(گزشتہ سے پیوستہ)
نوجوان نسل میں پائےجانےوالے جرائم میں سب سے زیادہ منشیات کی خرید و فروخت اور اس کا استعمال ہے۔نیز ڈکیتی جیسے جرائم میں بھی نوجوانوں کی اکثریت ملوث پائی جاتی ہے۔ نوجوانوں میں جرائم کی بڑی وجہ بے روزگاری، حصول مقصد میں ناکامی،ایڈونچر اور تھرل ہے۔ قریباً 20 فیصد نوجوان پڑھائی کے پریشر کو کم کرنے کے لئے سکون آور نشے کا استعمال کرتے ہیں جس کی بابت بہت سے معروف تعلیمی اداروں میں اب منشیات کی خرید و فروخت عام سی بات بن چکی ہے۔ بہت سےخطرناک جرم صرف نشے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئےکئےجاتے ہیں-ذہنی صحت کے حوالے سے سروے کرنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے مطابق سب سے زیادہ ذہنی دبائو کا شکار نوجوان ہیں۔ یہ رپورٹ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں تو معاملات ہاتھ سے نکل رہے ہیں۔ان مسائل سے حکومت اور معاشرہ جس طور نمٹ رہاہے،جو اقدامات اٹھائےجارہے ہیں وہ بہت ناکافی ہیں-چونکہ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں- پڑھے لکھے افراد بے روزگار ہیں لہذا جن جرائم میں نوجوان نسل زیادہ شامل نظر آتی ہے وہ منشیات کے علاوہ سائبر اور سٹریٹ کرائم ہیں۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے مطابق سائبر کرائم میں 83 فیصد تک اضافہ ہوا ہے جبکہ سائبر کرائم میں ملوث زیادہ ترطلبا یا بےروزگارڈگری ہولڈرز ہیں۔علاوہ ازیں کچھ پیچیدہ نفیسات بھی نوجوانوں میں جرائم بڑھنے کا سبب ہیں۔جن میں بچپن کے ایام میں خواہشات کا پورا نہ ہونا،پرتشدد ماحول میں پرورش پانا، تعلیمی یا معاشی دبائو کا شکار ہونا وغیرہ ان اسباب میں شامل ہیں۔ماہرین نفسیات کا کہنا ہے انسانی ذہن عام طور پر اپنے اردگرد کے ماحول کا جلدی اثر لیتا ہے۔ہم جو کچھ پڑھتے، دیکھتے یا سنتے ہیں۔ ہمارے لاشعور میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میڈیا بھی کسی حد تک جرائم کے بڑھنے میں مددگار ہے۔معاشرے کے کم پڑھے لکھے نوجوان گلیمر اور چمکتی دنیا دیکھ کر یک لخت اس کو حاصل کرنا چاہتےہیں جس کے باعث کسی بڑے جرم کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔ ایسے جرائم میں گرفتار ہونے والے ایک ملزم سے جب پوچھا گیا کہ اس نے یہ جرم کیوں کیا؟ تو اس کا جواب تھا کہ اس نے فلاں ڈرامے کے فلاں کردار سے متاثر ہو کر یہ جرم کیا۔ 2020 ء میں اسی طرح ایک فلم سے متاثر ہو کر ایک ملزم نے بہاولپور میں فلمی سین کے مطابق اغوا کے جرم کا ارتکاب کیا۔مختلف معاشروں میں جرم کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔تاہم انتہائی عام فہم الفاظ میں اگرجرم کی تعریف کرنے کی کوشش کی جائے تو یہی کہنا کافی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ کسی شخص کا وہ فعل ہےجس کی ملکی قوانین نے کوئی نہ کوئی سزا مقرر کی ہوتی ہے۔جرائم کے خلاف حکومتوں کی جنگ کوئی نئی بات نہیں۔ معاشروں کو جرم سے پاک کرنے کے لئے پوری دنیا کی حکومتیں پورے جتن کرتی ہیں۔جس کے لئے قانون بنائے جاتے ہیں۔ تاہم جرم کرنے والے پھر بھی بے خوف ہو کر جرم کا ارتکاب کرنے سے گریز نہیں کرتے۔اس لئے ہمیں سوچنا ہو گا،غور کرنا ہو گا ہمیں معاشرتی طور پر ملک میں کونسی ایسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے کہ جرم میں کمی واقع ہو سکے۔لوگ کسی بھی نوعیت کا جرم کرنے سے پہلے سوچیں اور ڈریں۔ہم واقعی اگر اپنے معاشرے کو خوشیوں کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں تو صرف قانون بنانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں معاشرے کے تیور بھی بدلنے ہوں گے، پھر ہی ہم ایک پرسکون جرم سے پاک معاشرے کی تعبیر دیکھ سکتے ہیں۔