Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

قائداعظمؒ کی 11اگست کی تقریر

بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ نے 11اگست 1947ء کو پاکستان کی پہلی آئین ساز اسمبلی سے تاریخی خطاب کیا۔ یہ خطاب کئی حوالوں سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے خاص طور پر پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے اس تقریر کی بہت اہمیت ہے۔ بعض حلقے قائداعظمؒ کی اس تقریر میں سیکولرازم کی بنیادیں ڈھونڈتے ہیں جوکہ سراسر غلط ہے۔ قائداعظمؒ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے خواہاں رہے چنانچہ انہوں نے کبھی لفظ سیکولر ازم کا استعمال کیا اور نہ ہی سیکولر ازم کی ترغیب دی۔ قائداعظمؒ کی تقریر کے وہ جملے جنہیں غلط فہمی پھیلانے کے لئے سیکولر لابی نے ہمیشہ استعمال کیا‘ درج ذیل ہیں:
’’ آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں کہ آپ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ آپ اپنی مساجد میں جائیں اور جہاں آپ اپنی عبادت کے لئے جانا چاہیں اس ریاست پاکستان میں آپ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ آپ کسی بھی مذہب، ذات یا مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اس کا ریاست پاکستان کے امور سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ آپ دیکھیںگئے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہندو ہندو نہ رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہ رہیں گے، ایسا مذہبی اعتبار سے نہیں ہوگا کیونکہ یہ ہر فرد کا ذاتی عقیدہ ہے، میری مراد ریاست کے شہری ہونے کے ناطے سیاسی اعتبار سے ہے۔‘‘
قائداعظمؒ کی جانب سے یہ ایک روشن خیال معاشرے کے قیام کی نوید تھی مگر لفظوں کی غلط تشریح نے معاملہ الجھا دیا۔ قائداعظمؒ کی اس تقریر کو غلط معنی اس وقت بھی لوگوں نے پہنائے، یہ غلط تشریح کرنے والے قائداعظمؒ کے ساتھی نہ تھے اور نہ ہی تحریک پاکستان میں اپنی جانوں اور مالوں کا نذرانہ دینے والے بدگمانی پھیلانے والے تھے یاوہ گوئی کرنے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی۔ جی ایم سید جیسے لوگ جنہوں نے پاکستان کی مخالفت کی تھی اور سندھ اسمبلی میں پاکستان کے خلاف ووٹ دیا تھا، ان جیسوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ اپنے بنیادی اصولوں سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور یہ کہ مسلم لیگ دو قومی نظریہ کو ترک کر رہی ہے۔ ان الزامات کی کوئی حقیقت نہ تھی تاہم مسلم لیگ کے ترجمان ایک اخبار نے 26اگست 1947ء کے اپنے ایڈیٹوریل میں اس ضمن میں وضاحت کی اور قائداعظمؒ کے الفاظ کو غلط معنی پہنانے اور انہیں سیکولر ازم سے تعبیر کرنے کو گمراہ کن قرار دیا۔ اخبار کی وضاحت کے مطابق قائداعظمؒ کے الفاظ’’ ہندو ہندو نہ رہیں گے اور مسلمان مسلمان نہ رہیں گے‘‘ سے قائداعظمؒ کی مراد یہ تھی کہ کسی غیر مسلم کو مذہب کی بنیاد پر پاکستان کے انتظامی امور میں حصہ لینے سے منع نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ کوئی غیر مسلم امتیازی قوانین کا سامنا نہیں کرے گا۔
پاکستان کے پہلے سیکرٹری جنرل چوہدری محمد علی جو بعدازاں وزیراعظم کے منصب پر بھی فائز ہوئے نے اپنی کتاب ’’ ظہور پاکستان‘‘(The Emergence of Pakistan) میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ قائداعظمؒ کے الفاظ تقسیم ہند کے اس معاہدے کے عین مطابق تھے جو اقلیتوں کے حوالے سے مسلم لیگ، کانگرس اور حکومت برطانیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں طے تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق ملیں گے اور انہیں قانون کا مساوی تحفظ حاصل ہوگا۔ چنانچہ قائداعظمؒ نے اس تناظر میں کہا کہ ’’ہم سب ایک ریاست کے برابر کے شہری ہیں۔‘‘
25 اکتوبر 1947ء کو رائٹرز سے اپنے انٹرویو کے دوران قائداعظمؒ نے خود 3جون 1947ء کے معاہدے کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ اور کانگرس کے مابین یہ طے پایا تھا کہ دونوں ریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ بہترین معاملہ ہوگا اور ان کے مذہبی، ثقافتی، معاشی، سیاسی، انتظامیہ اور دیگر حقوق کو تحفظ دیا جائے گا۔ قائداعظمؒ نے 14اگست یعنی 11اگست سے تین دن بعد قیام پاکستان کے موقع پر جو تقریر کی اس میں بھی اقلیتوں کے بارے میں خصوصی گفتگو کی اور مسلمانوں پر زور دیا کہ ’’اپنے الفاظ، عمل اور خیالات سے اقلیتوں کو احساس دلائیں کہ جب تک وہ ریاست پاکستان کے وفادار بن کر اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے انہیں پاکستان میں کوئی خوف اور خطرہ نہیں ہے۔‘‘
قائداعظمؒ کے ان ارشادات کے تناظر میں 11اگست 1947ء کو پاکستان میں اقلیتوں کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، ریاست کی سطح پر بھی اور عوام کی سطح پر بھی، خاص طور پر اقلیتیں اس دن مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتی ہیں اور بانی پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ قیام پاکستان کے مقاصد اور تحریک پاکستان کے قائدین کے بیانات کے باوجود سیکولر ازم کے داعی قائداعظمؒ کی اس تقریر سے سیکولر ازم یعنی لادینیت کا بیانیہ کیسے بنا لیتے ہیں؟ قائداعظمؒ نے تو قدم قدم پر اسلامی جمہوریت، اسلامک سوشل جسٹس اور اسلامی معاشی نظام کی بات کی، ان کا یہ قول تو مستقل دہرایا جاتا رہا کہ ہم دنیا کو دکھادیں گے کہ اسلام کے سنہرے اصول آج بھی اسی طرح قابل عمل ہیں جیسا کہ 14سو سال پہلے تھے۔
قیام پاکستان کے بعد وہ اس حوالے سے زیادہ پرعزم دکھائی دئیے۔ سبی دربار (فروری 1948ء) سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہماری نجات پیارے نبیﷺ کے دئیے گئے اسلام کے سنہری اصولوں کی پیروی میں ہے۔‘‘ اس سے اگلی بات آپ نے یہ کہی ’’آئیے اپنی جمہوریت کو اسلام کے تصورات کے مطابق تعمیر کریں۔‘‘ قائداعظمؒ کے نظریات بڑے واضح تھے۔ اگر خدانخواستہ ان میں ابہام ہوتا تو آپ سٹیٹ بنک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر گول مول بات کرتے لیکن آپ نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ’’مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لئے ناقابل حل معاشی مسائل پیدا کر دئیے ہیں اور کوئی معجزہ ہی اسے اب تباہی سے بچا سکتا ہے۔ مغربی معاشی تھیوری کو اختیار کرنا ہمیں ہمارے مقصد کے حصول میں مدد نہیں کرے گا، ہمیں اپنی منزل کو پانے کے لئے اپنا راستہ خود تلاش کرنا ہوگا اور دنیا کو ایک ایسا معاشی نظام پیش کرنا ہوگا جوکہ صحیح معنوں میں اسلام کے اصولوں مساوات اور سماجی انصاف کی بنیاد پر کھڑا ہو۔‘‘ قائداعظمؒ کے یہ الفاظ سیکولر ازم بیانیہ کی موت کے مترادف ہیں۔ سیکولر ازم مذہب کی مداخلت ریاستی امور میں نہیں مانتا اور یہاں ریاست کا بانی کہہ رہا ہے کہ پاکستان کا معاشی نظام ہمیں ایسا بنانا پڑے گا جو اسلام کے سنہری اصولوں پر مبنی ہو۔ آج پاکستان میں جو لوگ مذہب کو افراد کا ذاتی معاملہ قرار دیتے ہیں اور ریاست کے امور میں مذہب کی رہنمائی کو ماننے سے صریحاً انکار کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ قائداعظمؒ کے افکار اور نظریات کا دوبارہ مطالعہ کریں اور مملکت خدا داد پاکستان میں فکری انتشار پھیلانے سے باز رہیں۔

یہ بھی پڑھیں