکیں، پل، اور میگا پراجیکٹس۔ انسان، اس کی عزت، آزادی، اور معیارِ زندگی ترقی کی اصل روح اکثر کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔پاکستان، بالخصوص پنجاب، بھی اسی تاریخی دائرے میں گھومتا دکھائی دیتا ہے۔
یہاں بھی ترقی کے نعروں میں بلند و بانگ منصوبے دکھائے جاتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی عوام کے روزمرہ مسائل، بنیادی حقوق، انصاف، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں بھی جھلکتی ہے؟ کیا یہ ترقی محض اشرافیہ کی تجوریاں بھرتی ہے یا عام آدمی کی زندگی میں بھی حقیقی بہتری لاتی ہے؟تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں پائیدار ترقی کرتی ہیں جو گڈ گورننس، شفافیت، قانون کی بالادستی، اور عوامی شراکت داری کو اپنی بنیاد بناتی ہیں۔ ترقی کا مفہوم وقتی چمک سے زیادہ دیرپا نظم، فکری بلوغت اور سماجی انصاف سے وابستہ ہوتا ہے۔ لہٰذا، آج جب ہم پنجاب حکومت کی کارکردگی کو جانچنے بیٹھتے ہیں تو یہ سوال ہمیں ضرور سامنے رکھنا چاہیے،کیا یہ ترقی تاریخ کے آئینے میں ایک روشن باب ہے یا محض ایک دکھائوے کا،پنجاب حکومت گزشتہ دو دہائیوں سے کئی سیاسی جماعتوں کے زیرِ اقتدار رہی ہے۔ ہر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کی بھرمار کی میٹرو، اورنج لائن، فلائی اوورز، سپیڈو بس، دانش اسکول، صحت کارڈ، کسان پیکجز، اور آئی ٹی زونز۔ لیکن اگر ہم تاریخ کے آئینے میں ترقی کا مطلب انسان کی عزت، انصاف کی دستیابی، تعلیم، صحت اور مواقع کی مساوی تقسیم مانتے ہیں، تو ہمیں ان منصوبوں کا ایک مختلف رخ دکھائی دیتا ہے۔
دانش سکولوں، لیپ ٹاپ اسکیم اور تعلیمی اصلاحات کے نام پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی حاضری، نصاب کی جدیدیت، تربیت، اور انفراسٹرکچر کا بحران آج بھی موجود ہے۔ شہری علاقوں کےماڈل سکول اخبارات کی زینت تو بنتے ہیں، مگر دیہات میں ہزاروں بچے فرش پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔حکومت پنجاب نے ’’انصاف صحت کارڈ‘‘کو گڈ گورننس کی مثال قرار دیا۔ لیکن سرکاری ہسپتالوں میں دوائوں کی عدم دستیابی، پرانی مشینری، رش، اور عملے کی عدم دلچسپی عام مسئلہ ہے۔ صحت کارڈ سے صرف مخصوص نجی اسپتالوں کو فائدہ ہوا، جبکہ دیہی عوام اکثر ان سہولیات تک رسائی نہیں رکھتے۔ پنجاب میں SME پروگرام، انڈسٹریل زون، اور کسان پیکجز جیسے اقدامات کئے گئے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ نوجوان بے روزگاری، مہنگائی، اور میرٹ کے فقدان سے پریشان ہیں۔ زیادہ تر منصوبے اشرافیہ اور کنسلٹنسی کمپنیوں کی نذر ہو جاتے ہیں، عام آدمی کا روزگار بڑھتا نہیں، دبائو ضرور بڑھتا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ جمہوری اقدار کے پنپنے میں بنیادی طور پر بلدیاتی اداروں کا کردار ہی اہم ہوتا ہےمگر ہمارے یہاں اس امر پر کبھی دھیان دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی۔
بلدیاتی ادارے جو گڈ گورننس کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں، انہیں یا تو معطل رکھا گیا، یا دانستہ طور پر کمزور بنایا گیا۔ ہر نئی حکومت پچھلی بلدیاتی ساخت کو ختم کر کے اپنی مرضی کا نظام لاتی رہی، جس سے مقامی سطح پر ترقیاتی عمل مفلوج ہو کر رہ گیا ۔میٹرو بس یا اورنج لائن جیسے میگا پراجیکٹس نے شہروں کی شکل تو بدل دی، مگر ان کا معاشی بوجھ اور قرضوں کا حجم عوام کے لئے خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ جب دیہاتی عورت ہسپتال نہ پہنچ پائے، اور کسان کھاد کے لیےدھکے کھاتا پھرے، تو یہ منصوبے ترقی نہیں، تضاد کی علامت بن جاتے ہیں۔کیا گڈ گورننس کا مطلب صرف بڑے بڑے منصوبے ہیں؟کیا ترقی صرف ٹی وی اشتہارات تک محدود ہونی چاہیے؟کیا عام شہری کی زندگی واقعی آسان ہو گئی ہے؟
پنجاب حکومت کی کارکردگی کو اگرہم صرف ظاہری ترقیاتی کاموں سے جانچیں تو بلاشبہ کچھ اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ مگر جب ہم ’’ترقی‘‘کو انسانی بہبود، نظامِ عدل، تعلیم، صحت اور خود مختاری کے پیمانوں پر پرکھتے ہیں، تو تصویر کا دوسرا رخ زیادہ واضح ہوتا ہے ،جہاں نظام کمزور، فیصلے مرکزیت زدہ، اور ترجیحات سیاسی فوائد پر مبنی دکھائی دیتی ہیں۔ترقی، جیسا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے، صرف وہی پائیدار ہوتی ہے جو انسان کے لیے ہو، انسان کے ساتھ ہو، اور انسان کے ہاتھوں سے ہو۔ پنجاب کو اگر حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ بنانا ہے تو نمائشی حکمرانی سے نکل کر شفاف، بااختیار اور مشاورتی حکمرانی کی طرف آنا ہوگاکیا اب وقت نہیں کہ ہم ترقی کے دعوئوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھنا سیکھیں؟

یہ بھی پڑھیں