Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

بحریہ ٹائون، ملک ریاض اور بدعنوانی کی رت ‘ترقی یا تضاد؟

پاکستان کی تعمیراتی صنعت میں بحریہ ٹائون ایک ایسا نام ہے جو جدید رہائشی منصوبوں، پرتعیش طرزِ زندگی، اور اربوں روپے کے کاروباری سودوں کی علامت بن چکا ہے۔ اس کے بانی، ملک ریاض حسین، نے اپنی ذہانت، جرت اور تعلقات کے سہارے ایک ایسی ایمپائر کھڑی کی جو ایک عام ٹھیکیدار سے نکل کر بین الاقوامی سطح تک پہچانی جاتی ہے۔ تاہم، اس ترقی کی چمک دمک کے پیچھے ایک ایسی گہری شرمناک لوٹ مار کی کہانیاں بھی ہیں جو بدعنوانی، قبضہ مافیا، سرکاری افسران سے سازباز، اور عدالتی تنازعات کی شکل میں وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہیں۔
بحریہ ٹائون عروج و ترقی کا مہنگا خواب تھا جس نے پاکستان میں پہلی مرتبہ گِیٹڈ کمیونٹیز، ماڈرن انفراسٹرکچر، اور یورپی طرز کے سہولتی منصوبے متعارف کروائے۔ اس نے متوسط اور اعلیٰ طبقے کو ایک نئی طرزِ زندگی کا خواب دکھایا۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دیگر شہروں میں بحریہ کے منصوبوں نے کئی افراد کو روزگار دیا، تعمیراتی صنعت کو سہارا دیا، اور رہائش کے نئے رجحانات متعارف کرائے۔ ملک ریاض خود کو ایک سیلف میڈ بزنس مین کے طور پر پیش کرتے رہے ، جنہوں نے اپنی محنت اور کاروباری فہم سے کایا پلٹ دی۔ لیکن ان کی شہرت پر کئی کالے دھبے بھی لگے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سیاستدانوں، ججز، اور بیوروکریٹس کو بھاری رقوم، جائیدادیں یا مراعات دے کر اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ ان کے خلاف نیب، سپریم کورٹ، اور میڈیا میں بارہا تحقیقات اور انکشافات ہوتے رہے۔ عدالتی مقدمات اور زمینوں کے تنازعات کا تسلسل رہا۔
2019ء میں بحریہ ٹائون کراچی کے لیے زمین کے غیرقانونی الاٹمنٹ پر سپریم کورٹ نے سخت موقف اپنایا۔ ملک ریاض کو 460 ارب روپے کی ادائیگی کے عوض یہ معاملہ ختم کرنے کی اجازت ملی، جو پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک بڑا معاہدہ تھا۔ مگر یہ سوال باقی رہا کہ کیا صرف جرمانہ ادا کر کے بدعنوانی دھل جاتی ہے؟سندھ پنجاب ، خیبرپختونخواہ میں بحریہ ٹائون پر زرعی یا وقف زمینوں پر قبضے، جعلی انتقالات، اور مقامی افراد کو بیدخل کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ کئی مقامی باشندے اپنی زمینوں سے محروم ہوئے اور مزاحمت پر انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا گیا۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) نے 2019 ء میں ملک ریاض سے وابستہ 190 ملین پائونڈ (تقریباً 39 ارب روپے) ضبط کیے، جو مبینہ طور پر بدعنوانی کی رقم تھی۔ یہ رقم پاکستان کو واپس کی گئی، مگر اس کی تفصیلات عوام سے مخفی رہیں۔ اصل سوال یہ اٹھا کہ یہ دولت آئی کہاں سے اور استعمال کہاں ہوئی؟ملک ریاض نے میڈیا ہائوسز میں بھاری سرمایہ کاری، اشتہارات، اور چپ کا سودا کر کے اپنا امیج بہتر بنانے کی کوشش کی۔ کئی اینکرز، صحافی، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو یا تو خریدا گیا یا دھن اور دولت کے ذریعے خاموش کروایا گیا۔ یہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ؟
بحریہ ٹائون نے ملک کے بڑے شہروں کے اندر ایک الگ الگ دنیائیں بسا دیں۔ جہاں امیر محفوظ اور صاف ستھری فضا میں جیتے ہیں، جبکہ ان کے باہر عوام بنیادی سہولتوں کو ترستے ہیں۔ یہ ماڈل شہری تفریق کو مزید گہرا کرتا ہے۔ جدید گیٹڈ کمیونٹیز جہاں طبقاتی خلیج کو چھپاتی ہیں، وہیں معاشرتی ناانصافی کو بھی ہوا دیتی ہیں۔یہاں تک پہنچتے پہنچتے بحریہ ٹائون ایک ایسا تضاد بن چکا ہے، جس میں ترقی اور بدعنوانی، آسائش اور استحصال، خواب اور دھوکہ ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ ملک ریاض جیسے لوگ پاکستان کے طاقت کے نظام کو بے نقاب کرتے ہیں، جہاں اثر و رسوخ، رشوت اور سیاسی اثر رسوخ ہر اصول کو پامال کر سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ بحریہ ٹائون نے کیا کچھ تعمیر کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس کی قیمت کس نے چکائی؟ ملک ریاض کی تازہ ترین قانونی اور عملی صورتحال، جیسا کہ مستند ذرائع سے رپورٹ ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ملک ریاض کو عدالت نے ’’غائب‘‘ (proclaimed offender) قرار دے رکھا ہے، اور ان کی غیر حاضری میں مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ نیب نے ان کے خلاف مختلف حوالوں سے مالی جرائم اور زمینوں کی غیرقانونی حصولیابی کے الزامات عائد کیے ہیں ۔
اس سال 24 جنوری 2025 ء کو دفاعی وزیر خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات (UAE) سے ملک ریاض کی حوالگی کے عمل میں ہے، کیونکہ ایکسرٹڈیشن ٹریٹی کے تحت انہیں واپس پاکستان لایا جائے گا ۔ بحریہ ٹائون کی صورتِ حال نیشنل اکائونٹی بیلیٹی بیورو (NAB) نے ملک ریاض اور ان کے خاندان کے خلاف رقوم کی غیر قانونی منتقلی (تقریباً 22.5 ارب روپے) کے الزامات کے تحت منی لانڈرنگ کی شکایت دائر کی ہے، جس میں کمپنی کے متعدد اعلی عہدیداران شامل ہیں ۔
تقریباً 450 +زمینیں اور املاک ضبط کی جا چکی ہیں، بینک اکائونٹس اور گاڑیوں سمیت دیگر اثاثے سیل کیے جا چکے ہیں، اور متعدد دیگر کارروائیاں جاری ہیں ۔ملک ریاض نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ بحریہ ٹائون کی تمام آپریشنل سرگرمیاں ملک بھر میں بند ہونے کے قریب ہیں، اور انہوں نے ایک ’’عزت دار حل‘‘کے لیے مذاکرات اور ثالثی کی اپیل کی ہے ۔
مبینہ طور پر ملک ریاض نے ایک سیاسی تصفیہ طے کیا ہے جس کے تحت انہیں جولائی 2025 ء کے وسط میں پاکستان واپس بلایا جانا تھا۔ اس تصفیے میں سینئر سیاسی و فوجی شخصیات کا کردار سامنے آیا ہے، لیکن اس کی سرکاری تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی ۔تاہم، عدالتی احکامات کے تحت انہیں جولائی 2025 ء میں کورٹ پیش ہونا تھا(مثلاً 15 جولائی)، اور غیر حاضری کی صورت میں نان بیل ایبل وارنٹ جاری کیے گئے تھے ۔اب ملک ریاض کی قانونی حیثیت یہ ہے کہ عدالت نے انہیں absconder قرار دیا ہے، اور مختلف کیسز میں ان کی غیرحاضری میں کارروائی جاری ہے۔
نیب کی کارروائیاںمنی لانڈرنگ کی شکایت، 450 + اثاثے ضبط، اکائونٹس‘ منی‘ گاڑیاں سیل، بھاری جرمانے کا تعین.بحریہ ٹائون کے آپریشنزتقریباً معاشی طور پر مفلوج، کمپشن، تنخواہیں بند، بندش کے قریب.واپسی یا سیاسی تصفیہ کا منظرغیرسرکاری رپورٹ کے مطابق واپس آنے کا وعدہ مگر قانونی پابندیوں کا سامنا.۔
عدالتی پیشیاںجولائی 2025ء میں عدالت میں پیش نہ ہونے پر گرفتاری کے وارنٹ جاری۔ ابھی تک ملک ریاض کی واپسی میں کوئی رسمی پیش رفت یا عوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ان کا دعویٰ کہ وہ ’’ثالثی کے لیے تیار ہیں اور فیصلہ پورا کریں گے‘‘ یہ ایک مذاکراتی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے، مگر نیب اور عدالتیں ان کے خلاف سخت موقف پر قائم ہیں۔اگر واقعی انہیں پاکستان واپس لایا گیا توعدالتیں ان کے خلاف مقدمات کا سلسلہ جاری رکھیں گی، اور اگر رقم کی ادائیگی یا ثالثی طے ہوتی ہے تب بھی قانونی عمل مکمل ہوگا۔حکومتی اور عدالتی ردعمل اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا کسی قسم کی رعایت یا سمجھوتہ ہوگا یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں