اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے لوک سبھا انتخابات سے متعلق انکشافات نے بھارت کی جمہوری ساکھ اور شریمان مودی جی کی شہرت کو زمین بوس کر دیا ہے۔ راہول گاندھی کے مطابق گزشتہ سال انتخابات عوامی رائے کا مظہر نہیں بلکہ ایک منظم انتخابی ڈاکہ تھے۔ یہ واردات بی جے پی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ملی بھگت کی۔ اس دھاندلی کی سب سے نمایاں مثال مہادیواپورا اسمبلی حلقہ ہے، جو کرناٹک میں بنگلور سینٹرل لوک سبھا نشست کا حصہ ہے۔ اس نشست پر بی جے پی نے محض 32,707 ووٹوں سے جیت حاصل کی ۔ راہول گاندھی کا دعویٰ ہے کہ یہاں 1لاکھ سے زائد جعلی یا چوری شدہ ووٹ ڈالے گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب کانگریس نے اس حلقے کے 8 میں سے 7 اسمبلی حلقے جیت لئے تھے۔’’آپریشن سندور‘‘کے بعد نریندر مودی کی مقبولیت زوال پذیر ہے۔ عوامی اعتماد متزلزل ہو چکا ہے اور بھارتی سکیورٹی ادارے مودی کو جعلی ووٹوں اور منظم انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ آئندہ بہار انتخابات میں بھی انتخابی ڈاکہ زنی متوقع ہے۔ اول ،ریاستی مشینری کا بے جا استعمال کیا جائے گا۔دوم، حزب اختلاف کو نشانہ بنانے کے لئے منظم مہم چلائی جائے گی۔سوم، انتخابی نظام میں مداخلت اور ووٹر لسٹوں میں غلط اندراجات کے ذریعے نتائج مسخ کئے جائیں گے۔
سرکار کی سرپرستی میں منظم دھاندلی کی روش نے بھارت کی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مودی حکومت عوامی حمایت کھو چکی ہے اور اب اسے زبردستی قابو میں رکھنے کے لئے اداروں، عدلیہ، اور میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ کانگریس نے مودی سرکار کے دھاندلی کے پانچ طریقوں کا انکشاف کیا ہے۔ اول، دوہرے وزٹرز کے اندراجات۔ 11,965کیسز میں ایک ہی شخص کو متعدد پولنگ بوتھز پر ووٹر کے طور پر رجسٹر کیا گیا، یہاں تک کہ کئی ووٹرز کی شناختیں مختلف ریاستوں (جیسے مہاراشٹر اور اتر پردیش)میں بھی موجود تھیں۔دوم، چالیس ہزار سے زائد جعلی یا غلط پتوں کے اندراجات کئے گئے۔ایسے ووٹروں کو رجسٹر کیا گیا جن کے پتے فرضی، یا بالکل ناقابل تصدیق تھے۔ کئی اندراجات میں والد یا شوہر کا نام بھی غیر واضح یا جھوٹا تھا۔ سوم، دس ہزار سے زائد کیسز میں ایک ہی پتے پر درجنوں ووٹرز کا اندراج کر دیا گیا۔
ایک کمرے کے مکان میں 80 ووٹرز رجسٹر تھے، جبکہ ایک کمرشل فیکٹری میں 68 ووٹرز دکھائے گئے جبکہ وہاں کوئی بھی رہائش پذیر نہیں تھا۔چہارم ، چار ہزار سے زائد ایسے اندراج سامنے آئے جن میں جعلی یا تحریف شدہ تصاویر کے ذریعے دھاندلی کی راہ ہموار کی گئی۔ووٹر شناخت کارڈز پر تصاویر یا تو غائب تھیں، یا پھر ناقابل شناخت تھیں یا اتنی چھوٹی تھیں کہ پہچان ممکن نہ تھی۔ پنجم، تینتیس ہزار سے زائد کیسز میں فارم 6کا غلط استعمال کیا گیا۔یہ فارم نوجوان ووٹرز کے لیے مخصوص ہے، مگر اس کے ذریعے 60 سے 90سال کے افراد کو رجسٹر کر کے ووٹ ڈلوائے گئے۔ کئی افراد نے دو بار ووٹ بھی ڈالے۔راہول گاندھی کا سب سے سنجیدہ الزام یہ ہے کہ الیکشن کمیشن خود اس انتخابی جرم میں شریک ہے۔ الیکشن کمیشن نیڈیجیٹل ووٹر فہرستیں چھپائیں یا تباہ کیں۔
پولنگ اسٹیشنز کی CCTV فوٹیج دینے سے انکار کیا اور آڈٹ کے لئے الیکٹرانک ریکارڈز مہیا نہیں کئے۔کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے بھی ان الزامات کی توثیق کی ہے اور الیکشن کمیشن کو ’’ادارہ جاتی غداری‘‘ کا مرتکب قرار دیا۔راہول گاندھی کے مطابق مہادیواپورا صرف ایک مثال ہے۔ دھاندلی کا یہی ماڈل مہاراشٹر، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی دہرایا گیا ہے۔ بھارت کی جمہوری نقاب اتر چکی ہے ۔
بی جے پی کی فتوحات عوامی حمایت نہیں بلکہ منظم انتخابی فراڈ نتیجہ ہیں۔الیکشن کمیشن بھی خود مختار ادارہ نہیں رہا، بلکہ بی جے پی کا تابعدار گروہ بن چکا ہے۔ اپوزیشن کو شکست نہیں دی گئی، بلکہ ریاستی سطح پر کچلا گیا۔راہول گاندھی نے صرف الزامات نہیں لگائے، بلکہ مکمل ڈیٹا، ثبوت، اور زمینی شواہد کے ساتھ ایک قومی فراڈ بے نقاب کیا ہے۔آپریشن سیندور کی ناکامی ، سفارتی محاذ پر سبکی ، عسکری محاذ پر پاکستان کے ہاتھوں دندان شکن ہزیمت ، اور امریکی صدر ٹرمپ کے نشتر جیسے نوکیلے بیانات نے پہلے ہی مودی جی کی شہرت کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ کانگریس کے انکشافات نے مودی کی رہی سہی شہرت اور بھارت کی نام نہاد جمہوری ساکھ کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔